باعث افتخارِ انجنیئر افتخارِ چودھری
مسلم لیگ کا مینوفیکچرنگ فالٹ
اس پورے الیکشن کے ہنگامے میں مجھے اگر کسی ایک بات سے سب سے زیادہ خوشی ہوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ جس شخص کو میں عرصے سے سیاسی طوطا سمجھتا آیا ہوں، اس کی توپ اس بار نہیں چل سکی۔ سیاست میں اختلاف اپنی جگہ، تنقید اپنی جگہ، مگر بدتمیزی، تکبر اور ہر وقت دوسروں کو حقیر سمجھنے کی عادت کسی بھی سیاست دان کو عوام کے دلوں میں جگہ نہیں دلا سکتی۔ میں نے اس صاحب کو ایک ٹی وی پروگرام میں بھی کھری کھری سنائی تھیں۔ وہی صاحب پاکستان ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر پاکستان کے قیام کے بعد گزرنے والی سات دہائیوں کا حساب اس انداز میں پیش کر رہے تھے جیسے اس ملک کی تاریخ میں ڈیڑھ سال کے علاوہ باقی تمام سال کسی اور مخلوق نے گزارے ہوں۔
میں نے اس وقت بھی عرض کیا تھا کہ حضور! ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیں، اپنی ناک اتنی لمبی نہ کریں کہ آئینہ بھی شرما جائے۔ پاکستان کے مسائل صرف ڈیڑھ سال یا کسی ایک حکومت کی پیداوار نہیں۔ یہ ملک کئی دہائیوں کی غلط پالیسیوں، سیاسی مداخلتوں، کمزور اداروں، معاشی بدانتظامی اور حکمران طبقے کی غلطیوں کا مجموعہ ہے۔ اگر تاریخ کا حساب کھولنا ہے تو پھر پورا حساب کھولیے۔ جس صفحے پر اپنی حکومت کی تعریف لکھی ہے، اس کے ساتھ وہ صفحہ بھی دکھائیے جہاں اپنی جماعت کی غلطیوں کا ذکر ہے۔
مگر مسئلہ یہی ہے کہ مسلم لیگ نون کے سیاسی مزاج میں مجھے ایک عجیب سا ’’مینوفیکچرنگ فالٹ‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بہت سے بڑے بڑے سیاسی کردار ایک دوسرے کو بھی برا بھلا کہتے ہیں، ایک دوسرے کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں، ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن جب بات عمران خان کی آتی ہے تو سب ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جیسے کسی فیکٹری میں ایک ہی مشین سے نکلنے والی مصنوعات ہوں؛ شکلیں الگ ہوں، آوازیں الگ ہوں، مگر اندر سے پرزہ ایک ہی لگا ہو۔
یہاں میرا اعتراض کسی ایک شخص پر نہیں بلکہ سیاسی رویے پر ہے۔ اختلاف کیجیے، عمران خان کی پالیسیوں پر تنقید کیجیے، تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی کا احتساب کیجیے، مگر ہر گفتگو کا اختتام گالی اور الزام پر کیوں ہوتا ہے؟ کیا سیاست کا مطلب یہی رہ گیا ہے کہ مخالف کو برا کہو، اس کے کارکن کو برا کہو اور پھر اپنے آپ کو جمہوریت کا علمبردار قرار دے دو؟
حالیہ انتخابی ماحول میں ایک اور منظر بھی بڑا دلچسپ رہا۔ بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے امن و امان کے لیے وفاقی اداروں، ایف سی یا رینجرز کی مدد کی باتیں سامنے آئیں۔ اگر کوئی صوبائی حکومت یا سیاسی جماعت واقعی سمجھتی ہے کہ حالات اتنے خراب ہیں کہ اضافی فورس درکار ہے تو یہ انتظامی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن پھر قومی اداروں کے اہلکاروں کے بارے میں سیاسی زبان استعمال کرنا انتہائی نامناسب ہے۔
یہ فورسز کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں۔ نہ ایف سی کسی مسلم لیگ کی ہے، نہ رینجرز کسی تحریک انصاف کی، نہ پولیس کسی پیپلز پارٹی کی۔ یہ پاکستان کے ادارے ہیں، پاکستانی عوام کے محافظ ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر قومی اداروں کے اہلکاروں کی تضحیک یا انہیں سیاسی بحث کا موضوع بنانا کسی بھی ذمہ دار سیاست دان کو زیب نہیں دیتا۔
مجھے حیرت اس وقت ہوتی ہے جب وہ جماعت، جس کی تاریخ پاکستان کے قیام سے جڑی ہوئی ہے، اپنے ہی بیانیے میں پاکستان کی تاریخ کو اتنا معمولی بنا دیتی ہے۔ مسلم لیگ کا نام سنتے ہی ہمیں تحریک پاکستان، قائداعظم، برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد اور لاکھوں قربانیوں کا خیال آتا ہے۔ یہ کوئی معمولی وراثت نہیں۔
پاکستان کسی معمولی سیاسی سودے کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے قیام کے لیے لاکھوں انسانوں نے ہجرت کی، ہزاروں خاندان اجڑے، بے شمار لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ تقسیم ہند کے خون آشام دنوں کو اگر کوئی ’’چھوٹی سی لکیر‘‘ کہہ کر بیان کرے تو شاید اسے تاریخ کی کتاب دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔
دو ملکوں کے درمیان سرحد کی لکیر کاغذ پر شاید چند انچ کی ہو، مگر اس لکیر کے پیچھے تاریخ، خون، ہجرت، قربانی اور ایک قوم کا اجتماعی شعور کھڑا ہوتا ہے۔ یہ لکیر ان لوگوں کے لیے چھوٹی نہیں تھی جنہوں نے اپنے گھر، زمینیں، کاروبار اور اپنے پیارے چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا۔
اور پھر سوال یہ ہے کہ جس مسلم لیگ نے پاکستان بنایا، اس کی موجودہ سیاست پاکستان کے عوام کو کیا دے رہی ہے؟
کیا کسان مطمئن ہے؟
کیا دکاندار مطمئن ہے؟
کیا نوجوان مطمئن ہے؟
کیا متوسط طبقہ مطمئن ہے؟
کیا بجلی کے بل، مہنگائی، ٹیکس اور روزگار کے مسائل ختم ہو گئے ہیں؟
اگر نہیں ہوئے تو پھر صرف مخالف کو گالی دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
مجھے تو اس وقت سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ ہمارے سیاست دان اپنی جماعتوں کی خامیوں پر بات کرنے کے بجائے مخالف جماعت کے خلاف مستقل محاذ بنائے رکھتے ہیں۔ عمران خان سے اختلاف ہے تو ضرور کریں۔ ان کی حکومت کے ڈیڑھ سال، ساڑھے تین سال یا جتنے بھی سال کا حساب لینا ہے، ضرور لیں۔ مگر پھر اپنے پندرہ سال، بیس سال، تیس سال اور پورے سیاسی سفر کا حساب بھی عوام کے سامنے رکھیں۔
یہی جمہوریت ہے۔
یہی سیاسی دیانت ہے۔
اور یہی وہ چیز ہے جو ہماری سیاست سے سب سے زیادہ غائب ہے۔
مجھے اس الیکشن میں اس لیے خوشی ہوئی کہ عوام نے کم از کم یہ پیغام ضرور دیا کہ ہر سیاسی طوطے کی چونچ میں بارود نہیں ہوتا۔ ہر بلند آواز شخص مقبول نہیں ہوتا۔ ہر ٹی وی پروگرام میں زور سے بولنے والا عوام کا نمائندہ نہیں بن جاتا۔ عوام کبھی کبھی خاموش رہ کر بھی ایسا فیصلہ کر دیتے ہیں کہ بڑے بڑے سیاسی دعوے زمین پر آ گرتے ہیں۔
میں کسی کی شکست پر جشن منانے کے حق میں نہیں۔ سیاست میں آج کا فاتح کل کا شکست خوردہ اور آج کا شکست خوردہ کل کا فاتح ہو سکتا ہے۔ مگر جو لوگ عوام کو مسلسل بے وقوف سمجھتے رہیں، جو ہر ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیں، جو اپنی جماعت کی غلطی کو بھی کامیابی کا نام دیں اور مخالف کی کامیابی کو بھی سازش قرار دیں، انہیں ایک دن عوام کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مسلم لیگ نون کے اندر اگر واقعی کوئی صاحبِ فکر آدمی موجود ہے تو اسے اپنی جماعت سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: آخر ہم ہر وقت عمران خان ہی کے خلاف کیوں بولتے ہیں؟ کبھی اپنی جماعت کے اندر بھی جھانک کر دیکھیں۔ کبھی کسان کی حالت دیکھیں، کبھی چھوٹے تاجر کی پریشانی سنیں، کبھی نوجوان کے ہاتھ میں ڈگری اور جیب میں بے روزگاری دیکھیں، کبھی عام آدمی کے بجلی کے بل کو غور سے پڑھیں۔
اور سب سے بڑھ کر، اپنے سیاسی ورثے کو یاد کریں۔
یہ وہ مسلم لیگ تھی جس کے نام کے ساتھ پاکستان کی تخلیق کی تاریخ لکھی گئی ہے۔ اس ورثے کو صرف انتخابی نعروں، مخالفین پر حملوں اور ٹی وی پروگراموں کی تند و تیز گفتگو تک محدود نہ کریں۔ قائداعظم کے نام پر سیاست کرنا آسان ہے، قائداعظم کے اصولوں پر سیاست کرنا مشکل ہے۔
آج پاکستان کو گالیوں کی نہیں، دلیل کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو سیاسی انتقام کی نہیں، قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو ایک دوسرے کی کردار کشی کی نہیں، قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔
اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو یہ ماننے کا حوصلہ رکھتے ہوں کہ غلطی ہماری جماعت سے بھی ہو سکتی ہے۔
ورنہ طوطے آتے رہیں گے، توپیں چلانے کے دعوے کرتے رہیں گے، ٹی وی اسکرینوں پر چونچیں ہلاتے رہیں گے، لیکن فیصلہ آخرکار عوام ہی کریں گے۔
اور عوام کا فیصلہ کسی اینکر، کسی ترجمان، کسی پارٹی عہدیدار یا کسی سیاسی طوطے کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔
یہ اختیار صرف عوام کے پاس ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ عوام کو آزادانہ فیصلہ کرنے دیا جائے۔
