اسلام آباد—- نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا کے ہمراہ پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور حالیہ افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر صدر الخدمت فاؤنڈیشن اسلام آباد الطاف شیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔
پمز ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت سے اسلام آباد کے دو ہسپتال نہیں چلائے جارہے، ملک کیسے چلائیں گے؟ پمز میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، اس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ حکمران قوم کے سامنے جوابدہ ہیں اور انہیں اس واقعے کا جواب دینا ہوگا۔ پمز ہسپتال میں اس نوعیت کا واقعہ حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔
لیاقت بلوچ نے وزیر صحت سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر صحت مستعفی ہوکر خود کو احتساب کے لیے پیش کریں اور قوم سمیت متاثرہ بچوں کے لواحقین سے اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری صحت یا کسی ایک عہدیدار کو ہٹانا مسئلے کا حل نہیں، اصل ذمہ داری ان حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جو ملک میں حکمرانی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسا طرز حکمرانی اور گڈ گورننس ہے؟ حکمران بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور اشتہارات کے ذریعے اپنی کارکردگی کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن پمز کے حالات دیکھیں تو ان حکمرانوں کی کارکردگی کے دعووں کی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان حکمرانوں سے نہ ہسپتال چل رہے ہیں، نہ تعلیمی ادارے بہتر انداز میں چلائے جارہے ہیں اور نہ ہی عوام کی جان و مال کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جاسکا ہے۔ وزیراعظم اجلاس بلا کر میتوں پر دعا ہی کرسکتے ہیں، لیکن ایسے واقعات کی روک تھام اور ذمہ داروں کا تعین بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ پمز واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور قوم کو بتایا جائے کہ واقعے کے وقت ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں تاخیر سے کیوں پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ہونے والی انتظامی غفلت اور کوتاہیوں کا تعین کیا جائے، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں
