غلیل، کنکر اور مذاکرات

باعث افتخار انجنیئر افتخار چودھری

آج سہیل خان آفریدی اور میاں شہباز شریف کی ملاقات کی تصویر دیکھ کر دل میں خوشی اس لیے پیدا ہوئی کہ یہ تصویر کسی خفیہ معاہدے یا پسپائی کی نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت تھی کہ پاکستان کی سیاست میں ابھی مکالمہ زندہ ہے۔ مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تصویر بھی سکون سے نہیں دیکھی جاتی۔ فوراً اس ملاقات کو فارم 47 اور فارم 45 کی لڑائی بنا دیا گیا، جیسے سیاست نہیں بلکہ دائمی جنگ ہو۔
میں شروع دن سے یہی کہتا آیا ہوں کہ سیاست کا راستہ لڑائی نہیں، بات چیت ہے۔ دنیا میں کوئی بھی جنگ ہو، آخرکار اس کا حل مذاکرات کی میز پر ہی نکلتا ہے۔ مگر ہم نے سوشل میڈیا کو سیاست کا اصل میدان بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا آج ایک ایسی غلیل بن چکا ہے جس پر جو چاہو کنکر رکھ دو، پتھر رکھ دو، اور اندھا دھند چھوڑ دو۔ نشانہ کسی ایک فرد کا نہیں ہوتا، نقصان پوری تحریک، پورے معاشرے اور آخرکار ریاست کا ہوتا ہے۔
یہ بات اب بغیر کسی لگی لپٹی کے کہنی چاہیے کہ جو کوئی بھی ملک سے باہر بیٹھ کر پوری پاکستانی فوج کو اجتماعی طور پر نشانے پر رکھتا ہے، وہ ہمارا نہیں ہے۔ چاہے وہ کسی بھی نام سے جانا جاتا ہو، چاہے وہ خود کو میری ہی جماعت کا سب سے بڑا خیرخواہ کیوں نہ کہتا ہو۔ میں اپنی سوچ میں واضح ہوں۔ اگر کوئی میری پارٹی میں ہو کر بھی اس سوچ کے خلاف کھڑا ہے تو میں اسے اپنا نہیں مانتا۔
اگر جاوید ہاشمی آج عملی سیاست میں ہوتے تو وہ ہم سب سے سینئر ہوتے۔ اختلاف بھی کرتے، تنقید بھی کرتے، مگر اداروں کو اجتماعی طور پر جلانے کی سیاست کبھی نہیں کی۔ یہی فرق ہے سیاسی شعور اور سیاسی خودکشی میں۔
آج امریکہ، برطانیہ اور دیگر ملکوں میں بیٹھے ہوئے کچھ یوٹیوبر دن رات ریاست، فوج اور سیاست پر آگ برساتے ہیں۔ ملک سے باہر بیٹھ کر انقلاب لانا آسان ہوتا ہے۔ وہاں نہ مقدمہ، نہ جیل، نہ لاٹھی، نہ آنسو گیس۔ اصل سیاست وہ ہے جو ملک کے اندر رہ کر کی جائے، دباؤ برداشت کر کے کی جائے، قربانیاں دے کر کی جائے۔ یہ کام علی محمد خان، اعظم سواتی اور ان جیسے لوگوں کا ہے—اور بدقسمتی سے ہم انہی لوگوں کو سب سے زیادہ مشکل میں ڈالتے ہیں۔
میری ان سب بیرونِ ملک بیٹھے ہوئے “انقلابیوں” سے ایک سیدھی سی بات ہے:
آپ یوٹیوب سے جتنا پیسہ کماتے ہیں، کم از کم اس کا آدھا حصہ تحریک انصاف کے ان کارکنوں اور خاندانوں پر خرچ کریں جو واقعی مشکلات میں ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ فارن فنڈنگ ایک حساس مسئلہ ہے، قانون اپنی جگہ موجود ہے، مگر جو واقعی مدد کرنا چاہتے ہیں وہ راستہ نکال لیتے ہیں۔ آج ہمارے شہداء کے گھروں میں آٹا تک میسر نہیں، بچوں کے لیے دوائیں نہیں، تعلیم کا سامان نہیں—اور آپ کی زبان ڈالر اگلتی ہے، ویوز بڑھتے ہیں، مگر زمین پر کھڑا کارکن تنہا رہ جاتا ہے۔ یہ سیاست نہیں، یہ استحصال ہے۔
ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ فوج کے ساتھ اس تصادم میں ہم نے بہت بڑا نقصان اٹھایا ہے۔ میں شروع دن سے کہتا آیا ہوں کہ فوج ہماری ہے اور ہمیں فوج کی فکر کرنی چاہیے۔ اس لڑائی سے نہ تحریک مضبوط ہوئی، نہ جمہوریت، نہ عوام کو کوئی فائدہ پہنچا۔ نقصان ہوا تو صرف ملک کا ہوا، اداروں کا ہوا اور عام کارکن کا ہوا۔ اداروں کو اجتماعی طور پر گالی دینا نہ بہادری ہے، نہ انقلابی سوچ—یہ سیدھا سیدھا ملک کو کمزور کرنا ہے۔
اسی تناظر میں علی امین گنڈاپور کو دیکھنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان جیسے تجربہ کار سیاستدان کو شکست دینا آسان کام نہیں تھا۔ وزیرستان جیسے حساس علاقوں میں جا کر حالات کو سنبھالنا، مہمان نوازی کرنا، اعتماد بحال کرنا—یہ عملی سیاست ہے، سوشل میڈیا کی نہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہماری عادت بن چکی ہے کہ آج کسی کو ہیرو بناتے ہیں اور کل اسے غدار قرار دے دیتے ہیں۔
ہم لوگوں کو خود اوپر اچھالتے ہیں اور پھر اچانک سیڑھی نیچے سے کھینچ لیتے ہیں۔ یہ عارضی ہیرو سازی اور فوری کردار کشی نہ جماعت کے حق میں ہے، نہ ملک کے حق میں۔ سیاست صبر، تحمل اور مستقل مزاجی مانگتی ہے، چیخ و پکار نہیں۔
میری اپنے لوگوں سے یہی گزارش ہے کہ حوصلہ رکھیں۔ اتوار کریں، یعنی بات کو ٹھنڈے دل سے سوچیں۔ ہر ملاقات کو سازش اور ہر مکالمے کو کمزوری سمجھنا چھوڑ دیں۔ بات کر کے دیکھ لینے میں کوئی نقصان نہیں۔ شاید نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہ نکلے، مگر کم از کم تباہی تو نہیں ہوگی۔
اور آخر میں ایک بات جو کہنا اخلاقی، انسانی اور سیاسی طور پر لازم ہے۔
اگر ہم واقعی عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو ہمیں بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے بھی آواز اٹھانی چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ ان کا جرم کیا ہے؟ وہ کس قانون، کس اخلاق اور کس انصاف کے تحت قید میں ہیں؟ یہاں خاموشی ظلم کا ساتھ بن جاتی ہے۔
بشریٰ بی بی نے وفا نبھائی ہے۔ انہوں نے ساتھ دیا، مشکل وقت میں پیچھے نہیں ہٹیں۔ دیوی نے جو کردار ادا کیا، جس صبر، ضبط اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال تاریخِ اسلام میں کم ملتی ہے۔ ہم نے ہمیشہ وفا کے قصے کتابوں میں پڑھے ہیں، مگر جب وفا ہمارے سامنے کھڑی ہو تو ہم نظریں چرا لیتے ہیں—یہ رویہ نہ دینی ہے، نہ انسانی، نہ سیاسی۔
اگر انصاف مانگنا ہے تو پورا مانگنا ہوگا۔ اگر ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے تو ہر مظلوم کے لیے کھڑا ہونا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ عمران خان کے ساتھ بشریٰ بی بی کا نام لینا کوئی سیاسی نقصان نہیں، یہ اخلاقی فرض ہے۔
جو تحریک اپنے وفاداروں کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دے، وہ زیادہ دیر تک تاریخ میں سرخرو نہیں رہتی۔
اور جو قوم وفا کو فراموش کر دے، وہ انصاف کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتی۔