اقبال سبحانی سے گفتگو‘ ایک نشست‘ ترقی کا راز ہی کھل گیا
میاں منیر احمد
کامیاب بچوں کی پرورش کا راز گھر میں اپنائی جانے والی چھوٹی مگر مستقل عادات میں پوشیدہ ہے‘ والدین اگر بچپن سے بچوں میں ذمہ داری ڈالیں، کوشش کی حوصلہ افزائی کریں، ناکامی سے سیکھنے دیں، کھلی بات چیت کو اہمیت دیں، اور خود مثبت کردار پیش کریں تو یہی عادتیں بچوں کی پوری زندگی کی کامیابی کی بنیاد بن جاتی ہیں‘ اقبال سبحانی سے گفتگو ہوئی تو ان میں ایک حساس انسان دریافت ہوا‘ یہ حساسیت انہیں گھر کے ماحول سے ملی‘ ان سے گھنٹوں گفتگو کرلیں‘ موضوع جس قدر بھی پچیدہ اور طویل کیوں نہ ہو‘ ان کی گفتگو میں ایک توازن نظر آتا ہے یہ توازن درد کے باعث اور یہ درد ملک کے لیے ہے‘ اس قوم کے لیے‘ شہر کی ہر ہر گلی محلے کے لیے ہے وہ چاہتے ہیں کیا ہیں؟ وہ ایک شہری کے طور اپنی سماجی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں‘ قانون کے طالب علم رہے ہیں لہذا قانون اور اس روح اور اس کی زبان سے بھی واقف ہیں‘ اسی لیے بہت ذیادہ حساس بھی ہیں‘ انہیں کوئی سونے چاندی کے لالچ میں تولنا چاہے تو ہرگز ہر گز کامیاب نہیں ہوسکے گا‘ انہیں خریدنا ہے تو ان سے ایک ذمہ دار شہری بن کر بات کی جائے تو وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے پر آمادہ نظر آئیں گے‘ وہ ملک میں‘ شہر میں اور گلی محلے میں انصاف کی قوت دیکھنے کے متمنی ہیں‘ بس یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بسنے والے ہر انسان کے لیے قانون ایک جیسا ہو‘ ماحول ایک جیسا ہو‘ آگے بڑھنے کے منصفانہ مواقع آزادانہ طور پرہما بن کر اس کے سر پر بیٹھیں‘ پھر ہی انسان اپنی صلاحیتیوں اور قابلیت کی تلوار اور نیزوں سے جہالت کا سینہ چیرے گا‘ لاقانونیت کا سر قلم کرے گا اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا وائرس ختم کرے گا‘ اگر اس کا راستہ کسی تعصب‘ پسنداور ناپسند کی بنیاد پر روکا جائے گا تو پھر یہی انسان ذہین ہونے کے باوجود ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوئی بہتر اور مثبت نتائج نہیں دے پائے گا اس کی صاف صاف وجہ یہ ہے کہ کامیابی کا مفہوم صرف نمبروں، ذہانت یا غیر معمولی صلاحیتوں تک محدود نہیں رہا‘ بلکہ اپنے ملک کے لیے‘ ریاست کے بنیادی نظریے کا دفاع کرتے ہوئے، تخلیقی سوچ، نظم و ضبط کے ساتھ ترقی کے لیے ہر محاذ پر ڈٹے رہنا بھی اتنا ہی اہم ہو چکا ہے۔ اقبال سبحانی کہتے ہیں کہ اگر ہم ملک میں ایک ذمہ دار قوم تیار کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی کوششوں کی ابتداء اپنے گھر سے اپنے بچوں سے کرنا ہوگی‘ ان سے ہونے والی گفتگو کی تشریح یہ ہے کہ کامیاب بچوں کو آگے بڑھانے والا نہ پیسہ ہے، نہ مہنگے اسکول، نہ جینیاتی خصوصیات بلکہ والدین کے وہ روزمرہ کے رویے ہیں جو وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں اپناتے ہیں‘ ان کے خیال میں پانچ عادتیں ہیں جو کامیاب بچوں کے والدین کو دوسروں سے۔مختلف اور ممتاز بناتی ہیں‘کامیاب بچے وہ ہوتے ہیں جو ابتدا سے ہی ذمہ داری سیکھتے ہیں‘ایسے والدین اپنے بچوں کو چھوٹے چھوٹے کام دیتے ہیں‘کھلونے سمیٹنا، اسکول بیگ تیار کرنا، پودوں کو پانی دینا۔یہ کام بچوں میں اونرشپ اور ذمہ داری پیدا کرتے ہیں‘ یہ مہارت آگے چل کر ملک کے کام آتی ہے‘ بچہ زندگی میں کسی بھی شعبے میں جائے وہاں وہ ایک ذمہ دار شخص بن کر رہے گا ایسا بچہ مشکلات سے بھاگے گا نہ غلطیوں کا الزام دوسروں پر ڈالے گا‘ ان کا دل اس بات پر یکسو ہے کہ اگر ہم اپنا معاشرہ سنوارنا چاہتے ہیں تو پھر اپنے بچوں کو سنوارنا ہوگا‘ آج کا بچہ ہی کل کا فوجی افسر بنے گا‘ بیوروکریٹ بنے گا‘ عالم دین بنے گا‘ سفارت کار بنے گا‘ سیاست دان بنے گا‘ وکیل اور جج بنے گا‘ ڈاکٹر اور انجینئر بنے گا‘ تاجر بنے گا‘ غرض معاشرہ اور اس کے سارے شعبے اس کے سامنے ہیں‘ یہ کسی بھی شعبے میں جاسکتا ہے مگر اسے ایک ذمہ دار‘ قانون پسند شہری بھی بننا ہے اور مستقبل میں ایک ذمہ دار والد بھی بننا ہے یہ کام گھر سے ہوگا‘ اس کام کی ابتداء گھر کی دہلیز کے اندر سے ہوگی اور اس کے مثبت ا ثرات گھر کی دہلیز سے باہر پڑیں گے‘ وہ اس بات سے بھی افاق کرتے ہیں کہ کامیاب والدین اپنے بچوں کو ناکامی سے گزرنے دیتے ہیں کیونکہ یہی لچک پیدا کرتی ہے‘وہ جانتے ہیں کہ ناکامی بچے کو مسئلے حل کرنے کی عادت دیتی ہے، اسے ذہنی طور پر مضبوط بناتی ہے۔وہ بچوں کو ناکام ہونے دیتے ہیں، مگر ساتھ کھڑے رہ کر رہنمائی کرتے ہیں‘ باالکل یہی ذمہ داری ایک شہری کی ہے کہ وہ مسائل بھی بیان کرتا ہے اور حل بھی بتاتا ہے‘کامیاب بچوں کے والدین مصروفیات کے باوجود بچوں سے معنی خیز گفتگو کے لیے وقت نکالتے ہیں۔ بچوں کے سوالات کو اہمیت دیتے ہیں‘ ان کے جذبات کو تسلیم کرتے ہیں‘یہ جذباتی تحفظ بچوں میں اعتماد اور مضبوط شخصیت پیدا کرتا ہے۔ایسے بچے زندگی کے مشکل لمحات سنبھالنے، اپنے جذبات سمجھنے، اور دوسروں سے اچھا تعلق قائم کرنے میں بہتر ہوتے ہیں۔یہی صفات آگے چل کر اُنہیں لیڈر شپ، ٹیم ورک اور مضبوط رشتوں میں مدد دیتی ہیں۔وہ نظم و ضبط، جستجو اور مہربانی کا نمونہ خود بنتے ہیں کامیاب بچوں کے والدین وہی عادات خود اپناتے ہیں جو وہ بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، جیسے‘ مطالعہ کرنا‘ وقت کا انتظام‘ دوسروں کا احترام‘ نئی چیزیں سیکھنا‘ منظم رہنا‘ مہربانی دکھانا‘جب بچے یہ سب گھر میں دیکھتے ہیں تو رفتہ رفتہ یہی عادتیں اُن کی اپنی فطرت کا حصہ بن جاتی ہیں‘ گھر ٹھیک ہوجائیں تو محلہ ٹھیک ہوجاتا ہے اور اگر محلے ٹھیک ہوجائیں تو شہر ٹھیک ہوجاتا ہے اور شہر ٹھیک ہوجائے تو ملک ٹھیک ہوجاتا ہے‘ ملک ٹھیک ہوجائیں تو ان کے پاسپورٹ کی بھی عزت ہوتی ہے‘ یہ کام جادو کی چھڑی سے نہیں‘ ہر شہری ڈسپلن میں آجائے تو ملک خود بخود درست ہوجائے گا‘ ملک بھی ترقی کرے گا اور دنیا بھی عزت کرے گی‘ بس سبق یہی ہے کہ مار نہیں‘ پیار سے کام لیں‘ ڈنڈا نہیں‘ ڈنڈا ایک بند گلی میں لے جانے والا آلہ ہے اس سے ترقی کا در نہیں ایک بند گلی کا باب کھلتا‘جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا۔