سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تازہ دستاویزات کے اجراء کے بعد دنیا بھر میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے ان ریکارڈز میں عالمی رہنماؤں، ہالی وڈ شخصیات، ٹیکنالوجی ارب پتیوں اور سرکاری عہدیداروں سمیت کئی بااثر افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق یہ دستاویزات ایپسٹین فائلز کی تازہ کھیپ کا حصہ ہیں، جو 30 لاکھ سے زائد صفحات، تصاویر اور ویڈیوز پر مشتمل ہے۔ دستاویزات میں مختلف ای میلز، ملاقاتوں اور روابط کی تفصیلات شامل ہیں، جن کے باعث کئی ممالک میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف نے غلطی سے تقریباً 40 ایسی تصاویر بھی جاری کر دیں جن میں متاثرہ نوجوان خواتین یا کم عمر لڑکیوں کے چہرے اور برہنہ جسم واضح تھے۔ تاہم عوامی ردعمل اور نیویارک ٹائمز کی نشاندہی کے بعد یہ تصاویر ہٹا دی گئیں۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی فائلوں میں متعدد مرتبہ آیا ہے، تاہم ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ دستاویزات انہیں کسی غلط کام سے بری کرتی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ ایپسٹین فائلز کی آخری کھیپ ہے، لیکن ڈیموکریٹک قانون سازوں نے سوال اٹھایا ہے کہ تحقیقات سے متعلق صرف نصف صفحات ہی کیوں جاری کیے گئے اور باقی کیوں روکے جا رہے ہیں۔اسکینڈل کی شدت برطانیہ تک بھی پہنچی جہاں شہزادہ اینڈریو سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔دستاویزات میں اینڈریو کی تصاویر اور ایپسٹین سے روابط کا ذکر شامل ہے، جبکہ اینڈریو پہلے ہی الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔مزید یہ کہ فائلوں میں کچھ سیاستدانوں اور عہدیداروں کے ایپسٹین سے رابطوں کے شواہد سامنے آنے کے بعد کئی افراد نے استعفے بھی دیے۔ ایک طرف کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، تاہم بعد میں ان میں سے بعض تصاویر کو AI سے تیار کردہ جعلی قرار دیا گیا۔فائلوں میں امریکی تحقیقاتی ادارے FBI کے میمو بھی شامل ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپسٹین سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک اور موساد کے قریب تھا۔ دستاویزات میں ایک حیران کن واقعہ بھی درج ہے کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک کاروباری خاتون نے غلافِ کعبہ کو ایپسٹین کے گھر بھجوانے کا انتظام کیا تھا۔
