نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب، سینئر سیاست دان میاں منظور احمد وٹو کی وفات پر تعزیت کی، چکوال میں معروف عالمِ دین پیر عبدالرحیم نقشبندی کے انتقال پر تعزیتی اجتماع سے خطاب کیا، اسلام آباد کے پی ہاؤس میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے زیر اہتمام قومی کانفرنس سے خطاب کیا اور قومی رہنماؤں محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر خان، علامہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر، مخدوم جاوید ہاشمی، سردار اختر مینگل، سابق، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، افراسیاب خان خٹک اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی. سینئر صحافیوں کے ساتھ ظہرانہ میں گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے متفقہ آئین کا تحفظ وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے. اجتماعی قومی دانش کا تقاضا ہے کہ گھمبیر ہوتے سیاسی بحرانوں کا سیاسی حل تلاش کیا جائے. اپوزیشن جماعتوں، قومی جمہوری سیاسی قیادت کا فرض ہے کہ ملک و قوم کو سیاسی، آئینی، معاشی اور امنِ عامہ صورتِ حال سے متعلق بحرانوں سے نجات دِلانے کے لئے فعال کلیدی کردار ادا کرے. خاموش تماشائی بننا، ملکی حالات سے لاتعلق رہنا قومی سیاست کے لئے زہرِقاتل ہے. تمام جماعتیں اور قیادتیں ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرکے آگے بڑھیں. سب کو اَنا، ضِد، ہٹ دھرمی اور مقبولیت کے بند گنبد سے نکل کر قومی ترجیحات کے قومی ایجنڈے پر اتفاق کرلینا چاہئے. 25 کروڑ عوام پر مسلط جبر، ظلم، کرپشن، ناانصافی اور ریاستی طاقت کے ناجائز اندھے استعمال کے مقابلہ میں چند افراد نہیں سب کو بڑی جدوجہد اور قربانی دینی ہونگی.
لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں سابق وزیراعظم شاھد خاقان عباسی سے ملاقات اور اُن کی صحت یابی پر دُعا کی. اس موقع پر ملکی سیاسی حالات کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ عدالتوں کے دھڑا دھڑ فیصلے خود عدالتی نظام کو بےنقاب کررہے ہیں اور بار بار اعلان ہورہا ہے کہ عدل و انصاف دفن ہورہا ہے. عدلیہ کی آزادی کے لئے سیاسی جمہوری قیادت، وکلاء بارز اور سِول سوسائٹی کو پُرامن جمہوری مزاحمت کے لئے ہراوّل دستہ بن کر پوری قوم کو مایوسیوں سے نکال کر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا. غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہوکر آنے والی عوامی قیادت اور مینڈیٹ کو تسلیم کرنا اور بااختیار الیکشن کمیشن کے لئے سیاسی قوتوں کا اتفاق ناگزیر ہے. سیاسی جمہوری قوتوں کو اقتدار کی ہوَس پوری کرنے کی ذلّت آمیز عادت ترک کرکے عوامی مینڈیٹ تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہئے اور کوئی بھی اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے انجینئرڈ پلان کا اسیر نہ بنے.
لیاقت بلوچ نے بااختیار بلدیاتی نظام، بااختیار عوام کے حوالہ سے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت بااختیار بلدیاتی نظام کا ماڈل دے، دیگر صوبے بھی بااختیار بلدیاتی نظام اپنانے پر
مجبور ہوں گے. جماعت اسلامی پورے ملک اسلام آباد، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بااختیار بلدیاتی نظام لانے اور نوکرشاہی کے ناجائز شکنجے کو توڑنے کی جدوجہد کررہی ہے. حکومتیں بلدیاتی اختیارات استعمال کرکے قومی معیشت، تعلیم، صحت، امنِ عامہ سے متعلق فرض کی ادائیگی سے مجرمانہ غفلت برت رہی ہے
