کشمیر صرف نعرہ نہیں، ایک امتحان بھی ہے
باعث افتخارِ انجینئر افتخار چودھری
ہر سال پانچ اگست آتا ہے تو پاکستان میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا جاتا ہے۔ سرکاری تقریبات ہوتی ہیں، سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں، قراردادیں منظور کی جاتی ہیں اور دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو شدید نقصان پہنچایا۔ پاکستان کا یہ مؤقف کئی برسوں سے مسلسل دہرایا جا رہا ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ بھی ہے۔
لیکن ایک سوال ایسا بھی ہے جو شاید ہم خود سے کم ہی پوچھتے ہیں۔ اگر ہم کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو کیا ہمیں اپنے طرزِ عمل کا جائزہ بھی نہیں لینا چاہیے؟
میں نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے ایک کالم میں یہی لکھا تھا کہ ظلم، ظلم ہوتا ہے۔ اگر وہ سری نگر میں ہو تو بھی قابلِ مذمت ہے اور اگر کسی اور جگہ کسی کشمیری یا کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق متاثر ہوں تو اس پر بھی آواز اٹھنی چاہیے۔ اصولوں کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ سب کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں۔
میری رائے یہی تھی کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری کرنی چاہیے، کشمیری عوام کو سیاسی آزادی، اظہارِ رائے اور انصاف کے وہی حقوق ملنے چاہییں جن کا تقاضا بین الاقوامی قوانین کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ میں نے یہ بھی لکھا کہ پاکستان کے اندر بھی ریاستی اداروں، حکومت اور تمام متعلقہ حلقوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق اور انصاف کے تقاضے ہر شہری کے لیے یکساں ہوں۔
اس کالم کے بعد اگر میری تحریر یا سوشل میڈیا پوسٹوں تک بھارت میں رسائی محدود کی گئی تو یہ ایک عجیب صورتِ حال ہے۔ اگر ایک قلم صرف یہ لکھتا ہے کہ کشمیریوں پر ظلم بند ہونا چاہیے، تو اس سے خوف کیوں محسوس کیا جائے؟ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، پابندیوں سے نہیں۔
کشمیر کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ وہاں کے لوگوں نے دہائیوں سے بے شمار مشکلات برداشت کی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی سطح پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے، اور یہ مؤقف اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دنیا ہمارے اپنے طرزِ عمل کو بھی دیکھتی ہے۔ اگر ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں تو انصاف کی مثال بھی قائم کرنی ہوگی۔
آج پاکستان کے اندر بھی سیاسی اختلافات اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ حکومت اپنا مؤقف رکھتی ہے، اپوزیشن اپنا۔ تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن مختلف شکایات پیش کرتے ہیں، جبکہ حکومت ان کارروائیوں کو قانون کے مطابق قرار دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں سب سے بڑی ذمہ داری یہی بنتی ہے کہ قانون کی بالادستی ہر حال میں برقرار رہے اور کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
کشمیر صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں، بلکہ انسانی وقار کا مسئلہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم دنیا سے کشمیریوں کے لیے انصاف مانگتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر بھی انصاف کی روایت مضبوط کرنا ہوگی۔ دنیا انہی قوموں کی بات سنتی ہے جو اپنے اصولوں پر خود بھی عمل کرتی ہیں۔
مرحوم سید علی گیلانی کی پوری سیاسی زندگی کشمیر کے مسئلے کے گرد گھومتی رہی۔ ان کے حامی انہیں استقامت کی علامت سمجھتے ہیں اور مخالفین ان سے اختلاف رکھتے تھے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنے کے لیے وقف کی۔ آج بھی کشمیر کا نام آتا ہے تو ان کی جدوجہد کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں اس خطے کے عوام کے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں۔ طاقت کے استعمال، سیاسی جبر اور مسلسل کشیدگی سے نہ ماضی میں مسئلے حل ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔ امن، انصاف، مکالمہ اور انسانی وقار ہی وہ راستے ہیں جو دیرپا حل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں صرف بھارت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا موقع نہیں دیتا بلکہ یہ دن ہمیں اپنے ضمیر کا احتساب کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ اگر ہم واقعی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں تو ہمیں ہر اس جگہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے جہاں کسی انسان کا بنیادی حق پامال ہو، خواہ وہ کسی بھی سرحد کے اندر ہو۔
ریاستیں طاقت سے چل سکتی ہیں، مگر قومیں انصاف سے بنتی ہیں۔ پاکستان کا مستقبل بھی اسی میں ہے کہ یہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، آئین کی بالادستی قائم رہے اور انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔ یہی وہ پیغام ہے جو کشمیر کے نام پر دیے جانے والے ہر خطاب، ہر قرارداد اور ہر کالم سے جھلکنا چاہیے۔
کشمیر صرف ایک نعرہ نہیں، ایک امتحان بھی ہے۔ اور امتحان صرف دوسروں کا نہیں، ہمارا اپنا بھی ہے۔
