پاکستان کی ثالثی کی بنیاد پر حتمی معاہدہ طے پانے کا خیرمقدم

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے ایران، امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور پاکستان کی ثالثی کی بنیاد پر حتمی معاہدہ طے پانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کو پاکستان کی میزبانی میں جنیوا میں ایران، امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوگی جس کی میزبانی جنیوا میں پاکستانی سفارت خانہ کرے گا۔
لیاقت بلوچ نے ایران، امریکہ کے درمیان جنگ بندی، ثالثی معاہدہ کے لئے پاکستان کی مسلسل انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اِن قابلِ قدر کوششوں سے پاکستان کی عزت و وقار کو بلندی مِلی ہے۔ایران، امریکہ کے درمیان معاہدہ اسرائیل کو قابلِ قبول نہیں، اُس کے وجود کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ اسرائیل کا وجود ناسور ہے، امریکہ اور یورپ کےلئے بوجھ بن گیا ہے۔ عالمی امن کے لئے فلسطین کی آزادی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے ایران پر امریکہ، اسرائیل کے ناجائز حملہ اور جارحیت کے دوران عرب ممالک کی طرف سے صورتِ حال پر طیش میں آنے کی بجائے خطے پر جنگ کی صورت میں مسلّط سب سے بڑے خطرے سے صبر اور تدبّر کے ساتھ نبردآزما ہونے کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اڈے عرب ممالک کی سلامتی کے لئے خطرہ بن گئے، ایرانی حملوں کی وجہ سے عرب ممالک نے غصہ کا اظہار کیا لیکن بڑے تدبّر کے ساتھ خطرناک صورتِ حال کو سنبھال لیا۔ اب وقت ہے کہ عالمِ اسلام کے اتحاد کو شرمندہ تعبیر کیا جائے۔ ایران کی قیادت، عوام کی استقامت، استعماری، استکباری جارح قوتوں کے سامنے ایمانی طاقت اور قومی وحدت سے ڈٹ جانے کی بنیاد پر ایران کو عزت ملی، جارح قوتوں کو مُنہ کی کھانی پڑی۔ انہوں نے اس عظیم کامیابی پر ایرانی قیادت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی کامیابی سے اُس کے لئے عالمی محاذ پر نئے راستے کھلیں گے، توقع ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اِس عظیم کامیابی کو اتحادِ اُمّت کا ذریعہ بنالے گا۔
اِس موقع پر پاکستان کی ثالثی کوششوں کی تحسین کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کو اللہ نے اِس عظیم فرض کی ادائیگی کے ذریعے کامیابی سے نوازا۔ نائب وزیراعظم/ وزیرخارجہ اسحاق ڈار، وزیرداخلہ سیّد محسن نقوی کی محنت، سفارتی جدوجہد، مسلسل انتھک رابطے، مشکل مراحل میں سب نے تدبّر سے راستہ نکالا۔ وزارت خارجہ، وزارت، داخلہ اور تمام سفارت کار، مہارت کار مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ایران-امریکہ جنگ بندی اور 47 سالہ طویل کشمکش کو سُدھار کے راستہ پر ڈالنے کے لئے پاکستان کی کامیاب کوششیں امر ہوگئی ہیں، سیاسی دینی قیادت اور پاکستان کے عوام نے قومی فرض ادا کیا اور تمام مراحل پر حکومت کو ساتھ اور حمایت ملی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اب پاکستان کو جو بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں اُن میں افغانستان سے تعلقات کو معمول پر لاتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب، ایران، قطر، ترکیہ اور افغانستان مل کر اسٹریٹیجک بنیادوں پر خطے کے حوالے سے ایسا مضبوط لائحہ عمل بنائیں جو عالمِ اسلام کے اتحاد کا پیش خیمہ بن جائے۔ نیز پاکستان کے اندرونی محاذ پر سیاسی بحران، اقتصادی بحران، امنِ عامہ کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ سیاسی استحکام ہی دیگر بحرانوں کا خاتمہ کرے گا۔ ریاست اور سیاست قومی سلامتی، قومی ترجیحات، آئین، جمہوریت، عوام کے غیرجانبدارانہ حق اور اسلام آباد، صوبوں میں بااختیار بلدیاتی نظام پر اتفاق کیا جائے۔ اسلامی جمہوریہ ایران سے تعلقات مزید مضبوط ہوں، تجارتی تعلقات کو وسیع، پائیدار اور مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے، ایران کے ساتھ زیرالتواء تیل و گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کیا جائے۔ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) پر قومی اتفاقِ رائے سے عملدرآمد کرتے ہوئے اِسے حقیقی معنوں میں گیم چینجر بنایا جائے۔ حکمران یہ عہد کریں، عمل کے لئے آگے بڑھیں کہ پاکستان کو بابرکت اسلامی نظام کے ذریعے اُمّتِ مسلمہ کا مضبوط قلعہ بنانا ہے۔#