حضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں بچوں، بزرگوں اورعوام کے
وظائف کا نظام، پاکستان کیا کر سکتا ہے؟
تحقیق : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
حضرت عمر بن خطابؓ کے دورِ خلافت (13–23 ہجری، تقریباً 634–644 عیسوی) میں
ریاست کی مالی ذمہ داریوں کے حوالے سے اسلامی تاریخ میں کئی اہم مثالیں ملتی ہیں۔
ان میں نومولود بچوں کے لیے عطیات، بچوں کی کفالت، بزرگوں اور ضرورت مندوں کی
مدد، معذور افراد کی سرپرستی اور بیت المال سے عوامی ضروریات پوری کرنے کے
تصورات شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ریاست بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کا حق تسلیم کرتی تھی یا
والدین کو درخواست دے کر وظیفہ حاصل کرنا پڑتا تھا؟ اور کیا یہ سہولت صرف بچوں
تک محدود تھی یا عمر بھر شہریوں کی بنیادی ضروریات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا؟
اس کا جواب تلاش کرتے ہوئے تین چیزوں میں فرق ضروری ہے: تاریخی روایات میں درج
واقعات، ان روایات سے اخذ ہونے والے انتظامی اصول، اور وہ تفصیلات جن کے بارے میں
مستند تاریخی شہادت پوری طرح واضح نہیں۔
نومولود بچے کو وظیفہ کس عمر سے ملتا تھا؟
تاریخی کتابوں میں اس بارے میں ایک مشہور واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس کی تفصیل ابن سعد کی
الطبقات الکبریٰ اور ابن کثیر کی البدایہ والنہایہ سے منقول روایات میں ملتی ہے۔
ابتدا میں حضرت عمرؓ نے بچوں کا وظیفہ دودھ چھڑانے کے بعد مقرر کیا تھا۔ اس پالیسی کا ایک غیرمتوقع نتیجہ سامنے آیا: بعض مائیں بچے کا دودھ جلد چھڑانے کی کوشش کرنے لگیں تاکہ وظیفہ مل سکے۔
روایت کے مطابق ایک رات حضرت عمرؓ نے بچے کے رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا
کہ ماں بچے کو جلد دودھ چھڑانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب اس نے بتایا کہ وظیفہ
حاصل کرنے کے لیے ایسا کرنا پڑ رہا ہے تو حضرت عمرؓ نے اپنی پالیسی کے نتیجے پر
غور کیا اور حکم دیا کہ بچے کا وظیفہ پیدائش ہی سے مقرر کیا جائے، تاکہ والدین مالی
فائدے کے لیے بچے کی فطری ضرورت کو نقصان نہ پہنچائیں۔
اس واقعے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ حکومت کو اپنی پالیسی کے غیر متوقع نقصانات سامنے آئیں تو اسے عوام کی ضرورت کے مطابق درست کرنا چاہیے۔
وظیفہ کس عمر تک ملتا تھا؟
یہاں ایک اہم تاریخی احتیاط ضروری ہے:
پیدائش سے وظیفہ شروع کرنے کی روایت موجود ہے۔
بچے کے لیے مقرر کردہ وظیفے کی کوئی ایک متعین آخری عمر—مثلاً 16، 18 یا 21 سال
—ان مذکورہ روایات سے ثابت نہیں ہوتی۔
تاریخی مالی نظام میں بچوں کے وظائف اور دوسرے افراد کے عطیات کی الگ حیثیت تھی؛ اس
لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر بچے کو لازماً ایک ہی عمر تک ایک ہی رقم ملتی رہی۔
البلاذری کی کتاب فتوح البلدان میں بچوں کے وظائف کے آغاز اور بعد کے ادوار میں
ان کے طریقۂ کار میں تبدیلیوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔
کیا والدین کو درخواست دینا پڑتی تھی یا حکومت خود وظیفہ پہنچاتی تھی؟
حضرت عمرؓ کے عہد میں بیت المال سے رقوم اور راشن کی تقسیم کے لیے باقاعدہ انتظامی
نظام، یعنی دیوان، قائم کیا گیا تھا۔ اس میں مستحق افراد اور عطیات پانے والوں کا اندراج
کیا جاتا تھا۔ فتوح البلدان میں اس نظام کی تفصیل ملتی ہے۔
اس تاریخی نظام کو سمجھنے کے لیے تین باتیں الگ رکھنی چاہییں:
اول: ہر شخص کے لیے جدید طرز کا تحریری درخواست فارم اور شناختی کارڈ لازمی
ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ اُس زمانے کا نظام نہیں تھا۔
دوم: نومولود کے وظیفے کا اعلان ہونے کے بعد متعلقہ حکام کو بچوں کے اندراج اور ادائیگی کا انتظام کرنا ہوتا تھا۔ بعد کے ادوار کی بعض روایات میں نومولود کی اطلاع حکام کو دینے کا ذکر بھی آتا ہے۔
سوم: یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ہر علاقے میں بچے کی پیدائش ہوتے ہی حکومت
خود بخود گھر پہنچ کر رقم دے دیتی تھی۔ دستیاب تاریخی روایات سے ایسی ہمہ گیر،
خودکار ترسیل کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔
لہٰذا زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے کہ ریاست نے بچے کے لیے مالی حق تسلیم کیا، جبکہ
اس حق کی ادائیگی کے لیے اندراج اور انتظامی عمل درکار تھا۔ یہ حق صرف اس
بات پر منحصر نہیں رہنا چاہیے تھا کہ والدین سیاسی اثرورسوخ رکھتے ہیں یا نہیں۔
کیا بزرگوں کو بھی ماہانہ وظیفہ دیا جاتا تھا؟
جی ہاں، تاریخی روایات میں بوڑھے، معذور اور ایسے افراد کی مالی مدد کے شواہد
ملتے ہیں جو اپنی روزی کمانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ البتہ یہ کہنا کہ ہر بزرگ کو
بلاشرط ایک مقررہ ماہانہ وظیفہ ملتا تھا، دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔
ایک غیر مسلم بزرگ کا واقعہ
قاضی ابو یوسف کی کتاب کتاب الخراج میں ایک مشہور روایت نقل ہوئی ہے۔ اس کے
مطابق حضرت عمرؓ نے ایک ضعیف یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا۔ دریافت کیا کہ وہ
اس حالت میں کیوں ہے۔
اس نے بتایا کہ بڑھاپے، ضروریاتِ زندگی اور جزیے کے بوجھ کی وجہ سے
اسے لوگوں سے مانگنا پڑتا ہے۔
روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے اس کی مدد کی اور بیت المال کے ذمہ دار کو حکم
دیا کہ اس جیسے ضرورت مند بزرگوں کی کفالت کی جائے۔ اس کے لیے جزیے
سے استثنا کا ذکر بھی آتا ہے۔
اس واقعے کا اصولی پیغام واضح ہے: جو شخص جوانی میں معاشرے کا حصہ رہا ہو،
اسے بڑھاپے میں بے سہارا چھوڑ دینا ریاستی انصاف کے منافی ہے۔
یہاں ایک اور فرق ملحوظ رہے: کسی مستحق بزرگ کو بیت المال سے مدد دینا اور
تمام عمر رسیدہ افراد کو ایک ہی شرح سے پنشن دینا دو مختلف انتظامی تصورات
ہیں۔ حضرت عمرؓ کے عہد میں پہلے تصور کی شہادت ملتی ہے؛ جدید طرز
کی یکساں پنشن اسکیم کی نہیں۔
تعلیم کے لیے کیا وظائف تھے؟
حضرت عمرؓ کے دور میں تعلیم کی سرپرستی کے حوالے سے بھی تاریخی مواد موجود ہے۔
ایک تحقیقی مطالعے میں نقل کیا گیا ہے کہ مدینہ میں بچوں کو پڑھانے کے لیے
معلم مقرر کیے گئے اور ان کے لیے بیت المال سے معاوضہ رکھا گیا۔ اسی مطالعے
میں تین معلموں کے لیے ماہانہ 15 درہم کا ذکر ہے، جسے ابتدائی اسلامی تعلیم کے
انتظام کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس نظام کے نمایاں پہلو یہ تھے:
بچوں کو تعلیم دینے کے لیے معلموں کی تقرری۔
معلموں کو سرکاری خزانے سے معاوضہ۔
قرآن اور بنیادی دینی تعلیم کی سرپرستی۔
تعلیم کو صرف نجی خاندانوں کے وسائل پر نہ چھوڑنے کا تصور۔
تاہم جدید معنی میں ہر بچے کے لیے مفت اسکول، یونیورسٹی، وظیفۂ تعلیم،
امتحانی نظام اور قومی تعلیمی بجٹ کی مکمل تفصیلات اسی عہد سے
منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
صحت اور علاج کے لیے کیا وظیفے ملتے تھے؟
اس سوال کا جواب قدرے محتاط ہونا چاہیے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں بیت المال سے ضرورت مندوں کی کفالت، معذور افراد کی مدد
اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے شواہد ملتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور کی طرح ہر
شہری کے لیے علیحدہ طبی انشورنس، ہسپتالوں میں مفت علاج، دواؤں کا مقررہ الاؤنس
یا باقاعدہ قومی صحت کارڈ جیسا یکساں نظام ثابت نہیں ہوتا۔
اس زمانے میں ریاستی مدد کا بنیادی تصور یہ تھا کہ جو افراد محتاجی، بڑھاپے یا معذوری
کے باعث اپنی ضروریات پوری نہ کر سکیں، ان کی مدد کی جائے۔ صحت سے متعلق ہر
تاریخی اقدام کو باقاعدہ طبی وظیفے کا نام دینا، تاہم، درست نہیں۔
کیا ہر شہری کو بیت المال سے حصہ ملتا تھا؟
حضرت عمرؓ کے دور میں دیوان کے تحت عطیات اور وظائف کا نظام قائم ہوا۔ فتوح البلدان
میں مختلف گروہوں کے لیے مقررہ عطیات، ماہانہ غذائی راشن اور بچوں کے اندراج سے
متعلق روایات موجود ہیں۔ بعض وظائف مختلف تاریخی خدمات اور افراد کے حالات کے
لحاظ سے مختلف تھے۔
اس لیے یہ کہنا کہ ہر شخص کو ہر ماہ لازماً ایک جیسی نقد رقم ملتی تھی، درست نہیں۔
مالی امداد کی نوعیت اور مقدار ضرورت، حیثیت، تاریخی خدمات اور نظامِ عطیات کے
قواعد کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی تھی۔
بچوں، بزرگوں، تعلیم اور صحت کا تقابلی جائزہ
| شعبہ | حضرت عمرؓ کے عہد میں تاریخی شہادت | اہم وضاحت |
| ———– | —————————————- | —————————————————— |
| نومولود بچے | پیدائش سے وظیفہ مقرر کرنے کی روایت | آخری عمر کی یکساں حد واضح نہیں |
| یتیم بچے | سرپرستی اور مالی مفادات کے تحفظ کے شواہد | ہر یتیم کے لیے ایک جیسی رقم ثابت نہیں |
| بزرگ | محتاج اور بے سہارا بزرگوں کی مدد | جدید پنشن اسکیم سے مختلف |
| معذور افراد | کفالت اور ضروریات پوری کرنے کی مثالیں | ہر معذوری کے لیے یکساں وظیفہ ثابت نہیں |
| تعلیم | معلموں کی تقرری اور معاوضے کی روایات | جدید قومی تعلیمی نظام کے برابر نہیں |
| صحت | ضرورت مندوں کی عمومی کفالت | جدید طبی انشورنس یا صحت کارڈ جیسا نظام ثابت نہیں |
| غذائی مدد | راشن اور بنیادی خوراک کی تقسیم کی روایات | تمام علاقوں میں یکساں
فراہمی کی مکمل تفصیل دستیاب نہیں |
آج کے پاکستان کے لیے اس تاریخ سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
حضرت عمرؓ کے دور کی مثالوں سے ایک ایسا عوامی فلاحی نظام تشکیل دینے کے
اصول اخذ کیے جا سکتے ہیں جس میں شہری کی بنیادی ضروریات کو حکومتی ترجیح بنایا جائے۔
مثلاً پاکستان میں ایسا نظام بنایا جا سکتا ہے جس میں:
بچے کی پیدائش کے ساتھ اس کا سرکاری اندراج اور خودکار مالی امداد شروع ہو۔
یتیم بچوں کے لیے خوراک، تعلیم اور علاج کی الگ ضمانت ہو۔
مستحق بزرگوں اور معذور افراد کو باقاعدہ سماجی تحفظ ملے۔
سرکاری تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولتیں مالی استطاعت سے قطع نظر دستیاب ہوں۔
مستحق شہریوں کو بار بار دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے شفاف اندراج کے ذریعے امداد ملے۔
ہر ادائیگی کا حساب عوام کے سامنے ہو اور غلط ادائیگی یا بدعنوانی کی نگرانی کی جائے۔
یہ تجاویز تاریخی اصولوں سے اخذ کردہ جدید پالیسی تصورات ہیں، نہ کہ حضرت عمرؓ
کے دور میں ان تمام انتظامات کے بعینہٖ موجود ہونے کا دعویٰ۔
حاصلِ تحقیق: حضرت عمر فاروقؓ کے عہد کی سب سے اہم مثال صرف نومولود کو
وظیفہ دینا نہیں، بلکہ یہ اصول ہے کہ ریاستی مالی پالیسی کے نتائج کا جائزہ لیا
جائے، کمزور طبقے کی ضرورت سمجھی جائے اور انتظامی فیصلے کو انسانی نقصان
سے بچانے کے لیے تبدیل کیا جائے۔ یہی اصول بچوں، بزرگوں، تعلیم اور صحت کے
جدید نظام کی تشکیل میں بھی رہنمائی دے سکتا ہے۔
بنیادی تاریخی مراجع
البلاذری، فتوح البلدان — دیوان، عطیات اور بچوں کے وظائف سے متعلق روایات۔
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ — حضرت عمرؓ کے عہد کے واقعات اور انتظامی روایات۔
ابن کثیر، البدایہ والنہایہ — حضرت عمرؓ کے دور میں نومولود بچوں کے وظیفے سے متعلق واقعہ۔
امام ابو یوسف، کتاب الخراج — بیت المال، مالی ذمہ داریوں اور ضرورت مند غیر
مسلم بزرگ کی مدد سے متعلق روایت۔
ان مراجع کی روایات کو ان کے تاریخی سیاق اور اسنادی حیثیت کے ساتھ پڑھنا
چاہیے، کیونکہ ہر جزئیے کی صحت اور تفصیل یکساں درجے کی نہیں ہے۔
