انگریز کے ذہنی غلام حکمرانوں نے ملک میں قرآن و سنت کی حکمرانی قائم نہیں ہونے دی۔امیر العظیم

اسلام آباد
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے کہا ہے کہ جب تک ہماری سیاست ،عدالت ،معیشت اور حکومت میں اسلام داخل نہیں ہوگا تبدیلی نہیں آسکتی ۔ جماعت اسلامی اقتدار کے بند دروازوں کو اسلام کے لئے کھولنا چاہتی ہے ۔ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ آئینی تقاضا ہے جسے آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ پاکستان کو مدینہ کی ریاست اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے والے ہی بنا سکتے ہیں ۔ غلبہ دین کی جدوجہد ہمیں دنیاوی جاہ وجلال سے ہزار گنا بڑھ کر محبوب ہے ۔جرنیلوں کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آنے والے عوامی لیڈر نہیں ہوتے ۔ جماعت اسلامی تنظیم کے دائرے سے آگے بڑھ کر تحریک بن چکی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجتماع سے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور سیکرٹری جنرل زبیر صفدر نے بھی خطاب کیا ۔
امیر العظیم نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کے لئے دین پرعمل کرنا مشکل بنا دیا ہے ۔ نئی نسل کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں دینے کے ساتھ ساتھ ان کا ایمان بچانا بھی ضروری ہے ۔اس کا ایک ہی حل ہے کہ نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی میںلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد تبدیل ہوجائے تو اسلام ایک غالب قوت بن کر مسلمانوں کے قتل عام کو رکوا سکتا ہے ۔جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے اور عوامی حمایت اور تائید کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچے گی ۔ہمیں کسی کندھے یا بیساکھی کی ضرورت نہیں ۔بیساکھیوں کے سہارے اقتدار تک پہنچنے والوں کو اقتدار سے نکلتے وقت کوئی سہارا نہیں ملتا ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتی ہے جب تک ہماری عدالتوں ،سیاست اور معیشت میں اسلام نہیں آئے گا ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ ¿ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔
امیر العظیم نے کہا کہ جماعت اسلامی بانی سید ابوالاعلی مودودی نے ہندوستان میں مختلف تحریکوں کو قریب سے دیکھا اور ان کا گہرا تجزیہ کیا۔ جماعت اسلامی کا نظام تجزیے کے بعد تشکیل دیا گیا، جماعت کسی فرد کی ملکیت نہیں بلکہ اراکین اور دستور جماعت اسلامی اسے آگے بڑھا تے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نئی نسل کو اسلام کے سپاہی بنا کر دین اور نظریے کے محافظ بنانا چاہتی ہے، یہ کوئی نئی سوچ یا منصوبہ نہیں بلکہ شروع دن سے جماعت اسلامی کی ترجیح اول رہی ہے۔ امیرالعظیم نے کہا کہ ہم عوامی لہر کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور یہ لہر ممبر سازی ذریعے پیدا ہوگی ، ہمیں عوام کو اپنے قریب لانا ہو گا، بڑی بڑی عوامی اجتماعات منعقد کرنا پڑیں گے جس کے پورے ملک پر اثرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت الہیہ کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے وقت اور مال کی قربانی دیں تاکہ اپنے اس عظیم مقصد کو حاصل کرسکیں جس کے لئے یہ تحریک برپا کی گئی ہے ۔لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے قومی سطح پر ایک بڑی تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے۔