سانحہ ترلائی کی شدید مذمت— جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان

اسلام آباد ()ملی یکجہتی کونسل نے سانحہ ترلائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے سانحہ ترلائی کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سانحہ ترلائی کے معاملے پر حکومت نے منفی کردار ادا کیا اس سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ۔سانحہ ترلائی کے شہداء کے یتیم بچوں کی کفالت کے لیے الخدمت فاونڈیشن تعاون کرئے گی۔
ان خیالات کا اظہار نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے ملی یکجہتی کونسل کے عہدیدار کے ہمراہ جماعت اسلامی اسلام آباد کے دفتر میلوڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کانفرنس میں ملی یکجہتی کونسل کے رہنماؤں امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا،ا مجلس وحدت المسلمین کے سید ناصر شیرازی ، جماعت اہل حرم کے
مفتی گلزار نعیمی، مرکزی سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے پاکستان پیر صفدر شاہ گیلانی،
مرکزی چیف آرگنائزرجمعیت علماء پاکستان پیر سعید احمد نقشبندی ،علامہ قاری ابرار حسین قادری مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جمعیت علماء پاکستان ودیگر نے شکرکت کی ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے سانخہ ترلائی کی مذمت کرتے ہیں، مجموعی طور پر ملک میں دہشتگردی اور حکومت رٹ پر چند باتیں کی جائیں گی ۔ملی یکجہتی کونسل تمام مکاتب فکر کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے یہ اتحاد امت کے لیے اپنا فرض ادا کررہاہے ۔ تمام شریک جماعتیں اس مشن کو آگے بڑھارہی ہیں ۔ کل ملی یکجہتی کونسل کا ایک تعزیتی اجلاس ہوا جس میں ترلائی امام بارگاہ خودکش حملے کی مذمت کی گئی ۔ سب کا اتفاق ہے کہ اسلام آباد کا یہ سانخہ انسانیت کا قتل ہے نمازیوں کا وحشیانہ قتل کیا گیا یہ پوری قوم کا مشترکہ سانحہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر نوعیت کی دہشتگردی قابل مذمت ہے اور یہ قابل قبول نہیں ہے ۔ ایک ًمخصوص طبقہ دہشت گردی کے واقعے کو مذہب سے جوڑتا ہے دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں دہشت گردوں کا مقصد بدامنی پیدا کرنا یے ۔ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور پاکستان کو غیر زمہ دار ملک قرار دینے کی کوشش ہورہی ہے ۔ تاکہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کیا جاسکے
۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ایک طبقے کو ٹارگٹ کرتے ہیں مگر ان کا اصل مقصد اسلام ہے ۔امریکہ اسرائیل اور بھارت کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اتحاد ہے اور مسلمانوں میں تقریق ان کا ہدف ہے ۔
عالم اسلام کے تنازعات کے مقابلے کے لیے امریکہ نیٹو اور یورپ ہماری مدد نہیں کریں گے اس کا واحد حل عالم اسلام کا اتحاد ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ترلائی سانحہ کے بعد یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ کوئی فرقہ واریت کا معاملہ ہے ۔ عوامی سطح پر سب اس کے خلاف کھڑے ہوگئے، زخمیوں کی مدد خون دینے کے لیے عوام بڑی تعداد میں باہر نکلی ۔اسلام آباد کے عوام نے دشمن کے عزائم خاک میں ملادیے ۔ جنازوں میں بڑی تعداد میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی ۔یہ اسلام آباد میں دوسرا سانحہ ہے ۔پہلا حملہ کچہری میں ہواتھا ۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام پوچھ رہے ہیں کہ وہ کیوں غیر محفوظ ہیں جرائم پیشہ لوگ اور دہشت گردی کا نیٹ ورک کیوں ریڈ زون میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ان واقعات کا ذمہ دار کون ہے ۔ اسلام آباد میں دہشتگردی ننگا ناچ رہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے اسلام آباد میں ہر جگہ سیکیورٹی ادارے موجود ہیں پھر یہ دہشتگردی کیوں ہورہی ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں ناکام ہیں ۔سانحہ ترلائی کے بعد خبروں کو کیوں روکا گیا شہداء کی تعداد کیوں چھپائی گئی زخمیوں کو ریسکیو کرنے میں کیوں تاخیر کی گئی؟ سانحہ ترلائی میں حکومت ناکام ہوئی ہے اور سیکیورٹی ادارے اس کے جواب دہ ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل تمام دینی جماعتوں کا نمائندہ ادارہ ہے اس کو کیوں بائی پاس کیا جارہاہے ۔ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لازم ہے کہ قومی ایکشن پلان پر من عن عمل کیا جائے ۔ اسرنو قومی ایکشن پلان بنایا جائے سب مل کر اپنا کردار ادا کریں ۔
انہوں نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کا فیصلہ کیا ہے یوم احتجاج منایا جائے گا ۔ملی یکجہتی کونسل کا وفد حکومت سے بھی ملے گا ۔ امن کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی سطح پر کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا ۔ فرقہ وارانہ شدت کا ماحول بنایا جارہاہے ۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ سانحہ ترلائی کے شہداء اور زخمیوں کے لیے مالی پیکج کا اعلان کیا جائے ۔ اور اس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے ۔
سانحہ ترلائی کے شہداء کے یتیم بچوں کی کفالت کے لیے الخدمت فاونڈیشن تعاون کرے گی۔ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیاست میں بازاری باتیں کی جارہی ہیں اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کررہے ہیں ۔ سانحہ ترلائی کے بعد وزارء کی طرف سے سیاسی بیان بازی افسوس ناک ہے