قائدِ حریت سیّد علی گیلانی کی پانچویں برسی زبردست خراجِ تحسین

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے قائدِ حریت سیّد علی گیلانی کی پانچویں برسی پر اُنہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیّد علی گیلانی کی پوری زندگی تحریکِ آزادی کشمیر اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کا درخشندہ باب ہے۔ عظیم کشمیری رہنما نے ہر قسم کے بھارتی ظلم و ستم کے سامنے نہ جھکنے اور نہ دبنے کا بےمثال مظاہرہ کرکے کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کےلئے ایک ایسی روشن مثال قائم کی جو رہتی دُنیا تک اپنی آزادی اور حقِ خودارادیت کےلئے جدوجہد اور مزاحمت کے راستے پر گامزن اقوام کےلئے مشعلِ راہ ہے۔ کم و بیش چودہ سال تک غاصب بھارتی حکومت نے قائدِ حریت سیّد علی گیلانی کو قید و بند اور نطربندی کی اذیتوں سے گزارا لیکن اُن کے پایہ استقامت میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی۔ اُمتِ مسلمہ کے وحدت و اتفاق کے جذبے کی بدولت وہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے زبردست حامی تھے۔
اسلام آباد میں تاجر تنظیموں کے قائدین اور کشمیری رہنماؤں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ عظیم حریت رہنما کی مدبرانہ، دلیرانہ اور کشمیر کاز کے لئے پر عزم قیادت اور پاکستان سے ان کی بے لوث محبت نے اُنہیں نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پوری اُمتِ مسلمہ کی آنکھ کا تارا بنادیا۔ اُن کی زندگی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی، جابرانہ اور ظالمانہ تسلط کے خلاف مزاحمت کی قابلِ فخر علامت ہے۔ پاکستانی عوام اِس عظیم قائد کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے کشمیری عوام کی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔
ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ فلسطین کی طرح مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے حل طلب ایشو ہے۔ اقوامِ متحدہ کی درجنوں قراردادیں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتی ہیں اور وہاں پر کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق استصوابِ رائے کا مطالبہ کرتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے بھارت عالمی فورم پر وعدوں اور یقین دہانی کے باوجود آج تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں استصوابِ رائے کرانے سے گریزاں ہے ۔ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کی بجائے بھارت کم و بیش 8 لاکھ فوج، پیرا ملٹری فورسز کیساتھ وادی کے عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو ہٹ دھرمی پر مبنی اِس رویے سے باز رکھنے کے لئے اُس پر دباؤ ڈالے اور اُسے اپنے وعدوں پر عمل کرنے پر مجبور کرے۔ پاکستانی اور کشمیری عوام کا یہی مطالبہ ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیا جائے لیکن بھارت اِس جائز اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مطالبے سے فرار کی راہ اختیار کرکے وادی کے عوام کو جبر و استبداد اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر ساتھ ملانے کی روِش پر عمل پیرا ہے، جسے نہ پہلے کشمیری عوام نے قبول کیا تھا اور نہ ہی آئندہ قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔
لیاقت بلوچ نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے حق سچ کی فتح قرار دیا ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے یکطرفہ بھارتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بدستور نافذ العمل قرار دیا ہے اور بھارت کو حکم دیا ہے کہ وہ اِس کی پاسداری کرے۔ یہ فیصلہ فاشسٹ مودی کے لئے پیغام ہے کہ وہ عالمی قوانین کو نظرانداز کرکے خطے میں اپنی من مانی نہیں کرسکتا ۔ سندھ طاس معاہدے کا گارنٹر اور ثالث عالمی بنک ہے لہٰذا عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ دوٹوک اور واضح فیصلے کے بعد عالمی بنک اِس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر بھارت سے جواب طلبی کرے اور اِسے معاہدے کی شقوں کا پابند بنانے کےلئے اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان کے حصے کا پانی روک کر بھارت ہماری زمینوں کو بنجر کرانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، پانی ملکی زراعت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اگر بھارت باز نہ آیا تو خدانخواستہ آئندہ پانی کے مسئلے پر پاک بھارت جنگ چھڑسکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری فاشسٹ مودی حکومت پر عائد ہوگی۔