پمز ہسپتال میں کیا ہوا؟

میاں منیر احمد
آگ بھڑکی‘ دھواں پھیلا اور والدین کا مستقبل‘ خواب سب کچھ بکھر گیا‘ ابتدائی طور تو یہی کہا جارہا ہے کہ پمز ہسپتال میں گائینی وارڈ کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں ائر کنڈیشنر کا کنڈنسر پھٹنے سے آگ لگء مگر ایک متاثرہ ماں کی بات ہی یہاں سے شروع ہوئی کہ آگ انہوں نے خود لگائی‘ آگ سے چودہ خاندانوں کے چشم و چراغ اس نظام کے ہاتھوں اپنی زندگی ہار گئے‘ جس نظام پر پوری قوم عدم اعتماد کر رہی ہے اور کر چکی ہے‘ وقوعہ کے وقت کوریڈور میں مریضوں کے کچھ لواحقین موجود تھے‘ لیکن کسی کو وارڈ کے اندر نہیں جانے دیا گیا اُسی دوران NICU کا عملہ تالا لگا کر واپس چلاگیا۔ ہسپتال کے مرکزی دروازے پر موجود ریڑھی بان کے مطابق صبح جب آگ لگی تو فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پندرہ منٹ تک دروازے میں کھڑی رہی کیونکہ سیکوریٹی گارڈ دروازہ کو تالا لگا کر ناشتہ کرنے چلے گئے تھے‘ یہ واقعہ سازش ہے یا نہیں‘ یہ سب کچھ تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا‘ تاہم یہ انتہاء درجے کی غفلت ہے اور بھی ہسپتال میں‘ آگ لگنے کے واقع کے بعد متعدد سیاسی راہنماء بھی آئے اور اپنی بات کرکے چلے گئے‘ انہوں نے حکومت کی مذمت کی‘ سیاسی راہنماؤں کی گفتگو سے ماحول بہت ہی ذیادہ گرم ہوچکا تھا اور اس لیے جب آگ لگنے کے واقعہ کے بعد وزیر صحت مصطفی کمال ہسپتال آئے‘ تو لوگوں نے ان سے بات بھی نہیں کی اور وہ بھی مرہم رکھنے کی بجائے زبان کی تلوار سے لواحقین کے زخم گہرے کرید کر چل دیے‘ ان کے سامنے متاثرہ مائیں‘ جان کی بازی ہارنے والے بچوں کے والدین‘ لواحقین فریادی بن کر کھڑے تھے‘ جنہیں پرسا کی ضرورت تھی مگر وہ لواحقین کو پرسا نہیں دے سکے‘اسلام آباد پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے باعث 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کا دلخراش واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ جس کی فوری جوڈیشل انکوائری کرائی جانی چاہئے تاکہ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پمز سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں کے حفاظتی آڈٹ کو یقینی بنایا جائے ان تمام ذمہ داران کو فوری برطرف کرکے انکے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے والدین کی مدعیت میں ان پر مقدمات قائم کئے جائیں, حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے مگر سوال یہ ہے کہ
• پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر (ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اسلام آباد)
• پروفیسر رضوان تاج (ڈین، پمز اسلام آباد)
• ڈاکٹر اقبال درانی (جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، اسلام آباد)
• ڈاکٹر عنیزہ جلیل (ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پمز اسلام آباد)
• ڈاکٹر ارم نوید (ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پمز اسلام آباد)
یہ پانچ لوگ اس سانحے کے زمہ دار ہیں ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟
پمز ہسپتال میں آگ بجھانے کا کوئی طریقہ ہی نہیں ہے اور یہ پچھلے کئی سالوں سے ایسا ہی ہے، آج جب آگ لگی تو ریسکیو ٹیمیں ایک گھنٹے بعد پہنچیں، ہسپتال کا سٹاف ہسپتال میں موجود ہی نہیں تھا پمز اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر اور دیگر اعلی حکام کو بھاری تنخواہیں مراعات حاصل ہیں لیکن انکی غفلت,لاپرواہی کی وجہ سے آج اتنا بڑا سانحہ ہوا پندرہ نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے,ان ملازمین,آفیسرز کی فوج ظفر موج غائب رہی,یہ سانحہ ان ملازمین کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے,ان ڈاکٹرز نے ہسپتالوں کو قصاب خانوں میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے‘ پاکستان کے جمہوری نظام میں‘ آئین پاکستان کی بہت اہمیت ہے‘(اس پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو یا نہ ہو ایہ ایک الگ بات ہے),اٹھارویں ترمیم کے بعد پاکستان کی وفاقی وزارتِ صحت کے انتظام میں صرف 6 اسپتال ہیں، جن میں سے 4 اسلام آباد، ایک راولپنڈی اور ایک لاہور میں ہے‘ ایک وزیر کے ذمہ کل چھ ہسپتال ہیں ان میں بھی دو تو اسلام آباد میں ہیں‘صرف 6 اسپتالوں کے لیے ایک وفاقی وزیر بھی مقرر کیا گیا ہے جو ان 6 اسپتال کو بھی نہیں سنبھال سکتے‘پمز ہسپتال میں پندرہ معصوم جانوں کا ضیاع محض ایک سانحہ نہیں، یہ وفاقی وزارتِ صحت اور ہسپتال کے انتظامی نظام کی کھلی ناکامی ہے۔ پورے پاکستان، خصوصاً اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں شہریوں کا انحصار پمز پر ہے، مگر یہاں عملے کی کمی، ضروری طبی آلات کا فقدان اور بدانتظامی نے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔وزراء اور حکام دورے کرتے ہیں، وی آئی پی پروٹوکول میں عارضی انتظامات کیے جاتے ہیں، تصویریں بنتی ہیں اور افسران کو سب اچھا دکھا دیا جاتا ہے، لیکن جیسے ہی دورہ ختم ہوتا ہے سہولیات پھر غائب ہو جاتی ہیں۔ یہ عوام کی زندگیوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔پندرہ بچے کسی کے لختِ جگر تھے، پندرہ ماؤں کی امیدیں تھے، پندرہ خاندانوں کے خواب تھے۔ ایک ماں نو ماہ اپنے بچے کو اپنے وجود میں پالتی ہے، اور پھر ناقص نظام، سہولیات کے فقدان اور غفلت کے باعث اس کا بچہ دنیا سے چلا جائے تو اس درد کا کوئی ازالہ نہیں۔وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کو اس سنگین ناکامی کی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔
پمز سانحے کے تمام ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات، سخت ترین کارروائی اور عبرتناک احتساب ہونا چاہیے۔