متین فکری کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار

راولپنڈی—–علمی ،ادبی اور سماجی تنظیم خوشبو کے بانی صدر ملک محمداعظم نے معروف صحافی، ادیب، شاعر اور مصنف متین فکری کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں ملک محمداعظم نے کہا ہے کہ متین فکری کی رحلت ایک عہد کا خاتمہ ہے۔مرحوم نے نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط قلمی محاذ پر صف اول میں کام کیا ہے۔ اسلام اور پاکستان کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور تحریر کا نوٹس لیا اور مدلل جواب ان کا خاصہ تھا۔ مسئلہ کشمیر پر انہیں سند کا درجہ حاصل تھا۔ کشمیر کے حوالے سے ٹی وی اور ریڈیو پر ان کے تجزیے اور تبصرے بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متین فکری کو مفکر اسلام اور بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلی مودودی کی سرپرستی میں کام کرنے کی سعادت بھی حاصل رہی ہے۔ انہوں نے مولانا ظفر علی خان کے شاگرد ملک نصراللہ خان عزیز کے ساتھ جماعت اسلامی کے موقر رسالے تسنیم اور ایشیامیں بھی کام کیا ہے۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی میں سینئر نیوز ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔روزنامہ جنگ سے فراغت کے بعد ماہنامہ کشمیر الیوم کے مدیر کی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے رہیں ہیں۔ اب کافی عرصہ سے روزنامہ جسارت کراچی میں بلا تکلف کے عنوان سے کالم لکھ رہے تھے۔ ملک محمداعظم نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی متین فکری کی مغفرت فرمائے۔انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ان کے لواحقین کو اس صدمہ پر صبر اور حوصلے کی توفیق عطا فرمائے۔