نومولود بچوں کے چھن جانے کا غم

آج اسلام آباد کا سورج بھی کیا غم لے کے طلوع ہوا؟
کمسن نومولود بچوں کے چھن جانے کا غم ۔۔۔ ایک باپ غمزدہ ہے چار سال بعد پچہ پیدا ہو چل بسا ۔۔۔ ماں کہتی ہے زمیں سے نہیں اٹھوں گی پہلے میرا بچہ دکھاو ۔
ہر ویڈیو دکھ بھری ہے ۔ ایک شخص کی جڑواں بچے پیدا ہوئے تین دن کے تھے ابھی نام نہیں رکھے تھے کہ چل بسے ، اب کس نام سے انہیں یاد رکھیں؟ ماں اسپتال میں زیر علاج ہے اور اسے پتہ ہی نہیں۔
حادثہ ہوتا ہے تو اپنوں کے اچانک پچھڑے کا غم ہوتا ہے ۔ مگر یہاں حادثات کے بعد کے بھونڈے اقدامات اس دکھ اور تکلیف کو بڑھاوا دے کر غصے مایوسی اور نفرت میں بدل دیتے ہیں۔
منیبہ ایک کم عمر بچی ہے وہ اگر آگ دھویں سے گزر کر اپنے بھتیجے اور دو خواتین کو بچا کر نکال لاسکتی تھی تو عملے کے کسی فرد نے یہ کام کیوں نہ کیا ۔ ایک اور فرد جس کا اپنا بچہ دم توڑ گیا وہ دیگر کو ریسکیو کرتا رہا۔۔۔
اور ایمرجنسی ایگزٹ کی جگہ دیوار توڑ کر سیڑھی سے باہر نکالنے کا منظر تو دیکھ چکے سب ۔
وزیر صحت کی پریس کانفرنس کے دوران ایک بزرگ نے کچھ بول دیا تو بجائے خاموش رہنے کے اس پر ہی غصے سے بولنے لگے ۔۔ بندہ زرا شرمندہ نادم اور دکھی ہونے کی ایکٹنگ ہی کر لیتا ہے موقع محل کے مطابق ۔۔ مگر ان کی زبان کی کڑواہٹ ہی ختم نہیں ہوتی ۔
ہمارے ہاں کسی دکھیارے کا غم ہلکا کرنے کیلئے اسے گلے لگانے اس کے سر پر ہاتھ رکھنے اس کے آنسو پونچھنے اس کے ساتھ زمین پر بیٹھ جانے کا رواج ہی نہیں سرے سے ۔
ایسے موقعوں پر پولیس ، اور متعلقہ انتظامی عملے کا رویہ الگ تکلیف دینے والا ہوتا ہے ۔
اور افسر شاہی تو افسر شاہی ہے ان کی ٹائی کی ناٹ بھی ڈھیلی
نہیں ہوتی ۔
یہ سب رویے حادثوں سے بڑے سانحے بن جاتے ہیں ۔ نجانے ہمارے رویوں میں نرمی کیسے پیدا ہوگی ۔
کیا ہمیں بنیادی اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کے الگ سے کورس سکولوں میں رائج کرنا ہونگے ؟ اصولا اسکولوں سے پہلے تو ایسے کورس سول سروسز اکیڈمیوں میں شروع ہونے چاہیے ۔