نائب امیر جماعتِ اسلامی اور سیاسی قومی اُمور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ سے بنگلہ دیش کے معروف تجزیہ نگار، ماہرِ تعلیم و معیشت شیخ محمد بختیار حسین نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور طویل مدت بعد رابطہ پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور پاکستان و بنگلہ دیش میں تعلقات کے نئے دور کو مستقبل کا سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں انڈیا کی مداخلت اور شیخ حسینہ واجد اور انڈیا کے درمیان طویل مدتی اسٹریٹیجک معاہدہ سے بنگلہ دیش انڈیا کی کالونی بنادیا گیا تھا۔ عوام میں انڈیا سے نفرت کا بڑا لاوا موجود تھا۔ طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک نے انڈین بالادستی اور غلام حکمران خاندان کو انجام سے دوچار کردیا۔ بنگلہ دیش کا نوجوان بیدار ہے، حالیہ انتخابات میں جماعتِ اسلامی، سٹیزن پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی 150 سے زائد نشستیں یقینی تھیں لیکن اِس جیت کو علاقائی، عالمی تناظر میں محدود کردیا گیا، یہ عظیم قربانیوں کا بہترین انعام ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی، سفارتی، اقتصادی، تعلیمی، کھیل اور نوجوانوں کی سطح پر تعلقات کو بااعتماد، پائیدار بنانا ناگزیر ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے سرکاری سیٹ اَپ میں بھارت نوازی سے بڑے خطرات موجود ہیں، اِس سے محفوظ رہنا دونوں ممالک کی قیادت کا امتحان ہے۔ لیاقت بلوچ نے طویل مدت کے بعد رابطہ پر شیخ بختیار حسین کا شکریہ ادا کیا اور بنگلہ دیش کے عوام کی عظیم جدوجہد کی تحسین کرتے ہوئے بی این پی اور جماعتِ اسلامی کی انتخابی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام بنگلہ دیش کے عوام سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں، بنگلہ دیش کی اندرونی سیاست کا اختیار بنگلہ عوام کا ہے، ڈھاکہ ہی بنگلہ دیش کی آزاد، خودمختار پالیسی کا مرکز ہونا چاہئے۔ پاکستان کے عوام بنگلہ دیشی وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں۔ لیاقت بلوچ نے شیخ محمد بختیار حسین کی جانب سے دورہ بنگلہ دیش کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ جلد بنگلہ دیش آؤں گا۔
لیاقت بلوچ نے منصورہ میں وفود سے گفتگو اور سیاسی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی بحران کے خاتمہ کے لئے قومی ترجیحات کے اہم ترین نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی اہم ترین پارٹی تحریکِ انصاف کی اندرونی کشمکش اپوزیشن کو کمزور اور اسٹیبلشمنٹ کو مزید طاقت ور بنارہی ہے۔ سیاسی استحکام ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لئے ناگزیر ہے۔ خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور بلوچستان کے بعد دہشت گردی پجاب کی طرف بھی پیش رفت کررہی ہے؛ حکومت، سکیورٹی فورسز اداروں میں بےاعتمادی کی خلیج دہشت گردوں کی سہولت کاری کا باعث بن رہی ہے۔ قومی اتفاقِ رائے سے ازسرِنو قومی ایکشن پلان ناگزیر ہے، فوجی افسران، جوانوں، پولیس اہل کاروں کی شہادتیں پوری قوم کے لئے باعثِ فخر ہیں۔ شہادتوں کے بدلے دشمن سے محفوظ رہنے کے لئے اندرونی محاذ مضبوط بنانا ہوگا۔
