نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا کہ ماہِ محرم الحرام حرمت والا مہینہ ہےن، اللہ تعالیٰ نے اِسے حرمت والا مہینہ بنایا ہے۔ 20 جمادی الاول بمطابق 9 جولائی 138ء کو حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ کے مشورہ سے ماہِ محرم کو اسلامی کیلنڈر (ہجری سال) کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔ ماہِ محرم الحرام کے پہلے عشرہ میں نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ کی قیادت میں اسلامی اُصولوں سے منحرف ہوتے دورِ اقتدار اور تعلیماتِ نبویؐ سے باغی حکمران بزید کے خلاف قیام اور اقامتِ دین کی جدوجہد کا عظیم واقعہ ہوا۔ سانحہ کربلا میں خانوادہ رسولؐ کی عظیم شہادت نے ہمیشہ کے لئے حق اور باطل، حسینیت اور یزیدیت کا فرق پاکیزہ خون کی قربانیوں سے واضح کردیا۔ شہدائے کربلا سے عقیدت، محبت کا اظہار تمام اہلِ ایمان کے لئے سعادت ہے۔ سانحہ کربلا میں عظیم قربانیوں کے مقاصدِ اعلیٰ کو فراموش نہ کیا جائے۔ ہر دور کے یزیدی ظالمانہ نظام کے خلاف حق کا عَلم بلند کرنا اہلِ اسلام کی ذمہ داری ہے۔ شخصی بالادستی، قرآن و سُنت سے انحراف اور انسانوں پر ظلم کے نظام کے نفاذ کو اہلِ حق کسی قیمت پر قبول نہ کریں۔ مِلی یکجہتی کونسل کے لاہور، منصورہ اور اسلام آباد میں مِلی یکجہتی کونسل آزاد کشمیر کے اجلاسوں میں جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں اپیل کی گئی ہے کہ ماہِ محرم الحرام کو امن، برداشت اور شہدائے کربلا کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا مشترکہ مہینہ بنادیا جائے۔ خطیب، مقررین، واعظین، ذاکرین دِل آزاری پر مبنی تقریروں سے اجتناب کریں، حکومتیں اور انتظامیہ غیرجانبداری سے امن برقرار رکھنے کے لئے اپنا دینی قومی فرض ادا کریں۔ تمام دینی جماعتیں اور اہلِ ایمان ہوشیار رہیں کہ فرقہ واریت اور انتہاپسندی پیدا کرنے والی ہر سازش کو ناکام بنانا ہے۔ وحدتِ اُمت، مقدسات کا احترام اور برداشت و رواداری ہی اہلِ اسلام کی عزت و وقار میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے ایران امریکہ جنگ بندی اور معاہدہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی قیادت اور متحد جرات مند عوام سُرخرو ہوگئے، ثالثی کے عظیم، غیرجانبدارانہ کردار اور سرگرمی سے پاکستان کو عالمی محاذ پر بڑی عزت مِلی ہے۔ معاہدہ کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ نئے چیلنجز سامنے ہونگے۔ امریکہ کو نیک نیتی کیساتھ معاہدہ پر عمل کرنا ہوگا، ایران کو عظیم فتح کے بعد بُردباری کےساتھ عالمِ اسلام کے اتحاد کے لئے مثالی رول ادا کرنا ہے۔ پاکستان، ایران، ترکیہ، قطر اور سعودی عرب کو عالمِ اسلام کے فلاح اور دفاع کےلئے متحد اور یک جان ہونا ہوگا۔ سب سے بڑا چیلنج حکومتِ پاکستان کے لئے ہے کہ اب ملک کے اندر بحرانوں کو حل کریں، اندرونی سیاسی معاشی بحران قومی سلامتی کے لئے جان لیوا بنتا جارہا ہے۔ آزادکشمیر میں بدانتظامی اور مِس کنڈکٹ سے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بڑا اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ حل کیا جائے تاکہ ہر بیرونی سازش ناکام ہو۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ایران امریکہ مفاہمت اور آبنائے ہُرمز کُھلنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہورہی ہیں، امریکی خام تیل (WTI) 6 فیصد سے زیادہ کمی کیساتھ 75 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہورہا ہے، جبکہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے رعایتی نرخوں پر تیل کی اضافی سہولت بھی میسر ہے۔ حکومت اصل قیمتِ خرید اور ریفائنری، ٹرانسپورٹ سمیت ضروری اخراجات شامل کرنے کے بعد بننے والی حقیقی قیمت کے مطابق پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتیں کم کرے، پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر ظلم اور اپنی مفت خوری بند کرے
