معاہدہ مکہ، ذرا سوچئے باعث افتخارِ انجینئر افتخار چودھری

امتِ مسلمہ، مفادات کی جنگ اور پاکستان کا مقدر
​تاریخ کے صفحات پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہمیشہ ایوانِ اقتدار کے شیش محلوں میں نہیں ہوتے، بلکہ کئی بار ان فیصلوں کی بنیاد وہ تلخ حقیقتیں ہوتی ہیں جنہیں ہم وقتی طور پر ناپسند کرتے ہیں۔ اگرچہ جمہوری روایات کے علمبردار ہر دور میں آمریت کو جمہوریت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیتے ہیں، اور اصولاً یہ بات درست بھی ہے، لیکن جب وقت کا پہیہ گردش کرتا ہے اور حالات کی دھول بیٹھتی ہے، تو بہت سے چہروں سے نقاب ہٹ جاتے ہیں۔ آج جب ہم خطے کے موجودہ حالات اور بدلتی ہوئی عالمی صف بندی کا جائزہ لیتے ہیں، تو بے ساختہ ماضی کے وہ کردار یاد آجاتے ہیں جنہیں ہم نے اپنی تاریخ کے سب سے تاریک ابواب میں شمار کیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کا دور اپنی داخلی سیاسی نوعیت اور پابندیوں کے اعتبار سے جتنا بھی متنازعہ رہا ہو، لیکن جب بات خطے کی سیاست اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کی آتی ہے، تو تاریخ کے تناظر میں ان کے کچھ سفارتی فیصلے ایک الگ اور گہری اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔
​ہرارے کی وہ تاریخی کانفرنس آج بھی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جہاں دنیا بھر کے رہنما جمع تھے۔ اس وقت خطے میں شدید تناؤ اور سرد جنگ کے اثرات کے باوجود، پاکستان نے جس مدبرانہ اور متوازن انداز میں ایران کو امتِ مسلمہ کے وسیع تر دھارے میں شامل رکھنے اور اسے الگ تھلگ ہونے سے بچانے کا کردار ادا کیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ جنرل ضیاء الحق کا وہ دور تھا جب ایران اور عرب دنیا کے مابین تناؤ کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی گئیں، تہران کو یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کسی بھی ایسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے جو خطے کے کسی مسلم ملک کے خلاف ہو۔ وہ ایک ایسا وقت تھا جب مسلم دنیا کے اندرونی اختلافات کے باوجود ایک اجتماعی شعور اور حمیت زندہ تھی۔ جنرل ضیاء کا وہ کردار آج کے دور کے بے بس اور کمزور حکمرانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جرأت مندانہ اور دور اندیش نظر آتا ہے، کیونکہ اس وقت اسلامی دنیا کے درمیان ایک فکری اور سفارتی پل موجود تھا جو دشمنوں کی سازشوں کے سامنے ایک فصیل بن جاتا تھا۔
​آج لیکن صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ بدقسمتی سے، آج کا منظرنامہ مسلمانوں کو اتحاد کے بجائے مزید تفریق، تعصب اور باہمی انتشار کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جو کچھ آج خطے میں ہو رہا ہے، وہ کسی بھی طرح امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفاد میں نہیں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ اشاروں اور ان کی ترتیب دی گئی حکمت عملی کے تحت جو جال بنا جا رہا ہے، اس کا مقصد کسی بھی قیمت پر اسلامی دنیا کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ اس وقت خطے میں جو نئے اتحاد یا نام نہاد سفارتی اور دفاعی صف بندی بن رہی ہے، وہ کسی عادلانہ مقصد، خطے کے امن یا مسلم فلاح کے لیے ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی اور واحد ہدف ایران کو تنہا کرنا اور امتِ مسلمہ کو اندرونی طور پر اتنا کمزور کر دینا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی عالمی طاقت کے سامنے سر نہ اٹھا سکے۔
​اسی تسلسل میں ہمیں عمران خان کا وہ دلیرانہ موقف بھی ہرگز نہیں بھولنا چاہیے جو انہوں نے بحیثیتِ وزیراعظم اور ایک غیرت مند رہنما کے دنیا کے سامنے رکھا تھا۔ عمران خان نے ہمیشہ دوٹوک انداز میں یہ واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت اپنے کسی بھی ہمسائے ملک، اور خصوصاً ایران کے خلاف کسی سازش یا بیرونی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ان کا موقف ہمیشہ یہی رہا کہ پاکستان امن کا علمبردار ہے اور وہ اپنی سرزمین یا اپنے وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ ایک ایسا خوددار اور آزادانہ خارجہ پالیسی کا نقطہ نظر تھا جس نے بیرونی آقاؤں کو تو ناراض کیا، لیکن پاکستان کی قومی غیرت اور خودمختاری کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ لیکن افسوس کہ آج اس جرأت مندانہ آواز کو دبانے اور ایک بار پھر ملک کو اسی غلامانہ ڈگر پر چلانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔
​اس خطرناک کھیل کا سب سے بھیانک اور خوفناک پہلو یہ ہے کہ اس کا ایندھن کسے بنایا جا رہا ہے؟ اس کا جواب انتہائی تلخ ہے مگر اتنی ہی بڑی حقیقت ہے: اس کا ایندھن پاکستان کو بنایا جا رہا ہے۔
​تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی سامراجی طاقتوں نے اس خطے میں اپنے مذموم مفادات کے لیے کوئی بساط بچھائی ہے، پاکستان کو ہمیشہ فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اور اس کردار کی قیمت پاکستان نے ہمیشہ اپنے خون سے چکائی ہے۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی لاشیں، ہمارے شہروں اور سرحدی علاقوں میں بہنے والا معصوم لہو، اور ہمارے معاشی ڈھانچے کی پے در پے تباہی اسی غلامانہ پالیسی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ ہم نے دہائیوں تک دہشت گردی کی آگ میں جل کر اپنے ملک کو اس نہر پر لا کھڑا کیا جہاں ہر کوئی ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خون کے نذرانے کے بدلے میں ہمیں کیا ملتا ہے؟
​اس کا جواب انتہائی شرمناک ہے: اس خون کے عوض ہمیں چند ارب ڈالرز کی عارضی امداد، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے کڑے شرائط والے قرضوں کی قسطیں، اور وقتی مالیاتی سہارے ملتے ہیں۔ اور یہ سارا پیسہ آخر کار کہاں جاتا ہے؟ کیا یہ رقم ملک کے غریب عوام کی تعلیم، صحت، روزگار یا انفراسٹرکچر پر خرچ ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ سارا پیسہ اس ملک کی اشرافیہ، کرپٹ سیاسی مافیا، اور طاقتور بیوروکریسی کے ذاتی بنک اکاؤنٹس اور تجوریوں کی زینت بنتا ہے۔ عام پاکستانی کے حصے میں صرف مہنگائی کا طوفان، بیروزگاری، محرومی اور اپنوں کے جنازے آتے ہیں، جبکہ ملک کا حکمران طبقہ بیرونی آقاؤں کی خوشنودی اور اپنے ذاتی اقتدار کے تحفظ کے عوض اس ملک کو بیچنے میں ذرا برابر بھی نہیں ہچکچاتا۔
​آج جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کے نتائج آنے والے وقتوں میں اس خطے کے لیے مکمل تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ جب آپ اپنے ہی پڑوسیوں اور برادر اسلامی ملک کے خلاف بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں، تو آپ اپنے لیے امن، سلامتی اور بقا کے تمام دروازے خود اپنے ہاتھوں سے بند کر دیتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے مفادات اس خطے کے عوام کے مفادات سے زمین و آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔ امریکہ کا مقصد صرف اپنے اسٹریٹجک اور معاشی غلبے کا حصول ہے، اور اسرائیل کا مقصد اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اس پورے کھیل میں ایران کو نشانہ بنانا دراصل اس مزاحمتی بلاک کو توڑنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو مغرب کے استبداد کے سامنے آنکھیں ملا کر بات کرنے کی جرأت رکھتا ہے۔ اس سازش میں پاکستان کا استعمال کرنا ہماری خارجہ پالیسی کی ایک ایسی تاریخی اور ناقابلِ معافی بھول ہوگی، جس کے نقصانات آنے والی کئی نسلیں بھگتیں گی۔
​ہمیں یہ تلخ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کا انحصار خطے کے امن اور اسلامی دنیا کے ساتھ مضبوط بھائی چارے پر ہے، نہ کہ بیرونی طاقتوں کے کرائے کے سپاہی بننے پر۔ اگر ہم نے آج اپنے مفادات کو سامراجی طاقتوں کے قدموں میں گروی رکھ دیا، تو کل کو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے، یہ ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ میری اس بات کو لکھ لیں اور اچھی طرح یاد رکھیں کہ آج کی یہ کمزور، مفاد پرستانہ اور غلامانہ پالیسیاں پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں۔ جب خون کا نذرانہ دینے کا وقت آتا ہے تو اس ملک کے غریب عوام کی باری آتی ہے، اور جب مالِ غنیمت اور پیسہ بانٹنے کا وقت آتا ہے تو اشرافیہ کے پیٹ بھرتے ہیں۔ اس ناانصافی، دوغلے پن اور غلامانہ سوچ کے خلاف آواز اٹھانا آج ہر ذشعور پاکستانی کا سب سے بڑا فرض ہے۔ اگر ہم آج بھی نہ سمجھے، تو آنے والا کل ہماری قومی تاریخ کا سب سے سیاہ اور تاریک باب بن کر سامنے آئے گا۔
ہمارے وزیراعظم نے تو کہا ہوگا
انا پاکستان من شرک و غربا مسکین قطیر و یحتاج فلوسا کثیرا