نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے خوشاب، جوہرآباد، پیلو ڈینس میں ڈسٹرکٹ بار، جامع مسجد ختم نبوت کے افتتاح، خطابِ جمعہ، تحصیل نورپور کے ورکرز کنونشن سے خطاب کیا. معززین، کسانوں اور. نوجوانوں کے نمائندہ وفود سے ملاقات میں کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم بدنیتی پر مبنی َسیاہ ترامیم ہیں. آئین، جمہوریت، عدلیہ اور بنیادی انسانی حقوق کے آزادانہ حسن کو گہنادیا ہے،خصوصاً یہ ترامیم عدلیہ کی آزادی اور وقار کے لئے ڈیتھ وارنٹ بن گئی ہیں. اعلیٰ عدالتوں کے معزز جج صاحبان کی باہم تقسیم، جھلکتی ذہنی،فکری سیاسی جانب داری اعلیٰ عدلیہ کے لئے زہر قاتل اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے نظام انصاف کو ترانوالہ بنانے کا سبب بن گئی ہیں. وکلاء کی ڈسٹرکٹ و ہائی کورٹس، سپریم کورٹ بارز کی آئین کی بحالی، تحفظ اور عدلیہ کی آزادی کے لئے بنچ اور بار کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہوگا. جماعتِ اسلامی آئین کی بالادستی، جمہوریت، انسانی حقوق کے تحفظ اور عدلیہ کی آزادی کے لئے غیر جاندار کردار ادا کرتی رہے گی.
لیاقت بلوچ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پاکستان آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مسلط رکھنا صیہونیت کا شیطانی ایجنڈا ہے. امریکہ صیہونی شکنجے میں پھنس کر اپنا عالمی امیج خراب کررہا ہے. امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کی غلطی کا اعتراف کرے. اور ایران پر بار بار ناجائز جنگ مسلط کرنے، جارحیت کے حربے استعمال کرنے اور ظالمانہ، ناروا،غیر انسانی اقتصادی، سیاسی پابندیاں ختم کرے. اور پائیدار، باوقار امن کے استحکام کا معاہدہ کرے. اب امریکہ کی زمین، سمندر اور فضاؤں پر فرعونی بالادستی نہیں چلے گی.
لیاقت بلوچ نے وفود سے ملاقات میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ناجائز ٹیکسوں اور لیوی کا بوجھ بڑھائے جارہی ہے. قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی، بے روزگاری اور خط غربت سے نیچے جانے والے عوام کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے. حکمران اعلانات، جھوٹے دعووں اور اشتہار بازی کے ذریعے معاشی ترقی کے جھوٹے خواب دکھارہے ہیں. گندم کے کاشت کاروں کو پنجاب اور سندھ میں 3500 روپے من قیمت نہیں مل رہی. مافیاز حکومتی اور انتظامیہ کی چھتری تلے کسانوں کو لوٹ رہے ہیں،حکومتیں اس لوٹ مار میں حصہ دار ہیں یا اُن کی عملاً کوئی رِٹ نہیں ہے.
لیاقت بلوچ نے بلوچستان کے قائدین زاھد اختر بلوچ،، مرتضیٰ کاکڑ، عارف دُمڑ اور ڈاکٹر عطاء الرحمن سے ٹیلیفونک رابطے کئے اور بلوچستان میں اندرونی اور بیرونی لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا سلسلہ بند کیا جائے. بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے سدِباب کے لئے بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے. دالبندین مین دہشت گردی کا سنگین واقعہ قابلِ مذمت ہے
