نائب امیر جماعت اسلامی، سیاسی قومی پارلیمانی اُمور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے منصورہ میں عوامی کمیٹیز کنونشن اور وسطی پنجاب کے اضلاع کے سیاسی، سماجی رہنماؤں کے وفود سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی طرز کی حواس باختگی کا شکار ہیں. توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے حکومتی اقدامات ناٹک، عوام کے لئے عذاب اور قومی معیشت کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں. حواس باختگی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹول ٹیکس میں ہوشربا اضافہ کردیا، عوامی احتجاج کے خوف سے قیمتیں کم کردیں، لیکن اب یہ امر عیاں ہوگیا کہ نااہل، ناکام طرزِ حکمرانی، ہائبرڈ نظام کے خلاف عظیم عوامی جدوجہد ہی علاج ہے. جماعتِ اسلامی عوام کے جذبات کی ترجمانی اور ملک گیر احتجاج کے لئے ہر اوّل دستہ بنے گی.
لیاقت بلوچ نے وفود کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت کے حوالے سےحکومت کی سفارت کاری کا خیرمقدم لیکن یہ امر نوِشتہ دیوار ہے کہ اب دُنیا امریکہ اور اُس کے حواریوں پر اعتبار نہیں کرتی. امریکہ ناکام ہوکر گِررہا ہے، پاکستان کے حکمران ہوش سے سنبھل کر چلیں. امریکی صدر اپنی ناکامیوں اور فرعونیت پر مبنی اقدامات کی ذلّت سے پاگل پن میں اعلیٰ ترین امریکی فوجی اور حکومتی عہدیداروں کو برطرف کررہے ہیں، مطلوب تو یہ ہے کہ امریکی کانگریس اور سینیٹ امریکہ کے لئے تباہ کُن اقدامات کرنے والے صدر ٹرمپ کا مواخذہ کریں.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو عوامی َسیاست، عوامی جدوجہد اور غریب مزدور، کسان کی ترجمانی کی طاقت ور آواز بنے، کرشماتی شخصیت سے قومی سیاست پر سحر اور دُور رَس اثرات مرتب کئے لیکن تمام تر آئینی، جمہوری، پارلیمانی اُسلوبِ سیاست کے باوجود اپنے بعض غیرآئینی اقدامات، غیرجمہوری طرزِ عمل اور اپوزیشن کو برداشت نہ کرنے کے اُسلوب نے اُن کے لئے سیاست میں انتہا درجہ کی تلخیاں اور عدم برداشت پیدا کی جس کا تمام تر فائدہ سِول-ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اُٹھایا اور کاری وار کرکے ملکی سیاست کو دربدر کردیا. موجودہ حالات میں بھی قومی سیاسی قیادت سبق سیکھے، سیاست کو بند گلی کا قیدی بنانے کی بجائے قومی ڈائیلاگ، قومی ترجیحات کے ذریعے سیاسی بحرانوں کا سیاسی بنیادوں پر حل تلاش کرلیا جائے. سیاسی بحران معاشی عدم استحکام، عالمی جنگی صورتِ حال اور آئی ایم ایف کی بدترین شرائط قومی سلامتی کے لئے حقیقی خطرات ہیں. بیرونی مداخلت، دہشت گردی کے خاتمہ اور اندرونی استحکام کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا.
