17 اگست 1988 کا دن

محمد اعجاز الحق
رکن قومی اسمبلی
صدر پاکستان مسلم لیگ(ضیاء الحق شہید)

17 اگست 1988 کا دن‘ وطن عزیز میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے حامیوں اور پاکستان کو اقوام عالم کا سردار ملک بنانے والے معمار صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کا دن ہے‘ جن کے دور میں افغانستان کو روس کی غلامی سے نجات دلانے کے بعد کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے کا عزم باندھا گیا‘پاکستان کے دشمنوں کو یہ بات کہاں پسند تھی اس لیے تو ان قوتوں نے ایک منظم،گہری سازش اور اپنے سہولت کاروں کے ذریعے ہم سے صدر جنرل محمد ضیاء الحق بھی چھین لیے گئے اور پاکستان کے آگے بڑھنے کا راستہ بھی روک دیا گیا۔آج صدر جنرل محمد ضیاء الحق جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں تاہم وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت‘ اندرونی سلامتی اور اسلامی نظام زندگی کے عملی نفاذ کے اقدمات ہمارے سامنے ہیں‘ بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ماتھے پر خوف کا پسینہ آج بھی بھارت کی گلی گلی میں بہتا ہوا ملے گا‘ بھارت میں کپکپی پیدا کرنے والے صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کا نام زندہ جاوید ہے‘ ان کے پیش رو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے گزشتہ سال معرکہ حق میں بھارت کے دانت کھٹے کیے تھے‘ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے پر ان کے شہید ہوجانے بھارت اور اسرائیل میں جشن کا سماں تھا کیونکہ جنرل محمد ضیاء الحق ان سب کے لیے خوف کی علامت تھے‘ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کو1977 ملک بچانے کے لیے اقتدار میں آنا پڑا تھا‘اس وقت پوار ملک ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے خلاف سراپا احتجاج تھا اور آئینی بحران کی بدترین صورت حال مسلسل بگڑ رہی تھی اس پس منظر میں جنرل ضیاء الحق کو ملک کا نظم و نسق سنبھالنا پڑا تھا‘ سیاسی حریفوں کی رائے کچھ بھی ہو‘ان کے اس اقدام کا عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت نے پورے ملک میں خیر مقدم کیا‘ اس وقت ملک کے سیاسی حالات کا دینات داری سے غیر جانب دارانہ تجزیہ کرنے اور حقائق سامنے رکھنا بہت ضروری ہے ‘ جنرل محمد ضیاء الحق نے بطور سولجر ملکی سلامتی کی جو قسم کھائی تھی اس کی انہوں نے پاسداری کی‘1977 ء میں جب انہیں اقتدار سنبھالنا پڑا‘ پاکستان کے حالات اس قدر خراب تھے کہ تقریباً سول نافرمانی کی صورت حال تھی‘ خود بھٹو صاحب کے کہنے پر لاہور‘ حیدر آباد اور کراچی میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا‘ جنرل محمد ضیاء الحق ملک کا نظم و نسق سنبھالتے ہی بلوچستان میں شورش ختم کی اور افغانستان میں روس کی راہ روکی‘ آج بھی اگر افغانستان کے حالات درست کرلیے جائیں تو بلوچستان میں امن قائم ہوسکتا ہے‘ جنرل محمد ضیاء الحق نے بلوچ راہنماؤں کو رہا کیا تھا‘ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن قائم کیا اور کاروبار زندگی بحال کیا‘ اور ملک میں اسلامی نظام کی عملی کوشش کے ذریعے نظام صلوۃ اور زکوۃ اور عشر کا نظام نافذ کیا‘ مستحق شہریوں کیلئے بیت المال کی بنیاد رکھی‘شہید صدر نے بطور عاشق رسولﷺ‘ تحفظ ختم نبوت ﷺ کے محافظ بن کر متنازع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا‘ شہید صدر کی عسکری زندگی 1950 میں شروع ہوئی‘ انہوں نے گائیڈ کیولری میں شمولیت اختیار کی دس سال تک اسی یونٹ میں رہے‘1955 کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کی‘ اسی کالج میں انسٹرکٹر بھی رہے‘ ایک کور‘ ایک آرمڈ بریگیڈ‘ ایک آرمز ڈویژن‘ اور ایک کور کی کمانڈ کی‘ جنرل محمد ضیاء الحق‘ سابق آرمی چیف جنرل گل حسن کے اسٹاف آفیسر بھی رہے‘52 سال کی عمر میں ملک کے آرمی چیف مقرر کیے گئے‘ مجھے جنرل محمد ضیاء الحق کو بطور والد اور بطور حکمران بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے‘ وہ ایک کشادہ ظرف انسان تھے انکی ذاتی زندگی کبھی کسی قسم کے ہزیمت اور پشیمانی والے کام میں مصروف نہیں رہی‘تبلیغ اسلام ان کے ایمان کا حصہ تھا اور ان کی آرزو تھی کہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہوجائے۔وہ مغربی معاشرے کے اثرات سے ملک کو بچانا چاہتے تھے انہیں یقین تھا کہ مسلم ممالک اسلام کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی دور حاضر کے خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘ وہ ہر لحاظ سے ایک طاقت ور حکمران رہے مگرکوئی انکے دامن پر کسی قسم کی کرپشن کا داغ نہیں ہے‘1979 میں ملٹری کونسل نے انہیں نشان امتیاز (ملٹری) دینے کا فیصلہ کیا مگر انہوں نے یہ پیش کش قبول نہیں کی اور کہا کہ میری کاکردگی کے حسن و قبح کا فیصلہ تاریخ پر چھوڑ دیجیے‘ وہ پانچ جولائی1977ئسے 17اگست 1988ء تک ملک کے حکمران رہے‘17اگست ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا‘ اس روز ان کے طیارے کا حادثہ ہوا اور فوجی وردی میں وہ اس حادثے میں اللہ کے حضور پیش ہوگئے‘17اگست کو وہ معمول کے مطابق تیار ہوئے انکے طیارے نے صبح 8بجکر21منٹ پر چک لالہ ایئربیس سے پرواز کی اور 9بجکر27پر بہاولپوراتر گیا‘ روانگی سے قبل چک لالہ ائربیس پر طیارے کی مکمل دیکھ بھال اور جانچ پڑتال کی گئی‘ امریکی ٹینک کا معائنہ کرنے کے بعد وہ تقریباً ساڑھے 3بجے واپسی کیلئے طیارے میں سوار ہوئے‘ اسی اثناء میں آموں کے دو کریٹ اور ایک تحفے کا ڈبہ لایا گیا‘ جس میں طیاروں کے یا امریکی ٹینک کے ماڈل تھے، C-130 تین بجکر 46 پر زمین سے اڑا اور چند منٹوں میں جب ان کا طیارہ دریائے ستلج کے اوپر پہنچا تولڑکھڑاسا گیااورپھرسیدھا زمین پرآ گرا‘طیارے کو آگ لگ گئی‘ جائے حادثہ بہاول پور ہوائی اڈے سے تقریباً 9 کلو میٹر دور شمال مغرب کی جانب ہے‘ موسم بھی صاف تھا چنانچہ موسم کا حادثے سے کوئی تعلق نہیں تھا‘ حادثے کی تحقیقات کیلئے اس وقت ایئر کموڈور عباس کی سربراہی میں ایک بورڈ بنایا گیا‘ جس کی تحقیقات میں کہا گیا کہ طیارے کو باہر سے کسی نے نشانہ نہیں بنایا‘ جو کچھ بھی ہوا جہاز کے اندر ہی ہوا‘ جس طرح طیارے کے حادثے کی تحقیقات کیلئے جسٹس شفیع کمیشن بھی بنایا گیا تھا‘ مگر حتمی نتائج اور ہمیں انصاف نہیں ملا“ ہم بطور لواحقین آج تک مطمئن نہیں ہوسکے کہ حادثے کے اصل محرکات کیا تھے‘ اگر یہ سازش تھی تو کہاں تیار ہوئی‘ کون اس میں ملوث تھا‘ منصوبہ بندی کہاں ہوئی؟ پوری قوم آج تک حقائق کی منتظر ہے جنرل محمد ضیاء الحق کے طیارے کا مقدمہ اب اللّٰہ کی عدالت میں ہے‘ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں‘ شہید صدر ضیاء الحق نے اس ملک کیلئے‘ قوم کیلئے اور ملت اسلامیہ کیلئے جو کچھ کیا اب وہ تاریخ کا سنہرا باب ہے انہوں نے قرارداد مقاصدکو آئین کا حصہ بنایا‘ ملک میں قانون کے مطابق جائز نجی کاروبارکیلئے ہر سرمایہ کار کی حوصلہ افزائی کی‘ پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناح اور اقبال کے افکار کی روشنی میں چلایا اور ملک میں اسلام کے نفاذ کی عملی کوشش کی‘ بلاسود بینکاری نظام لائے احترام رمضان المبارک قوانین بنائے گئے‘سرکاری دفاتر میں ظہر کی نماز کا اہتمام کیا جانے لگا‘جنرل محمد ضیاء الحق اور شہدائے بہاولپور کا17 اگست کو38 واں یوم شہادت ہے ہم آج بھی ان حقائق کی تلاش میں ہیں جو جنرل محمد ضیاء الحق کے طیارے C-130 کے حادثے کا سبب بنے۔ جب بھی کوئی شخص پیشہ سپہ گری سے منسلک ہوتا ہے‘اول ہی سے ہر آفیسر خواہ اس کا تعلق بری فضائیہ اور بحری فوج سے ہو اس کے ذہن پر یہ بات نقش کردی جاتی ہے کہ اس نے اپنی جان دے کر بھی اپنے قومی علم کو بلند رکھنا ہے اور ملک کا دفاع کرنا ہے اسی جذبے کے تحت‘1950 میں جنرل محمد ضیاء الحق نے گائیڈ کیولری میں شمولیت اختیار کی اپنی پوری عسکری زندگی میں وہ ہمیشہ اعلی کاکردگی کے دلداہ تھے اور بہترین پریزنٹیشن کے تو گویا شیدائی تھے‘ بے حد ملن سار‘ خوش طبع‘ مہمان نواز تھے‘ ہر کام میں حد درجہ نفاست مانگتے تھے‘ اپنے ساتھ کام کرنے والے ہر آفیسر اور سٹاف کا بہت خیال رکھتے اور انہیں اپنے گھر کا فرد ہی سمجھتے تھے‘ فطرت نے انہیں عجیب قوت برداشت سے نوازا تھا‘ وہ اپنے پرانے گھریلو ملازمین کو تبدیل کرنے میں کبھی راضی نہیں ہوتے تھے‘ ساری ساری رات جاگتے مگر کبھی ان کے چہرے پر تھکاوٹ نہیں دیکھی جنرل ضیاء الحق ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے‘ ان کے سامنے ایک مشن تھا انہوں نے ملت اسلامیہ کے استحکام کے لیے بہت محنت کی‘ مجھے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کو بطور والد اور بطور حکمران دیکھنے کا موقع ملا ہے‘ وہ ایک کشادہ ظرف انسان تھے تاریخ سنہرا باب یہ ہے کہ انہوں نے قرارداد مقاصد‘ کو حضرت علامہ شبیر عثمانی نے اپنے دل کے خون سے روشنائی لے کر لکھی تھی اسے آئین کا حصہ بنایا‘ اور ملک کے عوام کو سر اٹھاکر جینے کی راہ دکھائی“صدر جنرل محمد ضیاء الحق اور شہدائے بہاولپور کا آج38 واں یوم شہادت ہے‘عشروں کا یہ وقت کیسے گزرا‘ اور کس کرب سے ہم دوچار رہے ہیں‘ یہ المیہ سانحہ سے بڑھ کر ہے کہ آج بھی ہم اور شہید صدر کے لاکھوں چاہنے والے ان حقائق کی تلاش میں ہے جو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے طیارے C-130 کے حادثے کا سبب بنے‘ اس حادثے کو اگر پاکستان کے حقیقی ریاستی مفادات کے محافظ کے قتل سے تشبیہ دی جائے تو غلط نہیں ہوگا‘ قوم یہی سمجھتی ہے کہ یہ حادثہ دراصل پاکستان کے حقیقی ریاستی مفادات کے محافظ کا قتل ہی نہیں بلکہ ریاستی مفادات کو گہری منصوبہ بندی کے ذریعے ایک مکروہ سازش کو کامیاب بنایا گیا تھا‘ پاکستان کی پاکیزہ سرزمین ایک روز ضرور یہ راز اگلے گی اور حقائق آشکارا ہوجائیں گے قوم ابھی تک منتظر ہے کیونکہ ابھی شہید صدر کے چاہنے والوں کے ضبط کا امتحان ختم نہیں ہوا‘یہ تمام کے تمام سوالات بطور لواحقین ہم بھی پوچھ رہے ہیں اور آئندہ نسلیں بھی پوچھیں گی“ آج پورا ملک اضطراب میں مبتلا ہے‘ جنرل محمد ضیاء الحق کو بھی یہ ملک مضطرب حالت میں ملا تھا‘ ایک جانب روس افغانستان میں پنجے گاڑھ رہا تھا اور دوسری جانب بھارت سرحدوں پر فوجیں جمع کر رہا تھا‘ اور اس وقت بھی بلوچستان میں حالات درست نہیں تھے مگر کمال حکمت عملی سے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے ان مسائل پر قابو پایاروسی جارحیت کے شکار افغانوں کی مدد کی اور 35 لاکھ سے زائد مہاجرین کو خوش دلی سے پناہ دی‘ یہ ذمہ داری جس احسن طریقے سے نبھائی اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے اور اس حوالے سے جنرل محمد ضیاء الحق شہید کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا افغان جنگ میں جب افغان مجاہدین کامیاب ہو رہے تھے تو امریکا نے بھی امداد دے کر اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی‘ صدر ضیاء الحق نے اسے مونگ پھلی قرار دے کر مسترد کردیا تھا اور اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر کو بھی افغان مہاجرین کے کیمپوں کے دورہ کی جازت نہیں دی تھی ایک بار امریکی سفیر نے وہاں جانے کی کوشش کی تھی اطلاع ملنے پر صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے حکم دیا کہ”انہیں اچھی طرح بتا دیا جائے کہ اگر جانا تو پھر واپس اسلام آباد نہیں آنا بلکہ کابل کے راستے امریکہ چلے جائیں“ یہ پیغام مل جانے پر امریکی سفیر پشاور نہیں گئے تھے‘۔افغان مجاہدین کے تمام گروپس اور تمام تنظیموں کی قیادت انہیں اپنا ہیرو اور رہنما تسلیم کرتی تھی۔ افغانستان کے گلی کوچوں، مجاہدین کے مورچوں، چیک پوسٹوں کے در و دیوار ”ضیاء الحق“ کی تصویروں سے سجے رہتے تھے اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ افغانستان کے بارے ان کا موقف اور پالیسی بہت واضح اور دو ٹوک تھی اور اس سلسلے میں وہ روس کی کوئی بات سنتے تھے اور نہ بھارت کو ہی خاطر میں لاتے تھے۔ کابل کی کٹھ پتلی حکومت کی تو ان کی نظر میں کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔صدر ضیاء الحق نے جس ہمت، جواں مردی اور حکمت عملی سے کئی برسوں تک روسی جارحیت کا مقابلہ کیا یہ ایک طرح سے کابل کا نہیں اسلام آباد کا دفاع تھا اگر خدانخواستہ روس ”کابل“ کو فتح کرلیتاتوآج پاکستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا‘ جنرل ضیاء الحق وہ شخص تھے انہوں نے 1980 کی دہائی میں اس جنگ کے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا وہ فیصلہ کن فیصلہ تھا کہ مجاہدین کیسے جنگ کو دریائے آمو کو پار کر کے سویت وسطی ایشیا میں لے جائیں گے۔ یہ صرف اور صرف ضیاء الحق کی جنگ تھی‘جنرل ضیاء الحق کی افغان جنگ میں مدد اور پشت پناہی کی پالیسی نے امریکہ اور پاکستان کو قریب کر دیا تھا اور بھارت عالمی سطح پر تنہاء ہوگیا تھا اسی اثناء میں جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں اپنے ایٹمی پروگرام کو کامیابی کے ساتھرفتہ رفتہ آگے بڑھایا‘ ان کے دور حکومت میں پاکستان کولڈ ٹسٹ کرچکا تھا‘جنرل ضیاء الحق اپنے دھیمے لہجے اور پروقار انداز میں دنیا کے شاطر اور بزعم خود، خود کو عقلِ ُکل سمجھنے والے بڑے بڑے دماغوں سے اپنی مدبرانہ سوچ اور صلاحیت سے اپنے مطلب کا کام نکالتے رہے اور پاکستان کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھاتے رہے۔ 1974 میں بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد یہ از حد ضروری تھا کہ پاکستان بھی اپنے دفاع کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرے۔ لہٰذا جنرل محمد ضیاء الحق نے نہایت تحمل، بردباری اور حکمت عملی سے پاکستان کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کر کے اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر دیا جو کہ ہر پاکستانی کا مطمع نظر تھا‘آزادی کیلیے قیامِ پاکستان کے وقت بھی قربانیاں دی گئی تھیں اور آج بھی محب وطن پاکستانی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں 17اگست 1988ء کے شہداء بہاول پور نے اپنے دل رنگ لہو سے ارضِ پاکستان کی آبیاری کی۔
صلہ شہید کیا ہے، تب و تاب جاودانہ