نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے 10 محرم الحرام یومِ عاشورہ کے موقع پر ملی یکجہتی کونسل کے مجلسِ قایدین، مجلسِ عاملہ اور صوبائی تنظیموں کی جانب سے مشترکہ پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام اہلِ ایمان، پوری پاکستانی مِلّتِ میدانِ کربلا کے شہداء، امامِ عالی مقام سیّدنا امام حسین (رض) کی عظیم لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین و خراجِ عقیدت پیش کرنے کےلئے ہم آہنگی، وحدت و یکجہتی، مقدسات کا مکمل احترام اور ہر طرح کی دل آزاری سے اجتناب کیا جائے. شہدائے کربلا خانوادہ رسول (ص) کی عظیم قربانیوں کے بلند مقاصد اور فلسفہ قیام و شہادت کی روح کو جانا جائے. امام حسین (رض) نے باطل قیادت اور قرآن و سُنت سے منحرف ہوتے نظریہ و انسان دشمن نظام کے خلاف شہادت کا جام پی کر پوری اُمت کو استقامت و جرآت سے استعماری ظالمانہ نظام کے خلاف قیام کا دائمی روڈ میپ دے دیا.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ 1995ء میں فرقہ واریت، قتل و غارت گری کے خاتمہ کے لئے اکابرینِ اُمت مولانا شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق، پروفیسر ساجد میر، علامہ سیّد ساجد علی نقوی، علامہ مرید عباس یزدانی، علامہ ضیاء القاسمی، علامہ ضیاء الرحمن فاروقی اور دیگر رہنماؤں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے ملی یکجہتی کونسل کا تاریخ ساز ضابطہ اخلاق مِلّتِ کو دیا. یہ ضابطہ اخلاق آج بھی تمام مسالک اور مذہبی جماعتوں کے لئے متفقہ دستاویز ہے. ضابطہ اخلاق میں اتفاق کیا گیا کہ کسی بھی اسلامی فرقہ کو کافر اور اُسے واجب القتل قرار دینا غیراسلامی اور قابلِ نفرت فعل ہے. نبی (ص) کی عظمت، حرمت ایمان کی بنیاد ہے اور عظمتِ اہلِ بیت اطہار، امام مہدی (ع)، عظمتِ ازواجِ مطہرات اور عظمتِ صحابہ (رض)، خلفائے راشدین کی عزت و احترام ایمان کی تکمیل کا پائیدار ذریعہ و بنیاد ہے، اِن کی تکفیر کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اان کی توہین و تنقیص حرام اور قابلِ نفرت و تعزیر جرم ہے. خطیب، ذاکرین، واعظین ہر قسم کی دل آزار اور اشتعال انگیز تقاریر، بیانات اور گفتگو سے اجتناب کریں. ایک دوسرے کی دل آزاری، نفرت آمیزی اور اشتعال انگیزی سےاجتناب کیا جائے، تمام مکاتبِ فکر کے مقاماتِ مقدسہ، عبادت گاہوں کا احترام یقینی بنایا جائے، باہمی اختلافات کو افہام و تفہیم اور تحمل و رواداری کی بنیاد پر طے کیا جائے.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلام دشمن اور انسانوں کو برباد کرنے والا عالمی استحصالی اور استعماری نظام زوال پذیر ہے. عالمِ اسلام کا اتحاد اور اہلِ ایمان کا باہمی احترام و اعتماد ہی دُنیا کو بحرانوں سے نجات دِلائے گا.#
