اسلام آباد —— امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پنجاب بھر کے مختلف اضلاع میں حکومت پنجاب کی جانب سے منظور کردہ بلدیاتی ایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے، امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم، سکرٹری جنرل اقبال خان سمیت ضلعی اُمراء نے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے گجرات میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر تے ہو ئے کہا اپنے آپ کو سیاسی جماعت کہنے والے مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادی جماعتیں بلدیاتی الیکشن کیو ں غیر جماعتی بنیادوں پر کروانا چاہتے ہیں؟ جبکہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے چیئر مین کا انتخاب عوام کے ووٹوں کی بجائے کونسلروں کے ووٹ سے کروانا چاہتے ہیں، ضلع کونسلوں کا نظام ختم کر کے ڈپٹی کمشنر کو مختار کل منایا گیا ہے اسی طرح سے وہ محکمے جو ماضی میں ضلعی حکومتوں کے ماتحت ہوا کرتے تھے انہیں پہلے ہی اتھارٹیز بنا کر صوبائی حکومتوں نے ان پر قبضہ جما لیا ہے،حکمرانوں کے اس عمل سے ہارس ٹریڈنگ میں اضافہ اور پنجاب کے بلدیاتی نمائندوں کے ایمان اور ضمیر کی منڈی لگے گی،انھوں نے کہا بلدیاتی نظام میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے راستے میں رکاوٹ حکمرانوں ہوں یا بیوروکریسی ان کے خلاف تحریک چلائی جائے گی، اس لیے ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ بلدیاتی انتخابات بروقت کرائیں،جماعتی بنیادوں پر کرائیں اور چیئرمین کا انتخاب عوام کے ووٹوں سے کروائیں، اختیارات کی حقیقی بنیادوں پر نچلی سطح پر منتقلی بنیادی جمہوریت کا نظام ہے اس میں روڑے اٹکانا درست نہیں ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا جماعت اسلامی نے حکو مت پنجاب کی جا نب سے بلدیاتی قانون کو مسترد کرتے ہو ئے اسے کالا قانون قرار دیا ہے اور اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع بھی کیا جا ئے گا اور عوامی تحریک چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور آج سے اس تحریک کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی پنجاب کے سیکرٹری جنرل اقبال خان نے اٹک میں منعقدہ ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر تے ہو ئے کہا پنجاب میں کالا بلدیاتی قانون جمہوریت جمہوری اصولوں اور آئین کے منافی ہے، بلدیاتی نظام جو مقامی حکومتوں کا دوسرا نام ہے جمہوریت کی روح کے مطابق قیادت کی نرسری ہے نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے بغیر نظام کو جمہوری نہیں کہا جا سکتا، موجودہ بلدیاتی ایکٹ میں حکومت نے بیوروکریسی کو لا محدود اختیارات دے کر منتخب عوامی نمائندوں کو ان کا محتاج بنا دیا ہے،انھوں نے کہا یہ عوام کے ووٹ کی توہین ہے آمریت کے ہاتھوں جمہوریت کے ساتھ یہ سلوک تو پاکستان کی تاریخ میں موجود ہے، لیکن ایک ووٹ کو عز ت دو کے نعرے کے دعوئے دار ن لیگ بے دست وپابلدیاتی نظام دے کر ثابت کر رہی ہے کہ اس کے نزدیک جمہوریت کا نعرہ محض اقتدار کے حصول کا ایک ذریعہ ہے،یونین کونسل کے انتخابات کو غیر جماعتی بنا کر ہارس ٹریڈنگ اور ضمیر کی منڈی لگانے کا راستہ کھولا گیا ہے۔
