ریاض: سعودی عرب نے نئے قانون کے تحت عوامی سہولیات کے لیے شریعت کے خلاف ناموں پر پابندی عائد کر دی ہے۔سعودی عرب نے مملکت بھر میں عوامی سہولیات کے نام رکھنے سے متعلق نئے لازمی ضوابط نافذ کر دیے ہیں.نئے ضوابط میں عوامی مقامات کی تعریف وسیع پیمانے پر کی گئی ہے .جس میں بلدیاتی، تعلیمی، ثقافتی، کھیلوں کے، مذہبی، صحت، نقل و حمل اور دیگر سرکاری اثاثے شامل ہیں۔یہ ضوابط سرکاری گزٹ ام القریٰ میں شائع کر دیے گئے ہیں۔ ”عوامی سہولیات کے نام رکھنے کے قواعد و معیارات“ کو سعودی کابینہ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے، جو اشاعت کے 120 دن بعد نافذ العمل ہوں گے اور ملک بھر کی تمام سرکاری ملکیت میں موجود سہولیات پر لاگو ہوں گے۔نئے ضوابط کے تحت عوامی سہولیات میں بلدیاتی، تعلیمی، ثقافتی، اسپورٹس، مذہبی، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر سرکاری اثاثے شامل ہوں گے۔ قواعد کے مطابق ہر سرکاری ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی سہولیات کے نام نئے فریم ورک اور متعلقہ قوانین کے مطابق رکھنے کا ذمہ دار ہوگا۔اس کے علاوہ ہر ادارے کو نام رکھنے کے عمل کے لیے اپنے انتظامی ضوابط (ایگزیکٹو بائی لاز) بھی جاری کرنا ہوں گے، جن میں تنظیمی، تکنیکی، طریقہ کار اور عملی تقاضے شامل ہوں گے، جبکہ نگرانی کے لیے گورننس میکانزم بھی واضح کیا جائے گا۔نئے ضوابط میں سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، شاہِ سعودی عرب، ولی عہد یا دوست و اتحادی ممالک کے رہنماؤں کے نام پر کسی بھی عوامی سہولت کا نام رکھنے کے لیے شاہی منظوری حاصل کرنا لازمی ہو گا۔ اسی طرح اسلامی شریعت سے متصادم کسی بھی نام پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔قواعد کے تحت اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے استعمال کو بھی محدود کیا گیا ہے، عوامی سہولیات کے لیے صرف سات ناموں کی اجازت ہوگی، جن میں السلام، العدل، الاوّل، النور، الحق، الشہید اور الملک شامل ہیں۔اگر کسی عوامی سہولت کا نام کسی شخصیت کے نام پر رکھا جائے تو متعلقہ حکام اس شخصیت کی ساکھ، فکری رجحان اور مجرمانہ یا سیکیورٹی ریکارڈ کی جانچ کریں گے جو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں مکمل کی جائے گی۔ نام کا انتخاب اس شخصیت کے مقام اور حیثیت کے مطابق ہونا بھی ضروری ہوگا۔وزارتِ بلدیات و ہاؤسنگ متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد عوامی سہولیات کے نام رکھنے کے لیے سرکاری زمروں (کیٹیگریز) کا اجراء کرے گی، جن کی پابندی تمام اداروں پر لازم ہوگی۔ کسی بھی سہولت کے نام کی حتمی منظوری متعلقہ ادارے کے سربراہ کے پاس ہوگی، جو ضرورت پڑنے پر یہ اختیار تفویض بھی کر سکتا ہے۔نئے ضوابط میں عوامی سہولیات کے لیے عددی نام (نمبرز) رکھنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، جو نام کے ساتھ یا الگ سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ہم آہنگی اور یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر سرکاری ادارے کو اپنی حدود میں موجود عوامی سہولیات کے ناموں کا جامع ڈیٹا بیس قائم کرنا ہوگا، جسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور سالانہ بنیادوں پر جنرل اتھارٹی فار سروے اینڈ جیو اسپیشل انفارمیشن کو فراہم کیا جائے گا۔سڑکوں اور چوراہوں کے نام رکھنے سے متعلق سابقہ کابینہ فیصلوں اور ان سے متصادم تمام دیگر ضوابط کو منسوخ کر دیا گیا ہے، یہ اقدام انتظامی نظام کو جدید بنانے، عوامی ناموں میں یکسانیت پیدا کرنے اور مذہبی اصولوں، گورننس تقاضوں اور قومی شناخت سے ہم آہنگی یقینی بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
