اسرائیل کا وجود ناجائز اور عالمی امن کے لئے ناسور

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے چکلالہ سکیم میں ایکس سروس مین اور اپسال سوسائٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد میں ناکام رہے، ایرانی قوم فاتح ہے۔ یہ امر بالکل عیاں ہوگیا ہے کہ اسرائیل کا وجود ناجائز اور عالمی امن کے لئے ناسور بن چکا ہے، عالمی امن کے لئے ناجائز صیہونی ریاست کا خاتمہ ناگزیر اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ صیہونیت نے ٹرمپ کو یرغمال بناکر امریکہ کو رُسوا کیا اور عالمی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ اسرائیل یہ خام خیالی چھوڑ دے کہ دُنیا فلسطین کی آزادی پر خاموش ہوجائے گی۔ فلسطین فلسطینیوں کا ہے، غزہ کے مظلوموں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پاکستان کے عوام ایران، فلسطین اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ہیں۔ پاک-افغان کشیدگی کے خاتمہ کے لئے بھی اسلامی ممالک کے سفارتی محاذ کو فعال رہ کر انصاف پر مبنی حل تلاش کرنا ہوگا۔ افغان طالبان حکومت ہر طرح کے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کردے؛ خطہ میں امن، سیاسی اور معاشی استحکام کے لئے پاکستان، ایران اور افغانستان کے تعلقات کی پائیداری اور بااعتماد تعلقات ناگزیر ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کو عزت مِلے، وقار میں اضافہ ہو تو یہ پوری قوم کے لئے خوشی اور فخر کا باعث ہے لیکن سیاسی میدان میں جتنا بھی فساد اور انتشار ہے وہ سیاسی، جمہوری، آئینی و پارلیمانی بحران کی وجہ سے ہے۔ یہی سیاسی بحران اور عدم استحکام ہر کامیابی کو دھندلا دیتا ہے اور بعض عناصر اِسے متنازع بناتے ہیں۔ وفاقی، صوبائی حکومتیں، سِول-ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور قومی سیاسی قیادت قومی کردار کے ساتھ ملک کو سیاسی بحرانوں سے نکالیں۔
لیاقت بلوچ نے مشاورتی اجلاس میں الخدمت فاؤنڈیشن کی سماجی خدمات کی تحسین کی اور اپسال سوسائٹی کی جانب سے اسپتال کا انتظام الخدمت کے حوالے کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ معاشی بحرانوںِ عوام کی قوتِ خرید کے خاتمہ، پیداواری لاگت میں بےتحاشہ اضافہ کی وجہ سے غربت، بےروزگاری بڑھ گئی اور معاشی ترقیاتی سرگرمیوں کا پہیہ جام ہوگیا ہے۔ زراعت ملکی معیشت اور خودکفالت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وفاقی صوبائی حکومتیں کِسانوں پر گندم خریداری کے حوالے سے قائم بےیقینی کی فضاء ختم کریں اور مظلوم کِسان، ہاری کو مڈل مین کی بلیک میلنگ سے محفوظ رکھیں۔#