کشمیر پاکستان کا نظریاتی بازو

پوری پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں کشمیر کی تحریک آزادی کے حامی لوگ آج 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منارہے ہیں، جوں جوں دنیا کے سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اسی لحاظ سے کشمیر کی تحریک آزادی بھی نئے امتحان اور نئی آزمائش سے دوچار ہورہی ہے، تحریک آزادی کشمیر، بھارت کے ظلم، قابض بھارتی فوج کے بدترین ستم، اور 5اگست2019ء کی تاریک گھاٹیوں سے ہوتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے تو اسے آج بورڈ آف پیس کا بھی سامنا ہے جسے اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھا جارہا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں میں پوری دنیا نے کشمیری عوام سے یہ وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ منصفانہ، آزادانہ رائے شماری کے مطابق ہوگا، اور کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے ووٹ سے خود اپنی مرضی سے کریں گے لیکن اس وعدے تک پہنچنے کے لیے کشمیری عوام آج تک لاکھوں انسانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں، خواتین کی عصمتیں پامال ہوئی ہیں، بچے بوڑھے اور نوجوان بھی شہید ہوئے ہیں، مالی نقصان اس قدر کہ باغا ت اجڑ چکے ہیں اور معیشت تباہ حال ہوئی، ڈھل جھیل میں چلنے والی کشتیاں پانی میں ہونے کے باوجود خشک ہوچکی ہیں، وادی میں گلی گلی شہداء کے قبرستان آباد ہو رہے ہیں مگر اقوام متحدہ کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوسکا، یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ اس کا بھی تک کسی کو علم نہیں ہے مگر کشمیری قوم آج بھی جدوجہد کر رہی ہے، اپنا گرم خون دے رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کشمیری قوم کا خون بہتا رہے گا، اس مسئلے کے حل کے لیے، مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی، اقوام متحدہ کے علاوہ دنیا کی پانچ بڑی ایٹمی قوتوں، روس، امریکا، چین، برطانیہ اور فرانس سمیت اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کو اپنی بند آنکھیں کھولنا ہوں گی، اور بھارت کا راستہ روکنا ہوگا، پاکستان کی عسکری قوت نے گزشتہ سال معرکۂ حق کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کو ایک سبق سکھایا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بھارت سبق سیکھا نہیں ہے، اس کی جانب سے دوبارہ حملہ کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، تاہم ہماری عسکری قیادت اور پوری قوم وطن عزیز کے دفاع کے لیے تیار ہے بھارت کو پہلے سے بھی زیادہ بدترین انجام تک پہنچایا جائے گا، معرکۂ حق میں ہم نے اس کے ساتھ کچھ رعایت کی کہ رحم کھا کر اس کے لاک کیے ہوئے درجنوں جہاز چھوڑے مگر اب اس کے تمام رافیل اور دیگر جنگی جہاز، حربی اور دفاعی نظام اور سامان تہس نہس کر دیا جائے گا، پاکستان کے عوام اور سیاسی عسکری لیڈر شپ، کشمیر کا مسئلہ پر امن طور پر، رائے شماری کے لیے حل کرنے کی حامی ہے، لیکن بھارت کی کسی بھول میں نہ رہے ہم گھی کو ٹیڑھی انگلیوں سے بھی نکالنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان کی قوت کا اندازہ اسے راجیو کے ماتھے پر آنے والے پسینے سے لگا لینا چاہیے، یہ پسینہ کسی حملے کے نتیجے میں نہیں آیاتھا بلکہ جنرل محمد ضیاء الحق شہید کے دو بول ہی تھے کہ ’اچھا تم نے حملہ کرنا ہے کرکے دیکھ لو، مگر یاد رکھو پھر دنیا کے نقشہ پر ہندوستان باقی نہیں رہے گا‘ یہ الفاظ سن کر راجیو کے ماتھے پر پسینے کا سیلاب آگیا تھا، اور یہ پسینہ آج تک بھارت کے ماتھے پر خشک نہیں ہوسکا، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں جن کی شدید مذمت کی جاتی ہے،اور بھارت کا رویہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے، بلوچستان میں اس کی مداخلت اور فتنہ ہندوستان کو شہ دینا، یہ سب ہمیں معلوم ہے ہم اس کے من گھڑت بیانیے کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے خلاف ٹھوس اور عملی اقدامات کریں گے بھارتی فوج کے کھوکھلے بیانات ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کرتے ہیں، پاکستان آرمی ملکی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے،کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا، عسکری قیادت قوم کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ اوراپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے مادرِ وطن کے امن و استحکام کے لیے شہدائے افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں کی لازوال قربانیوں کا ہم دفاع کرنے والے ہیں اس خطے میں درپیش خطرات سے اچھی طرح واقف ہیں اور اس کا مفصل جائزہ لیتے رہتے ہیں علاقائی اور داخلی سلامتی کے منظر نامے پر ہماری پوری نگاہیں لگی ہوئی ہیں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری کے پاس جو کچھ بھی ہو رہا ہے سب ہمارے علم میں ہے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھارت کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ کشمیر کے پُرعزم لوگوں کے ساتھ ہم مکمل اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انھیں خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھتے ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے ان کی جدوجہد میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے رہیں گے ااور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیتے رہیں گے، بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ عاقبت نا اندیش اور اشتعال انگیز بیانات کا بھی سخت نوٹس لیا جاتا ہے اور انھیں غیر ذمہ دارانہ اور علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں پاکستان آرمی ملکی خود مختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے، ہمیں علم ہے کہ بھارتی فوج کے یہ کھوکھلے بیانات ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کرتے ہیں، اس قسم کے بیانات،اپنے عوام اور عالمی برادری کی توجہ بھارت کی اندرونی خلفشار اور اس کی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں، کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔ اور تمام ضروری اقدامات اور حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا جو پاکستان اور اس کے عوام کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں کیونکہ عسکری قیادت قوم کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ ہے، عسکری قیادت پاکستان کی قابلِ فخر عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے،مئی 2025ء کے معرکۂ حق میں پاکستان کا موقف صرف دفاعی یا ردِعمل پر مبنی نہیں تھا بلکہ اسٹریٹجک لحاظ سے مؤثر تھا، لڑائی کے پہلے دن پاکستان نے غالباً پانچ بھارتی طیارے مار گرائے، پاکستان نے اچانک حملوں کے بعد دن کی روشنی میں ردِعمل دیا، پاکستان کے فوجی ردِعمل میں اہم نکتہ ہمارا نظریاتی دفاع سے متعلق ہے اور ملک کی سلامتی اور نظریاتی مفادات کا دفاع ہماری پہلی ترجیح ہے اور کشمیر بھی پاکستان کا نظریاتی بازو ہے اس کا دفاع ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔