نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ سے بنگلہ دیش میں 1971ء کے بعد سے محصور پاکستانیوں کے کیمپوں کے رہنما ہارون الرشید نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، کیمپوں کی حالتِ زار اور کسمپرسی کی لرزہ خیز صورتِ حال سے آگہی دی. وفد نے پاکستان اور بنگلہ دیش حکومتوں سے 55 سال سے نسل در نسل موجود محصورین کے کیمپوں کے مستقل حل کا مطالبہ کیا.
لیاقت بلوچ نے راولپنڈی سٹی ڈسٹرکٹ کے قائدین سے خطاب اور منصورہ میں سیاسی، بلدیاتی اور ممبر سازی مہم کے حوالے سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی ممبرسازی مہم اور عوامی کمیٹیوں کا نیٹ ورک عوام کو فرسودہ، گلے سڑے اور عوام کے لئے زہرقاتل نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کے لئے منظم کرنے کا پروگرام ہے. جماعتِ اسلامی دعوتِ دین، ذہن سازی، کردار سازی اور پُرامن سیاسی، آئینی، جمہوری مزاحمتی جدوجہد سے عوام پر مسلّط ظالمانہ نظام کو بدلنے کی جہدِ مسلسل کررہی ہے. حالات نوشتہ دیوار ہیں کہ نظام کی تبدیلی 25 کروڑ عوام کا مطالبہ ہے.
لیاقت بلوچ نے جنگ بندی اور ثالثی کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان متوازن سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات، ثالثی اور معاہدہ عالمی امن کے لئے ناگزیر ہے. اب یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ امریکہ، اسرائیل اپنے ناپاک عزائم میں مکمل ناکام ہوگئے ہیں. ایران کی قیادت اور عوام نے مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کردی ہے. بااعتماد، انصاف پر مبنی مستقل جنگ بندی کا معاہدہ ہوجائے، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمِ اسلام کے ممالک کے مابین غلط فہمیوں اور دوریوں کی خلیج کو مزید گہرا و خطرناک بنائے گی اور بےیقینی کی کیفیت عالمی معیشت کے لئے موت کا پروانہ، غریب عوام کو زندہ درگور کردے گی
پاکستان کی قیادت امن، ثالثی اور پائیدار منصفانہ معاہدے کے لئے کوششیں جاری رکھے، آگ ضرور ٹھنڈی ہوگی.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب حکومت کا پولیس اصلاح کا دعویٰ درست نہیں، عوام کے لئے پولیس کا نظام ذلّت کا باعث ہے، سرکاری محکموں میں رشوت، کرپشن، عیاشی، مفت خوری قومی معیشت کے لئے کینسر بن گیا ہے. سرکاری محکموں میں 1200 ارب ماہانہ کرپشن قرضوں، سُود کی لعنت کے سبب ہے. کرپشن کا خاتمہ، عوام کو ریلیف دینا، عوام کے جائز کاموں کے حل کے لئے خودکار نظام دینا حکمرانوں کی ترجیح نہیں. وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور چاروں صوبائی حکومتیں اندرونی محاذ پر تیزرفتار تباہی کو بریک لگائیں، پائیدار بنیادوں پر سیاسی بحرانوں کا خاتمہ کریں اور سرکار عوام کو ریلیف کا نظام دےکر سُکھ کی زندگی جینے دیں.#
