نائب امیر جماعتِ اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی قومی اُمور کے صدر لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں قومی کانفرنس، لاہور میں خواجہ رفیق شہید قومی سیمینار، بلدیاتی کالے قانون کے خلاف لاہور میں احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا اور جماعتِ اسلامی کے رہنما طاہرجاوید کی والدہ کی نمازِ جنازہ کی امامت اور خطاب کیا۔ اِن پروگرامات میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ بااختیار، باوقار، باوسائل بلدیاتی نظام مضبوط پائیدار جمہوریت کے لئے ناگزیر ہے۔ حکمران طبقوں نے عوام سے جانبدارانہ انتخاب کا حق چھین لیا اور بےاختیار بلدیاتی نظام مسلط کرکے عوام کو ریاست کے اُمور سے بےدخل کرکے سِول-مِلٹری اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی قائم کردی ہے۔ عوام کو اُن کے حقوق دِلانے کے لئے جماعتِ اسلامی فعال کردار ادا کرے گی۔ ضلعی سطح پر احتجاج اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز پر احتجاجی دھرنے عوامی توجہ اور پذیرائی کا مرکز بنے ہیں۔ 15 جنوری کو بااختیار بلدیاتی نظام اور بااختیار عوام کے لئے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ 78 سال کے سیاسی تلخ تجربات اور المناک تاریخ بالکل واضح ہے کہ شخصی بالادستی، پاپولر سیاسی سطحی نعرے، بیانئے، پاپولر شخصیات کے گرد سیاست کو باندھے رکھنا، آئین سے بالاتر سِول-مِلٹری تعلقات کا ہائبرڈ نظام، انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنا ناکام ترین تجربات ہیں، جس سے ملک دولخت ہوگیا اور قومی وحدت و سلامتی کے لئے خطرات بڑھتے جارہے ہیں اور ہر اعتبار سے بحران گھمبیر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ معاشی حالات بدستور ابتر ہیں، تمام تر بھاگ دوڑ اور دعوؤں کے باوجود اقتصادی نظام مسلسل زوال پذیر ہے۔ رشوت، لُوٹ مار، بدعنوانیوں کی وجہ سے سرکاری ادارے دیوالیہ اور عوام کے لئے عذاب بنا دیئے گئے ہیں۔ بھتہ خوری، بدامنی، دہشت گردی کی وجہ سے پیسہ اور کاروبار باہر جارہے ہیں، ملک میں سرمایہ کاری کے تمام دعوے فریب ثابت ہورے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام معاشی بحرانوں، تباہی کو مزید گھمبیربنادے گا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی بحرانوں کے خاتمہ کے لئے سیاسی قیادت ہوش کے ناخن لے اور قومی ڈائیلاگ کے ذریعے سیاست کو بند گلی سے نکالے۔ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی قومی کانفرنس کی متفقہ رائے ہے کہ قومی سیاسی ڈائیلاگ کئے جائیں، اب یہ خبر کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے مذاکرات کی تجویز کو مسترد کردیا ہے، یہ صورتِ حال سیاسی بحران کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث ہوگی۔ قومی سطح پر سینئر ترین افراد کا وفد تمام سیاسی قیادت اور فوجی قیادت سے ملے اور حالات کو تباہی کی آخری سطح پر جانے سے روکا جائے۔ جماعتِ اسلامی ملک میں آئین کی بالادستی کے لئے بدنیتی پر مبنی 26 ویں، 27 ویں آئینی ترامیم کے خاتمہ کا مطالبہ کرتی ہے اور قومی سیاسی ڈائیلاگ کی حامی ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ عملاً آئین سے انحراف کی وجہ سے پورا نظام ناکارہ ہوگیا ہے، جماعتِ اسلامی کی “بدل دو نظام” تحریک ہی عوامی اُمنگوں کی ترجمان ہے۔#
