باعث افتخار۔ انجینئر افتخار چودھری
پاکستان کی سیاسی تاریخ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل وارننگ ہے—ایک ایسی گونج جو ہر دور میں ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب بھی عوام کے فیصلے کو دبایا گیا، جب بھی جمہوریت کو کمزور کیا گیا، اس کے نتائج پورے ملک نے بھگتے۔ 1971 کا سانحہ اسی تلخ حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس وقت بھی مسئلہ کسی ایک فرد یا ایک جماعت کا نہیں تھا، بلکہ اصول کا تھا—جمہوریت کے احترام کا، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کا، اور سیاسی بصیرت کے ساتھ فیصلے کرنے کا۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ عوام کے فیصلے کو کھلے دل سے قبول کیا جائے۔ ووٹ صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، یہ عوام کا اعتماد، ان کی امید اور ان کا مستقبل ہوتا ہے۔ جب اس اعتماد کو توڑا جاتا ہے تو صرف سیاسی نظام نہیں بلکہ ریاست کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ 1971 میں یہی ہوا، اور اس کے اثرات آج بھی ہمارے قومی شعور میں موجود ہیں۔
آج ہم ایک بار پھر ایسے ہی دوراہے پر کھڑے ہیں۔ سوال وہی ہے: کیا ہم نے ماضی سے سیکھا ہے یا ہم دوبارہ وہی غلطیاں دہرانے جا رہے ہیں؟ اسی تناظر میں دو شخصیات کا تقابل ناگزیر ہو جاتا ہے: Sheikh Mujibur Rahman اور Imran Khan۔
یہ تقابل محض دو افراد کا نہیں بلکہ دو مختلف طرزِ فکر، دو مختلف راستوں اور دو مختلف انجاموں کا تقابل ہے۔ شیخ مجیب الرحمان ایک بڑے عوامی لیڈر تھے، اس میں کوئی شبہ نہیں۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کی نمائندگی کی، مگر تاریخ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی کشمکش ایک ایسے مقام پر جا پہنچی جہاں بیرونی قوتوں کو مداخلت کا موقع ملا۔ جب داخلی اختلافات کو سنبھالنے کے بجائے انہیں شدت اختیار کرنے دی جائے تو پھر نتائج صرف سیاسی نہیں رہتے بلکہ قومی سالمیت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
اس کے برعکس Imran Khan کا معاملہ مختلف ہے۔ میں یہ بات بطور پاکستان تحریک انصاف کا بانی رکن اور پنجاب کا نائب صدر پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ عمران خان نے اپنی سیاست میں شدید ترین دباؤ، مقدمات، قید و بند اور کردار کشی کا سامنا کیا، مگر ایک حد کبھی پار نہیں کی—اور وہ حد تھی ریاست کی خودمختاری اور قومی مفاد۔
آج وہ جیل میں ہیں۔ ایسے مقدمات میں قید ہیں جن پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سماعتیں تاخیر کا شکار ہیں، انصاف کا عمل سست ہے، اور بنیادی انسانی حقوق تک کے معاملات زیرِ بحث ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود نہ انہوں نے کسی بیرونی طاقت کو آواز دی، نہ کسی دشمن کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو دونوں راستوں کو الگ کرتا ہے۔
یہاں ایک ایسا پہلو بھی ہے جو ہر زندہ ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ عمران خان کی بہن Aleema Khan نے ایک نہایت سادہ مگر گہرا مطالبہ کیا—کہ اگر ان کے بھائی کی آنکھ کا مسئلہ ہے تو انہیں اجازت دی جائے کہ وہ اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کروا سکیں۔ یہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں، یہ ایک انسانی حق ہے۔ ایک قیدی کو علاج کی سہولت دینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
یہ مطالبہ دراصل ہم سب کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ، فیصلے کرنے والے، اور وہ سب جو خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے ہیں—کیا انہوں نے کبھی خود سے پوچھا کہ انصاف کیا ہے؟ کیا طاقت کا استعمال حدود کے اندر ہو رہا ہے؟ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں—چاہے سعودی عرب ہو، ایران ہو یا کوئی اور ملک—انسان کا ضمیر ایک نہ ایک دن ضرور سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے کسی کے ساتھ زیادتی تو نہیں کی؟
یہی وہ مقام ہے جہاں Sheikh Mujibur Rahman اور Imran Khan کا فرق اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک طرف وہ راستہ ہے جہاں سیاسی اختلافات قومی مفاد سے ٹکرا جاتے ہیں اور بیرونی قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ دوسری طرف وہ راستہ ہے جہاں تمام تر مشکلات کے باوجود قومی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔
آج پاکستان کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مہنگائی عام آدمی کو پس رہی ہے، معیشت دباؤ میں ہے، سرمایہ کار عدم استحکام کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، اور عوام کا اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت کو مضبوط کیا جائے، انصاف کو یقینی بنایا جائے، اور اداروں کو ان کی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے دیا جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اس کے نتائج کو تسلیم کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر ہم صرف اپنی مرضی کے نتائج کو قبول کریں اور باقی کو رد کر دیں تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ انتشار کا راستہ ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو ہمیں 1971 نے دیا تھا، اور یہی وہ سبق ہے جسے ہمیں آج بھی یاد رکھنا ہوگا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی تنقید میں توازن رکھیں۔ ریاستی اداروں کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ پاکستان کی افواج اور دیگر ادارے اس ملک کی بنیاد ہیں، ان پر گفتگو ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اسی طرح مذہبی شخصیات کے حوالے سے بھی ادب اور احتیاط ضروری ہے۔ اختلاف ہو، مگر حدود کے اندر ہو۔
لیکن میں صرف تجزیہ نہیں کر رہا، میں گواہی دے رہا ہوں۔ میں پاکستان تحریک انصاف کا بانی رکن اور پنجاب کا نائب صدر ہوں، مگر اس سے پہلے میں اس تاریخ کا عینی شاہد ہوں جسے ہم 1971 کہتے ہیں۔
میں اُس وقت صرف 16 سال کا تھا۔ 1970 کے انتخابات کے بعد جب فضا میں کشیدگی بڑھ رہی تھی، میں گوجرانوالہ کے علاقے باغبان پورہ کی گلیوں میں سیٹیاں بجاتا، پاکستان کے حق میں نعرے لگاتا، ایک جذبے کے ساتھ جیتا تھا۔ ہمیں یقین تھا کہ پاکستان ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔
پھر وہ دن آیا جب پاکستان ٹوٹ گیا۔ وہ صرف ایک ملک کا ٹوٹنا نہیں تھا، وہ ہم سب کے دلوں کا ٹوٹنا تھا۔ میں نے اُس دن کھانا نہیں کھایا۔ یہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں تھا، یہ ایک نوجوان کے دل کا درد تھا۔ میں گجر ہوں، اور میں نے اپنی اُس دن اپنی کالو بھینس کو بھی چارہ نہیں دیا—کیونکہ دل اتنا بوجھل تھا کہ کچھ کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رہا تھا۔
آج جب میں حالات کو دیکھتا ہوں تو وہی درد، وہی خوف دوبارہ دل میں جاگتا ہے۔ کیا ہم پھر اسی راستے پر تو نہیں چل رہے؟ کیا ہم نے کچھ سیکھا بھی ہے یا نہیں؟
شیخ مجیب اور عمران خان کا فرق صرف دو شخصیات کا فرق نہیں—یہ ایک وارننگ ہے، ایک سبق ہے۔ اگر ہم نے جمہوریت کے اصولوں کو نہ اپنایا، اگر ہم نے عوام کے فیصلے کا احترام نہ کیا، اگر ہم نے انصاف کو نظرانداز کیا—تو نقصان صرف کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں ہوگا، بلکہ پورے پاکستان کا ہوگا۔
فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یا تو ہم ماضی سے سیکھ کر ایک مضبوط، خودمختار اور جمہوری پاکستان کی بنیاد رکھیں، یا پھر تاریخ کو ایک بار پھر خود کو دہرانے دیں—اور اس بار شاید قیمت پہلے سے بھی زیادہ بھاری ہو
