کتاب دوستی ہی زندگی ہے

اسلام آباد/ کوئٹہ ——- کتاب دوستی ہی زندگی ہے اور کتاب و حکمت کی بہاریں دیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو مدنظر رکھا جائے اقبالیات کے فروغ کے لئے سنجیدگی اور گہرے غور وفکر کی قوتیں درکار ہیں
ایران و افغانستان اور ترکی و وسط ایشیائی ریاستوں میں فکر اقبال نہایت عمدہ اور بلندیوں پر محو پرواز ہے پاکستان نے عالمی سفارتی مہارت اور کمال اقبال سے نئے منزلیں طے کرنے ہیں جس ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہوسکتا ہے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان باکمال محقق و ماھر اقبال اور مصنف وتجزیہ نگار ہیں جنھیں مستقبل گری کے لئے بنیادی ضروریات اور گہرے اثرات سمیٹنے کا علمی و تحقیقی گر آتا ہے
ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں نیشنل بک فاؤنڈیشن وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ادارے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام
مجلس فکر و دانش
(علمی و فکری مکالمہ ) کوئٹہ اور اقبالستان موومنٹ پاکستان کے
اشتراک سے فکر اقبال کی
فہمیدگی اور نوجوان نسل کے جذبات کا پیچھا کرنے کے لئے
نیشنل بک فاؤنڈیشن کی
شائع کردہ کتاب
” پاکستان سے
اقبالستان تک”
کی تقریب پزیرائی کے منعقدہ تقریب سے فاضل مقررین و بلند پایہ اسکالرز نے خطاب کرتے ہوئے کہا
یہ کتاب اکیسویں صدی کے معروف مصنف
پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان کی تصنیف کردہ ھے ، تقریب کی
صدارت ممتاز علمی و فکری شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر شکیل روشن
صدر الحمد اسلامک یونیورسٹی
اسلام آباد نے کی،
جبکہ مصنف و محقق پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان صاحب بھی موجود تھے جنھوں نے مختصر طور پر جامع گفتگو رکھی
مہمان خصوصی
ڈاکٹر سعد ایس خان
ایڈیشنل سیکرٹری
وزارت خزانہ و محصولات
حکومت پاکستان تھے جبکہ گفتگو کرنے والے خصوصی دوستوں میں
پروفیسر ڈاکٹر علی کمیل قزلباش ،
عبدالمتین اخونزادہ،
ڈائریکٹر قرآن اکیڈمی حکومت بلوچستان،
برگیڈیر ریٹائرڈ محمد مقیم سبحانی
اور ممتاز محقق و مصنف
ڈاکٹر فاروق عادل تھے۔
نظامت کے فرائض نازیہ رحمان نے بخوبی سرانجام دیے۔
سیکرٹری این بی ایف
ڈاکٹر فرحان رفعت نے
اظہار تشکر کرتے ھوئے
مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ڈائریکٹر جناب مراد علی مہمند نے میزبانی کے فرائض سر انجام دئیے
فاضل مقررین نے
اکیسویں صدی کے معروف مصنف و محقق پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان کی کتاب “پاکستان سے اقبالستان تک” کے حوالے سے اپنی آراء اور گفتگو رکھی اور اس کام کو ایک اہم کارنامہ قرار دیا۔
تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی، کوئٹہ و لورالائی کے اہل قلم خواتین و حضرات نے بھرپور شرکت کی۔- شرکا کے اعزاز میں عصرانہ دیا گیا اور مہمان مقررین کو کتاب تحفتاً پیش کی گئی