ہزارہ کے عوام کو اتنا حق ضرور ملنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی آواز سن سکیں

معروف سیاسی و سماجی رہنما انجینئر افتخار چوہدری نے ریٹائرڈ صوبیدار عبدالعزیز کی جانب سے ابر خان پور اور گرد و نواح کے علاقوں میں ناقص موبائل سروس کے حوالے سے شکایت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ ایک طرف موبائل کمپنیاں جدید ترین ٹیکنالوجی اور فائیو جی سروسز کے دعوے کر رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ہزارہ کے متعدد دیہات اور پہاڑی علاقوں کے عوام بنیادی موبائل رابطے کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابر خان پور کے لوگ ایک طرف طویل لوڈشیڈنگ اور بجلی کے مسائل کے باعث اپنے موبائل فون مناسب طریقے سے چارج تک نہیں کر پاتے، اور دوسری طرف اگر کبھی کبھار یو فون یا دیگر کمپنیوں کے سگنل آ بھی جائیں تو لوگوں کو پہاڑی چوٹیوں پر جا کر بات کرنا پڑتی ہے۔ یہ صورتحال جدید دور میں انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
انجینئر افتخار چوہدری نے کہا کہ ریٹائرڈ صوبیدار عبدالعزیز نے جب انہیں اس مسئلے کی تفصیلات سے آگاہ کیا تو انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ ان شاء اللہ متعلقہ کمپنیوں اور حکام سے بات کر کے اس مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کسی پر احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔
انہوں نے خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ خطہ ہے جس کے نوجوان آج بھی سیاچین سمیت ملک کے حساس ترین محاذوں پر دفاعِ وطن کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ہزاروں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکار اس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک کے کونے کونے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خاندان اگر اپنے عزیزوں سے رابطے کی بنیادی سہولت سے محروم ہوں تو یہ نہ صرف افسوسناک بلکہ قومی سطح پر توجہ طلب معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کم از کم ہزارہ کے عوام کو اتنا حق ضرور ملنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی آواز سن سکیں اور ضرورت کے وقت رابطہ کر سکیں۔ اگر کسی شہری کو ایک فون کال کرنے کے لیے پہاڑی کی چوٹی پر جانا پڑے تو یہ متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
انجینئر افتخار چوہدری نے مطالبہ کیا کہ ابر خان پور اور ملحقہ علاقوں میں فوری طور پر موبائل ٹاورز، سگنل کوریج اور مواصلاتی سہولیات کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام خصوصاً فوجی خاندانوں، بزرگ شہریوں، طلبہ اور کاروباری افراد کو درپیش مشکلات کا مستقل خاتمہ ہو سکے