ایک کے بعد ایک نیا سوال

پاکستان سمیت عالمی صورتحال ،پریشان کن لیکن کنٹرول سے باہر نہیں

تجزیہ : محمد اجمل خان سینئرجرنلسٹ

کیا امریکاا ایران جنگ پھر شروع ہونے والی ہے کیا متوقع ہے ،کیا نتین یاہو اور
ٹرمپ الکشن جیتنے کے لیے کوئی بڑا دھماکہ کر سکتے ہیں عرب ملکوں حوثی حملے
کیا رنگ لائیں گے مزید حملے کب کہاں کیوں متوقع ہیں عرب کی کثیر الملکی فوج
کہاں کیا کر رہی ہے جنرل راحیل اس کے کمانڈر ہیں یا کوئی او،ر چین افضانستان
ترکی افغانستان تعلقات کس نہج پر ہیں، عاصم منیر ایران سے کچھ لے سکے یا
خالی ہاتھ واپس لوٹے ،پاکستان میں اسمگلنگ منشیات لاقانونیت کہاں تک پہنچ گئی ،
کےپی کے بھی کنٹرول کرکے 47 حکومت لانے والوں کو کیا ملا ، کیا وہ اپنا پلان
مکمل کرکے ہمیشہ طاقتور بن جائیں گے یاانہیں کوئی جھٹکا بھی ملے گا پی ٹی آئی
کو غداروں کا ٹولہ کہہ سکتے ہیں یا نہیں ، پاکستانی عوام سے کیا کچھ توقع کی
جا سکتی ہے کہ اپنے حق کے لیے اٹھ جائیں گے؟

یہ اہم سیاسی و سکیورٹی سوالات ہیں۔ ان میں سے کئی باتیں مستقبل کی پیش گوئی
سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں یقینی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ تجزیے کے طور
پر دیکھنا چاہیے۔ جوابات تلاش کرتے ہیں
کیا امریکا، ایران جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے؟
امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوئی، اس لیے
محدود فوجی جھڑپوں، پراکسی حملوں یا دباؤ کی سیاست کا امکان ہمیشہ رہتا
ہے۔ تاہم مکمل اور طویل جنگ کا فیصلہ بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے اکثر
فریق دباؤ اور مذاکرات دونوں راستے ساتھ ساتھ رکھتے ہیں۔

کیا نیتن یاہو اور ٹرمپ الیکشن جیتنے کے لیے کوئی بڑا اقدام کر سکتے ہیں؟
کسی بھی رہنما کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ انتخاب جیتنے کے لیے ضرور جنگ
یا “بڑا دھماکہ” کرے گا، ثبوت کے بغیر درست نہیں۔ البتہ تاریخ بتاتی ہے کہ
قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی اکثر انتخابی سیاست پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ یہ
ایک سیاسی امکان تو ہو سکتا ہے، یقینی دعویٰ نہیں۔

حوثی حملوں کا کیا اثر ہوگا؟
حوثیوں کی کارروائیوں کا بنیادی اثر بحری راستوں، تجارت اور علاقائی سکیورٹی
پر پڑتا ہے۔ اگر حملے بڑھتے ہیں تو بحیرہ احمر اور خلیجی تجارت مزید متاثر ہو
سکتی ہے۔ لیکن “کب اور کہاں” حملہ ہوگا، اس کی کوئی قابلِ اعتماد
پیش گوئی موجود نہیں۔

عرب کی کثیرالملکی فوج کہاں ہے؟ کیا جنرل راحیل شریف اس کے کمانڈر ہیں؟
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن (IMCTC)
موجود ہے اور دستیاب معلومات کے مطابق جنرل (ر) راحیل شریف اب بھی
اس کے کمانڈر ہیں۔ یہ اتحاد بنیادی طور پر انسداد دہشت گردی تعاون، تربیت اور رابطہ کاری کے لیے ہے، کوئی ایسی متحدہ فوج نہیں جو روزانہ میدان جنگ میں ایک ہی کمان کے تحت لڑ رہی ہو۔

چین، ترکی اور افغانستان کے تعلقات؟
چین افغانستان میں استحکام، تجارت اور سکیورٹی چاہتا ہے۔ ترکی بھی کابل کے
ساتھ رابطے رکھتا ہے اورعلاقائی تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم دہشت گردی،
سرحدی سلامتی اور بین الاقوامی تسلیم کیے جانے جیسے مسائل اب بھی رکاوٹ ہیں۔
مجموعی طور پر تعلقات تصادم سے زیادہ محتاط تعاون کی طرف دکھائی دیتے ہیں۔

کیا عاصم منیر ایران سے کچھ لے کر آئے یا خالی ہاتھ لوٹے؟
عوامی معلومات کے مطابق ملاقاتوں میں علاقائی امن، ایران۔امریکا کشیدگی میں کمی،
اور سفارتی رابطوں پر گفتگو ہوئی۔ بعض ایرانی اور پاکستانی ذرائع نے ان رابطوں کو
مثبت قرار دیا ہے، لیکن کوئی ایسی بڑی عوامی دستاویزی کامیابی سامنے نہیں آئی
جسے فیصلہ کن سفارتی فتح کہا جا سکے۔

پاکستان میں اسمگلنگ، منشیات اور لاقانونیت کہاں تک پہنچی؟
یہ مسائل اب بھی سنجیدہ ہیں، خاص طور پر سرحدی علاقوں اور بعض شہروں
میں۔ تاہم مختلف ادارے ان کے خلاف کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ کہنا درست
نہیں ہوگا کہ پورا ملک مکمل طور پر کنٹرول سے باہر ہو گیا ہے، لیکن عوامی سطح
پر تشویش ضرور موجود ہے۔

“47 حکومت” لانے والوں کو کیا ملا؟
یہ ایک سیاسی رائے کا معاملہ ہے۔ مختلف جماعتیں اور مبصرین 2024 کے
انتخابات اور اس کے نتائج کی مختلف تشریحات کرتے ہیں۔ کوئی غیر جانبدار تجزیہ
یہی کہے گا کہ طاقت کے مراکز وقتی طور پر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں، مگر
سیاسی نظام میں کوئی گروہ ہمیشہ کے لیے ناقابلِ چیلنج نہیں رہتا۔ تاریخ میں
اکثر طاقتور قوتوں کو بھی کسی نہ کسی مرحلے پر سیاسی، عوامی یا معاشی دباؤ
کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کیا پی ٹی آئی کو غداروں کا ٹولہ کہا جا سکتا ہے؟
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی پوری سیاسی جماعت یا اس کے تمام کارکنوں کو بغیر عدالتی فیصلے کے “غدار” کہنا منصفانہ نہیں۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر غداری کا فیصلہ عدالت اور قانون کرتے ہیں، سیاسی مخالفین نہیں۔

کیا پاکستانی عوام اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے؟
یہ مکمل طور پر عوامی حالات، معیشت، سیاسی قیادت، ریاستی ردعمل اور عوامی
اعتماد پر منحصر ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستانی عوام کبھی خاموش رہتے ہیں اور
کبھی بڑی سیاسی تحریکیں بھی چلاتے ہیں۔ اس لیے کسی بڑے عوامی ردعمل یا
خاموشی، دونوں میں سے کسی ایک کی یقینی پیش گوئی ممکن نہیں۔مختصراً، سب
سے اہم رجحان یہ ہے کہ خطہ ابھی بھی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔
ایران، اسرائیل، امریکا، یمن، افغانستان اور پاکستان کی سیاست ایک دوسرے سے
جڑی ہوئی ہے، لیکن اس وقت کسی ایک بڑے اور یقینی نتیجے
کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔

تازہ ترین دستیاب رپورٹوں اور معتبر ذرائع کے مطابق صورتِ حال کا خلاصہ:
امریکا، ایران اور اسرائیل
امریکی صدر Donald Trump اور اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu
ایران پر دباؤ بڑھانے کے معاملے میں ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ایران کے
ساتھ ممکنہ معاہدے یا جنگ کے حتمی راستے پر اختلافات کی خبریں بھی سامنے
آئی ہیں۔ بعض رپورٹوں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے
مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔

حوثی حملے اور خلیجی صورتحال
دستیاب رپورٹس کے مطابق بحری جہاز رانی، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی
اب بھی اہم تنازعاتی نکات ہیں۔ بعض ذرائع نے بحری حملوں اور تجارتی راستوں پر
دباؤ میں اضافے کا ذکر کیا ہے۔ تاہم مستقبل کے کسی مخصوص حملے کی جگہ،
تاریخ یا ہدف کے بارے میں قابلِ اعتماد عوامی معلومات موجود نہیں ہیں۔
جنرل راحیل شریف اور اسلامی فوجی اتحاد
جنرل (ر) راحیل شریف اب بھی ( Islamic Military Counter Terrorism Coalition (IMCTC کے کمانڈر کے طور پر درج ہیں۔اتحاد کا ہیڈکوارٹر ریاض میں ہے اور اس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی تعاون ہے، نہ کہ کسی ایک مشترکہ جنگی محاذ پر براہِ راست لڑائی۔

عاصم منیر کا ایران دورہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران دورے کے بارے میں ایرانی اور پاکستانی ذرائع
نے بتایا کہ بات چیت میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور
سفارتی حل پر گفتگو ہوئی۔ بعض ایرانی حکام نے اس دورے کو “مثبت” اور
“اہم سفارتی نتائج” کا حامل قرار دیا، تاہم عوامی سطح پر ایسی کوئی بڑی
ٹھوس کامیابی سامنے نہیں آئی جسے فیصلہ کن پیش رفت کہا جا سکے۔

پاکستان کی اندرونی صورتحال
اسمگلنگ، منشیات، دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل بدستور ریاستی
اداروں کے لیے بڑا چیلنج ہیں، خصوصاً بعض سرحدی اور شورش زدہ علاقوں
میں۔ اس بارے میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری رپورٹس مسلسل تشویش ظاہر
کرتی رہی ہیں۔
سیاسی طور پر ملک میں شدید تقسیم موجود ہے اور مختلف جماعتیں ایک دوسرے
پر سنگین الزامات عائد کرتی ہیں، لیکن “غدار” قرار دینا قانونی اور عدالتی
معاملہ ہے، سیاسی رائے نہیں۔
کیا عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے؟
یہ پیش گوئی ممکن نہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عوامی ردعمل
عموماً معاشی حالات، سیاسی قیادت، عدالتی فیصلوں، میڈیا کی
آزادی اور ریاستی رویّے سے متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی
سنجیدہ تجزیہ کار یہ نہیں کہہ سکتا کہ کب اور کس شکل
میں کوئی بڑی عوامی تحریک ابھرے گی