حکومت نے رات کی تاریکی میں عوام پر 137روپےفی لیٹرکا پیٹرول بم گرادیا ہ

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر ہوشربا اضافے کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے سبسڈی کا کہا مگر چند گھنٹے بعد ہی عوام پر معاشی حملہ کر دیا۔ ایک ماہ میں پٹرول 63 اور ڈیزل 75 فیصد مہنگا کرنا کیسا نظم وضبط ہے۔حکومت نے رات کی تاریکی میں عوام پر 137روپےفی لیٹرکا پیٹرول بم گرادیا ہے۔ اس موقع پر
سیکرٹری جنرل زبیر صفدر ، صدر الخدمت الطاف شیر ، محمد بن ساجد سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ عوام نے حکومت کو 11 کھرب ٹیکس دیا، کیا ایک فیصد بھی ہم پرخرچ نہیں ہوسکتا؟ وفاقی بجٹ کا ایمرجنسی فنڈ کس مقصد کے لیے رکھا گیا تھا؟وفاق اور صوبائی حکومتیں چاہتیں تو تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکا جا سکتا تھا۔ ترقیاتی فنڈز کو پٹرولیم سبسڈی میں ضم کیا جا سکتا تھا۔ صوبائی حکومتیں با آسانی 300 ارب کا پیکج وفاق کے سپرد کر سکتی تھیں۔پاکستانیوں کی فی کس آمدنی پٹرول کی موجودہ قیمتیں برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، اشیا کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس نہیں آئیں گی۔ موٹر سائیکل پر سبسڈی کا منصوبہ قابل عمل نہیں، عملدرآمد مشکل ہوگا۔

نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ غیر معمولی حالات میں حکومت کو غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان حالات میں حکومت ریونیو فیکٹر معطل کرے اور عوام کے ساتھ کھڑی ہو۔ پٹرولیم لیوی کو فوری ختم کر کے صفر کیا جائے۔ ڈیزل پر درآمدی ڈیوٹی اور کاربن لیوی ایک ماہ کے لیے صفر کی جائے۔جی ایس ٹی دو ماہ کے لیے 10 فیصد کیا جائے اور بجلی بلوں میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ 2 ماہ کے لیے ختم کی جائے۔

نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے اس ظالمانہ فیصلے کو یکسر مسترد کیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک بار پھر “پیٹرول بم” گرا کر غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حکمرانوں کی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کے جہاز اور لگژری گاڑیاں خریدنے کے لئے وسائل موجود ہیں، وزراء، ارکانِ اسمبلی اور اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اضافہ کیا جا سکتا ہے، مگر جب بات عام آدمی کو ریلیف دینے کی آتی ہے تو حکومت بے بسی کا اظہار کرتی ہے۔

نصراللہ رندھاوا نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر رونماء ہونے والے جنگی حالات میں حکومت نے حسب سابق عوام کو قربانی کا بکرا بنایا اور اپنی عیاشیوں اور مراعات میں کمی کے بجائے عوام پر رات کی تاریکی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 43 فیصد ظالمانہ اضافہ کرکے خطے کے تمام مالک کے مقابلے سب سے زیادہ اضافہ کردیا ہے۔مقررین نے کہا کہ حکومت نے آج ہی موٹرویز اور ہائیویز کے ٹول ٹیکس میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جو کہ پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر ایک اور ضرب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول مہنگا ہونے کے بعد ٹرانسپورٹ کے اخراجات پہلے ہی بڑھ چکے ہیں۔