اقبال ڈار
قوم آج 14 اگست کو وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 79 واں جشنِ آزادی اور 80 واں یومِ آزادی اتحاد و یگانگت کے قومی اور ملیّ جذبے سے معمور ہو کر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جوش اور ولولے کے ساتھ منارہی ہے آج ملک بھر میں سرکاری اور نجی عمارتوں کو قومی پرچموں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا ہے اور عوام کا جوش و ولولہ دیدنی ہے جو دشمن کے لئے اٹل اعلان ہے کہ ملک کی بقاء و سلامتی کے تحفظ کے لئے پوری قوم جری و بہادر عساکرِ پاکستان کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے اور اس مکار دشمن بھارت کی کسی بھی جارحیت اور جارحانہ، توسیع پسندانہ عزائم کا گذشتہ سال مئی کے معرکے سے بھی بڑھ کر جواب دیا جائے گا اور اسے اقوام عالم میں پہلے سے بھی زیادہ ہزیمتیں اٹھانا پڑیں گی۔ بے شک آج ہمیں ملکی سلامتی و استحکام کے تقاضوں کے تحت مکار دشمن بھارت کی ان سازشوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہے جن کا آغاز اس نے 5 اگست 2019ء کو اپنے ناجائز زیر تسلط کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اور اسے بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنا کر کیا تھاے شک وطن عزیز کا جشنِ آزادی آج قائداعظم کے ویژن کے مطابق مادرِ وطن کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے پختہ عزم کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ آج ملک بھر میں مختلف مقامات پر پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی جائیں گی جبکہ سرکاری اور نجی سطح پر سیمینارز اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جن میں مقررین آزادی کی تحریک میں دی جانے والی قربانیاں اجاگر کرتے ہوئے وطن عزیز کی ترقی و استحکام کے لیے قوم کے بے پایاں جذبہ کا تذکرہ کریں گے۔ حکومتی اکابرین اور عوام آج علامہ اقبال اور قائداعظم کے مزارات پر حاضری دیں گے، پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے اور ملک کی ترقی و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں گے۔
یہ حقیقت تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوچکی ہے کہ متعصب ہندو اکثریت نے مسلم دشمنی کے باعث برصغیر کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر کے اور انہیں اپنے سے کمتر انسان کا درجہ دے کر دو قومی نظریے کی خود بنیاد رکھی تھی جو تحریک پاکستان کی بھی بنیاد بنی اور بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی جس میں قائداعظم کی بے بدل قیادت میں ایک ایسے جدید اسلامی فلاحی جمہوری معاشرے کی تشکیل اور اس آزاد و خود مختار پاکستان کا تصور متعین ہوا، جس میں مسلمانوں کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی بلکہ انہیں اقتصادی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے والی ہندو بنیاء ذہنیت اور انگریز کے ٹوڈی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے استحصال سے بھی نجات ملے گی اور اس خطے کے مغلوب مسلمانوں کی جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں قائم ہونے والی اس مملکت خداداد میں خلقِ خدا کے راج کا تصور بھی عملی قالب میں ڈھل جائے گا۔ قیامِ پاکستان کے مقاصد، اس کے نظریے اور نظام کے حوالے سے قائداعظم کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں تھا
