شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی 88ویں برسی کے موقع پر ’’بیداریٔ نوِ افکار اور شامِ یادِ اقبال و مقابلۂ مطالعۂ اقبالیات 2026‘‘ کا انعقاد یونیورسٹی آف ڈھاکہ کے تاریخی بوہڑ کے درخت کے سائے تلے ہوا۔تذکرۂ اقبالیات مرکز کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس پروگرام میں ملک کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء و نوجوانوں نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں ایک علمی نشست ہوئی، جس میں مقررین نے علامہ اقبال کے فلسفہ، افکار اور عصرِ حاضر میں ان کی معنویت پر تفصیلی گفتگو کی۔تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر شاہ کوثر مصطفیٰ ابوالعلائی (سابق چیئرمین، شعبۂ فلسفہ، جامعۂ ڈھاکہ)، حجۃ الاسلام والمسلمین شہاب الدین ماشایخی راد (ایرانی شاعر و عالم)، اور پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی (شعبۂ اردو، جامعۂ ڈھاکہ) شریک ہوئے۔ دیگر معزز شرکاء میں ذاکر ابو جعفر (شاعر)، محمد تنیم نوشاد (مصنف و محقق)، ڈاکٹر فضل الحق توہین (محقق و شاعر)، عبدالقادر جیلانی (اقبال محقق) اور عارف سہیل (نمائندہ، عوامی انقلابی تحریک) شامل تھے۔ تقریب کی صدارت محمد مہیرالزمان نے کی۔
تقریب کی نمایاں سرگرمیوں میں ’’فکرِ اقبال ‘‘کے عنوان سے کتاب پر مبنی مطالعۂ اقبالیات کے مقابلے کی انعامی تقریب، غزل و قوالی کی محفل، اور لائیو کوئز مقابلہ شامل تھے، جنہوں نے حاضرین میں خاصا جوش و خروش پیدا کیا۔
مقابلے میں اول، دوم اور سوم آنے والے شرکاء کو بالترتیب 4000، 3000 اور 2000 ٹکا انعام دیا گیا۔ علاوہ ازیں کوئز مقابلے کے پہلے 5 کامیاب شرکاء کو قیمتی کتب اور اسناد سے نوازا گیا۔
منتظمین کے مطابق، نوجوان نسل میں علامہ اقبال کے افکار کو عام کرنے کے لیے مستقبل میں بھی اس نوعیت کی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اقبال صرف پاکستان کے شاعر نہیں تھے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے شاعر تھے، جن کی شاعری نے امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا اور برصغیر میں طویل غلامی میں جکڑی ہوئی قوم کو شعور عطا کیا۔تقریب میں ایران سے آئے مقرر نے کلامِ اقبال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقبال کا کلام نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کے لیے بھی بیداری کا پیغام ہے۔ آج ایرانی قوم جس استعماری قوت کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے، اس میں فکرِ اقبال کا نمایاں کردار ہے، جس نے نوجوانانِ ایران کو بیدار کیا۔
تقریب میں بنگلہ دیشی سماجی و انقلابی رہنما عارف سہیل نے کہا کہ کلامِ اقبال ہر دور میں برپا ہونے والے انقلابات کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ آج بنگلہ دیشی نوجوانوں نے سابقہ حکومت اور بھارتی اجارہ داری کے خلاف جس جرأت اور بہادری کے ساتھ مزاحمت کی، وہ بھی فکرِ اقبال سے حاصل ہونے والے شعور کا مظہر ہے، جس نے ہمیں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا حوصلہ دیا۔
شعبۂ فلسفہ کے پروفیسر ڈاکٹر کوثر ابوالعلائی نے بتایا کہ جامعۂ ڈھاکہ میں طویل عرصے سے فلسفۂ اقبال پڑھایا جا رہا ہے، اور “The Reconstruction of Religious Thought in Islam”، روحِ کائنات کی تعبیر اور فلسفۂ خودی پر طلباء و طالبات باقاعدگی سے تحقیقی مقالات تحریر کرتے ہیں۔
شعبۂ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی نے کہا کہ اقبال ہمیشہ مسلمانوں کو اپنی تہذیب و ثقافت، مسلم تمدن اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر اتحادِ امت کا درس دیتے ہیں۔ آج امتِ مسلمہ مغربی تہذیب کے زیرِ اثر اپنی شناخت کھو رہی ہے، جبکہ ہماری بقاء فکرِ اقبال کے مطابق اسلامی تعلیمات کو ظاہری و باطنی طور پر اپنانے میں مضمر ہے۔
اس کے علاوہ دیگر مقررین نے فکرِ اقبال کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت پر روشنی ڈالی اور حاضرین کو اس کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا۔
تقریب کی اختتامی نشست میں بنگلہ دیش کی پرائمری سکول کی طالبات نے بچوں کے لیے علامہ اقبال کی معروف دعا ترنم کے ساتھ پیش کی۔ اس کے ساتھ علامہ اقبال کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مبنی سوالات کا مقابلہ بھی منعقد کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر ’’خودی کا سرِ نہاں‘‘ اور ’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘ جیسے کلامِ اقبال پر مبنی قوالی یونیورسٹی آف ڈھاکہ کے معروف قوالی’’ سلسلہ بینڈ‘‘ نے پیش کر کے محفل کو روحِ اقبال سے معطر کر دیا۔
