ڈاکٹر صفدر علی عباسی، صدر PPPW؛ محترمہ ناہید خان، سیاسی معاون برائے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو؛ فیاض علی خان، سینئر نائب صدر؛ ایڈووکیٹ امجد بلوچ، نائب صدر؛ کنور زاہد، سیکرٹری جنرل؛ رائے قیصر، ڈپٹی سیکرٹری جنرل؛ وحید گولڑہ؛ ملک مظہر؛ نوید صادق؛ رانا عثمان، PPPW کی سینئر قیادت کے ہمراہ، ایران اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں اعلان کردہ دو ہفتہ جنگ بندی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ پیش رفت کشیدگی میں کمی کی جانب ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم اسے ایک حتمی حل کے بجائے ابتدائی اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور پائیدار امن و استحکام کے لیے مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
PPPW مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو تسلیم کرتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ان کوششوں کے ساتھ شفافیت اور وضاحت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی اعتماد مضبوط ہو اور بامعنی پیش رفت کو برقرار رکھا جا سکے۔ دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب سفارتکاری کے ساتھ انصاف اور مساوات کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
حالیہ جھڑپوں میں معصوم شہریوں، خصوصاً بچوں، کی جانوں کا ضیاع نہایت افسوسناک اور باعثِ تشویش ہے۔ ایسے واقعات اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور بین الاقوامی انسانی اصولوں کی پاسداری کی جائے۔ PPPW زور دیتی ہے کہ ان تمام واقعات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت احتساب کے تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔
یہ صورتحال وسیع تر علاقائی اثرات کی حامل ہے، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک، بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، میں بھی غیر یقینی اور تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی متقاضی ہے کہ بروقت، متوازن اور تعمیری بین الاقوامی کردار ادا کیا جائے تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
PPPW
اس امر پر بھی زور دیتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کے تمام عوامل، بشمول اسرائیل کا کردار، کسی بھی بامعنی مذاکراتی عمل میں سنجیدگی سے زیرِ غور لائے جائیں۔ پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ ایک جامع اور شمولیتی حکمتِ عملی اختیار کی جائے جو بنیادی اسباب کا احاطہ کرے، نہ کہ صرف فوری علامات تک محدود رہے۔
اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہیں، PPPW کا ماننا ہے کہ اہم عالمی شراکت داروں کی شمولیت پر مبنی ایک وسیع تر مشاورتی فریم ورک کسی بھی امن عمل کی ساکھ اور مؤثریت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ پاکستان اس ضمن میں ایک تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے، بالخصوص چین اور روس جیسے اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ شمولیتی مکالمے کی حوصلہ افزائی کے ذریعے، تاکہ نتائج متوازن اور وسیع پیمانے پر قابلِ قبول ہوں۔
PPPW حکومتِ پاکستان پر بھی زور دیتی ہے کہ وہ اس موقع کو واضح حکمتِ عملی اور اعتماد کے ساتھ بروئے کار لائے۔ سفارتی وعدوں کو تسلسل اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھایا جائے، جو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی امن و استحکام کے عزم کی عکاسی کرے۔
یہ خطے کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔ پاکستان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ایک ذمہ دار اور اصولی ریاست کے طور پر مثبت کردار ادا کرے اور کشیدگی میں کمی اور طویل المدتی امن کے فروغ کے لیے کوششوں کی حمایت کرے۔
PPPW اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرتی ہے کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب وہ انصاف، باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ساتھ جڑا ہو۔ ہم تمام ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، دوہرے معیارات سے گریز کریں، اور مشترکہ طور پر اس جنگ بندی کو ایک دیرپا، منصفانہ اور جامع امن میں تبدیل کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔
