سید جاوید الرحمن ترابی
مسئلہ کشمیر کوئی وقتی یا جذباتی نوعیت کا تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا بین الاقوامی مسئلہ ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے عالمی سیاست، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے نظام کے لیے ایک کڑا امتحان بنا ہوا ہے۔ دنیا نے اگرچہ مختلف ادوار میں اسے نظر انداز کرنے، فائلوں میں دبانے یا ‘‘اسٹیٹس کو’’ کے نام پر منجمد رکھنے کی کوشش کی، مگر کشمیری عوام نے اپنی قربانیوں، مزاحمت اور ثابت قدمی سے اس مسئلے کو زندہ رکھا۔
1947 سے لے کر آج تک ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں خاندان پاکستان اور آزاد کشمیر میں مہاجر بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ کشمیری خواتین منظم ریاستی تشدد، جبری گمشدگیوں اور اجتماعی زیادتیوں جیسے سنگین جرائم کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ یہ تنازع محض سرحد یا زمین کا نہیں بلکہ حقِ خودارادیت، انسانی وقار اور بین الاقوامی انصاف کا سوال ہے۔
تنازع کا آغاز اور عالمی وعدہ (1947–1948)
تقسیمِ برصغیر کا جو اصولی فارمولا طے پایا تھا، اس کے مطابق مسلم اکثریتی ریاستوں کو پاکستان سے الحاق کا حق حاصل تھا۔ ریاست جموں و کشمیر آبادی، جغرافیہ، معیشت اور مواصلاتی اعتبار سے پاکستان کے ساتھ فطری الحاق کی اہل تھی۔
1947ء کے اواخر اور 1948ء کے اوائل میں جب کشمیری عوام اور مقامی مزاحمت کار سری نگر کے مضافات تک پہنچ چکے تھے اور کشمیر عملی طور پر آزادی کے دہانے پر تھا، بھارت نے صورتحال کو اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اقوام متحدہ سے رجوع کیا۔
یہیں سے مسئلہ کشمیر کو باضابطہ طور پر بین الاقوامی تنازع تسلیم کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متعدد قراردادوں کے ذریعے واضح کیا کہ کشمیر کی حتمی حیثیت کا فیصلہ آزاد، شفاف اور غیرجانبدار رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کریں گے۔
قراردادیں 38، 39، 47 اور UNCIP کی قراردادیں (1948–49ء) آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہیں اور ان کی قانونی حیثیت برقرار ہے۔
وعدہ خلافی اور عالمی بے حسی (1949–1989ء)
اقوام متحدہ میں وعدہ کرنے کے بعد بھارت نے بتدریج:
• رائے شماری سے انکار کیا
• کشمیری قیادت کو سیاسی و عسکری جبر کے ذریعے کچلا
• اور مسئلہ کشمیر کو ‘‘اندرونی معاملہ’’ قرار دینے کی منظم کوشش کی
اسی دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان 1948ء، 1965ء، 1971ء اور 1999ء کی جنگیں ہوئیں، مگر ہر مرحلے پر کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔ عالمی طاقتوں نے اپنے اسٹریٹیجک اور معاشی مفادات کے تحت خاموشی اختیار کی، جس نے بھارت کو مزید جبر اور استبداد کا موقع فراہم کیا۔
عوامی مزاحمت اور ریاستی تشدد (1989 کے بعد
1989 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں عوامی تحریک نے نئی شدت اختیار کی۔ اس تحریک کا جواب بھارت نے طاقت، خوف اور اجتماعی سزا کی صورت میں دیا۔
فوجی محاصرے، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی قبریں، پیلٹ گنز کے ذریعے نابینا کرنا، طویل کرفیو اور جبری گمشدگیاں—یہ سب وہ حربے ہیں جو کسی بھی مہذب ریاست کے نہیں بلکہ قبضہ گیر طاقت کے رویّے کی علامت ہوتے ہیں۔
یومِ یکجہتی کشمیر: قومی عزم کی علامت
ہر سال پانچ فروری کو پوری پاکستانی قوم یومِ یکجہتی کشمیر مناتی ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی یا علامتی سرگرمی نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور انسانی وابستگی کا اظہار ہے۔
پاکستان بھر میں انسانی زنجیریں، ریلیاں، سیمینارز، دعائیہ تقریبات اور خصوصی تقاریب اس حقیقت کا اعلان ہوتی ہیں کہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون اور قومی ضمیر کا حصہ ہے۔
یومِ یکجہتی کشمیر عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ مسئلہ کشمیر نہ فراموش ہوا ہے اور نہ ہی ختم۔ بدلتے عالمی منظرنامے میں اس دن کی اہمیت دوچند ہو چکی ہے، کیونکہ یہی موقع ہے کہ پاکستان کشمیر کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دنیا کے سامنے مؤثر انداز سے پیش کرے۔
5 اگست 2019: آئینی جارحیت کی انتہا
5 اگست 2019 کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعات 370 اور 35-A ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو یکطرفہ طور پر بدلنے کی کوشش کی۔ یہ اقدام:
• اقوام متحدہ کی قراردادوں
• بین الاقوامی قانون
• اور خود بھارتی آئین
کی صریح خلاف ورزی تھا۔ اس کے بعد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل، زمینوں کی الاٹمنٹ اور آبادیاتی تبدیلی کے منصوبے تیز کر دیے گئے، جو ایک واضح نوآبادیاتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔
جنیوا کنونشن اور جنگی جرائم
مقبوضہ کشمیر ایک فوجی زیرِ قبضہ علاقہ ہے، اس لیے وہاں چوتھا جنیوا کنونشن (1949ء) مکمل طور پر لاگو ہوتا ہے۔
شہریوں کا تحفظ، اجتماعی سزاؤں کی ممانعت اور جبری آبادیاتی تبدیلی پر پابندی—ان دفعات کی مسلسل خلاف ورزی بھارت کے اقدامات کو جنگی جرائم کے زمرے میں لے آتی ہے۔
او آئی سی، عرب دنیا اور سفارتی امکانات
اسلامی تعاون تنظیم مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کی حمایت کرتی رہی ہے۔ غزہ کے بعد عرب دنیا میں انسانی حقوق کے بیانیے کی تقویت پاکستان کے لیے ایک نیا سفارتی موقع ہے کہ وہ کشمیر کو ایک انسانی مسئلہ بنا کر عالمی میڈیا اور سفارتی فورمز پر اجاگر کرے۔
بدلتا عالمی منظرنامہ اور پاکستان کی ذمہ داری
دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ ملٹی پولر عالمی نظام میں بھارت کی متعصب پالیسیاں اسے سفارتی دباؤ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے پاس ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ قانون، اخلاق اور سفارت کاری کو یکجا کر کے مسئلہ کشمیر کو دوبارہ عالمی ایجنڈے پر مؤثر انداز سے لے آئے۔
ایک زندہ اور فیصلہ کن مرحلہ
کشمیر آج بھی زندہ مسئلہ ہے۔
دنیا بدل چکی ہے، بیانیے بدل رہے ہیں، اور حق و باطل کی تمیز پہلے سے زیادہ واضح ہو رہی ہے۔ اگر پاکستان نے اس موقع سے درست، دانشمندانہ اور مسلسل سفارتی فائدہ اٹھایا تو وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت ملے گا—اور یومِ یکجہتی کشمیر محض یادگار نہیں بلکہ فتح کی علامت بن جائے گا۔
