رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
تحریر انجینئر افتخار چودھری

کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے آنکھیں الفاظ پر نہیں رہتیں، دھندلا جاتی ہیں۔ کچھ موتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں انسان بار بار سوچتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ ابھی تو وہ نوجوان تھا، ابھی تو اس نے زندگی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا، ابھی تو اس کے والد نے اس کے مستقبل کے خواب دیکھنے شروع کیے تھے، ابھی تو چین کی سچوان یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے وہ اپنے وطن واپس آیا تھا۔ مگر پھر ایک خبر آئی اور ایک آباد گھر کے اندر اچانک ایسی خاموشی اتر گئی جسے شاید عمر بھر کوئی آواز نہیں توڑ سکے گی۔
یہ میرے دیرینہ دوست، معروف صحافی شاکر سولنگی کے جواں سال بیٹے شیراز کی اچانک وفات کی داستان ہے۔
شاکر سولنگی سے میری دوستی 2007ء سے ہے۔ برسوں کا تعلق محض ملاقاتوں کا نام نہیں ہوتا، اس میں دکھ سکھ، خوشیاں، پریشانیاں اور زندگی کے بہت سے موسم شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی تعلق نے مجھے مجبور کیا کہ جب شیراز کے انتقال کی خبر ملی تو میں تعزیت کے لیے ان کے گھر جاؤں۔
سندھ کشمور سے گل محمد جا کرانی بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔ برادرِ محترم حضور قریشی اور منیر صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔ ہم سب وہاں ایک ایسے باپ کے سامنے بیٹھے تھے جس کے لیے الفاظ شاید دنیا کی سب سے بے معنی چیز بن چکے تھے۔
ہم نے شاکر بھائی سے پوچھا کہ آخر ہوا کیا؟
انہوں نے بتایا کہ شیراز کو تھوڑی سی تکلیف ہوئی تو ہم نے سوچا کہ ساتھ والے ہسپتال لے جاتے ہیں۔ ہسپتال پہنچے تو طبیعت کچھ سنبھل گئی۔ ظاہر ہے، والدین کے لیے یہ اطمینان کی بات تھی۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ستائیس، ساڑھے ستائیس برس کا ایک نوجوان، جو ابھی چین سے اپنی تعلیم مکمل کرکے لوٹا ہے، جس کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے، اس کے دل میں ایسی گھڑی چھپی ہوئی ہے جو اسے ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا کردے گی؟
وہ گھر واپس آیا۔
سویا۔
اور پھر صبح نہ اٹھ سکا۔
اس کا بھائی بھی اسی کے ساتھ سویا ہوا تھا۔ رات نے دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھا تھا، مگر صبح نے ایک کو زندہ اور دوسرے کو ہمیشہ کے لیے خاموش پایا۔
ایسے واقعات پر انسان کے پاس کیا الفاظ ہوتے ہیں؟
شہزاد احمد کا شعر بار بار دل میں اترتا ہے:
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
واقعی شیراز بھی تو کوئی الوداع کہہ کر نہیں گیا۔ نہ باپ کو آخری بار دیکھنے کا موقع ملا، نہ ماں کو خبر ہوئی، نہ بھائی کو اندازہ ہوا کہ جس بھائی کے ساتھ وہ سو رہا ہے، صبح وہ اس کے پاس نہیں ہوگا۔
شاعر نے آگے کہا:
وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آ گئی
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا
موت شاید اسی کا نام ہے۔ انسان کو احساس تک نہیں ہونے دیتی کہ جدائی کتنی قریب آچکی ہے۔
اور پھر ایک اور مصرع دل پر دستک دیتا ہے:
یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
یہی تو والدین کے ساتھ ہوتا ہے۔ بیٹا چلا جائے تو گھر کے دروازے پر ایک ایسی امید کھڑی رہتی ہے جو جانتی ہے کہ وہ واپس نہیں آئے گا، مگر دل پھر بھی کہتا ہے شاید دروازہ کھلے، شاید وہ اندر آجائے، شاید آواز دے، شاید کہے کہ میں آگیا ہوں۔
مگر موت واپس نہیں آنے دیتی۔
ایک باپ کے لیے جوان بیٹے کی موت شاید زندگی کے سب سے بڑے صدمات میں سے ایک ہے۔ باپ جب اپنے بیٹے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ ایک دن یہی بچہ اس کا سہارا بنے گا۔ بیٹا بڑا ہوتا ہے تو باپ کو اپنی جوانی واپس آتی محسوس ہوتی ہے۔ وہ بیٹے میں اپنا مستقبل دیکھتا ہے، اپنی محنت کا ثمر دیکھتا ہے، اپنے بڑھاپے کی لاٹھی دیکھتا ہے۔
شاکر بھائی نے بھی اپنے بیٹے کے لیے خواب دیکھے تھے۔
بڑی محنت سے اسے چین بھیجا۔
اسے تعلیم دلوائی۔
اسے ڈاکٹر بنایا۔
اس کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی۔
ایک باپ اپنی اولاد کو صرف ڈگری نہیں دیتا، وہ اپنی عمر کے کئی سال اس کے مستقبل کے نام کردیتا ہے۔ جب بچہ کامیاب ہوتا ہے تو باپ کی آنکھوں میں اپنی ساری محنت کی چمک نظر آتی ہے۔
شیراز ابھی چین سے پڑھ کر آیا تھا۔ ابھی تو اس کی کامیابی کی خوشی پوری طرح گھر میں اتری بھی نہ تھی۔ ابھی تو شاید اس کے لیے نئے خواب بنائے جا رہے تھے۔ ابھی تو باپ یہ سوچ رہا ہوگا کہ میرا بیٹا اب اپنے پیشے میں نام پیدا کرے گا، لوگوں کی خدمت کرے گا، میرا سہارا بنے گا۔
لیکن قدرت نے فیصلہ کچھ اور لکھ رکھا تھا۔
ہم انسان ہیں۔ ہم منصوبے بناتے ہیں، اللہ تقدیر بناتا ہے۔
قرآن مجید کا فرمان ہے:
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
یہ جملہ ہم غم کے موقع پر پڑھتے ہیں، مگر اس میں زندگی کی سب سے بڑی حقیقت پوشیدہ ہے۔ جسے ہم اپنا سمجھتے ہیں، وہ دراصل اللہ کی امانت ہے۔ اولاد بھی، والدین بھی، دوست بھی، صحت بھی، جوانی بھی، زندگی بھی۔
امانت جب واپس لی جاتی ہے تو دل ضرور ٹوٹتا ہے، آنکھ ضرور روتی ہے، مگر بندہ اپنے رب کے فیصلے کے سامنے سر جھکا دیتا ہے۔
میں خود باپ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی بیٹوں کی نعمت عطا کی ہے۔ جب اپنے بیٹے آپ کا خیال رکھتے ہیں، آپ کی ضرورت کو سمجھتے ہیں، آپ کے بڑھاپے میں آپ کا سہارا بنتے ہیں تو دل میں ایک عجیب سا اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ تب انسان سمجھتا ہے کہ بیٹا واقعی باپ کی لاٹھی ہوتا ہے۔
اسی لیے میں شاکر بھائی کے درد کو محسوس کرسکتا ہوں، اگرچہ اس درد کی گہرائی کو مکمل طور پر محسوس کرنا شاید اسی باپ کے لیے ممکن ہے جس کی آنکھوں کے سامنے اس کا جوان بیٹا دنیا سے رخصت ہوگیا ہو۔
اور اس وقت سب سے مشکل مرحلہ شاید جنازے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
لوگ آتے ہیں، تعزیت کرتے ہیں، گلے ملتے ہیں، تسلی دیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
مگر باپ گھر میں رہ جاتا ہے۔
وہی گھر۔
وہی کمرہ۔
وہی چیزیں۔
وہی یادیں۔
بس بیٹا نہیں ہوتا۔
کبھی دروازے کی طرف دیکھتا ہوگا، کبھی بیٹے کی کوئی چیز سامنے آجاتی ہوگی، کبھی اس کی آواز کا گمان ہوگا۔ دل ایک لمحے کے لیے کہے گا شاید یہ سب خواب ہے، مگر اگلے ہی لمحے حقیقت سامنے کھڑی ہوگی۔
ایسے وقت میں دنیا کی کوئی طاقت انسان کو مکمل سہارا نہیں دے سکتی۔ صرف اللہ کا سہارا باقی رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔
صبر کا مطلب یہ نہیں کہ آنکھ سے آنسو نہ نکلیں۔ صبر تو یہ ہے کہ آنکھ روئے مگر دل اللہ سے بدگمان نہ ہو۔ انسان ٹوٹ جائے مگر اپنے رب کا دامن نہ چھوڑے۔
شاکر بھائی!
آپ کا یہ دکھ ہم ختم نہیں کرسکتے۔ آپ کے بیٹے کو واپس نہیں لاسکتے۔ ہم صرف آپ کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، آپ کا ہاتھ تھام سکتے ہیں اور آپ کے لیے دعا کرسکتے ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شیراز کی کامل مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند فرمائے، اس کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اسے اپنے والدین کے لیے آخرت میں باعثِ اجر بنا دے۔
اللہ تعالیٰ شاکر سولنگی اور ان کے تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اور شاید اس پوری داستان کا سب سے دردناک خلاصہ یہی ہے:
وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آ گئی،
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا۔
شیراز رخصت ہوگیا، مگر اپنے پیچھے ایک باپ کا ایسا دل چھوڑ گیا ہے جس میں اس کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا۔