پاکستان — آزادی سے اختیار تک، اور اختیار سے عوامی بے بسی تک

1947سے 2026ء تک کے 79 سالہ سفر کا ایک تحقیقی احتساب
تحقیق: محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ اس تحقیق کا اگرچہ مرکزی سوال یہ ہے کہ پاکستان کیوں بنا تھا، اسے کس طرح چلایا گیا، کہاں کامیاب ہوا، کہاں ناکام ہوا، 1971ء میں آدھا ملک کیوں الگ ہوا، اور آج عام پاکستانی کو ریاست سے اتنی شکایات کیوں ہیں؟
تمہید: ایک ریاست، ایک وعدہ، ایک سوال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان 14 اگست 1947ء کو محض زمین کا ایک ٹکڑا بن کر وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک سیاسی تصور، ایک اجتماعی جدوجہد اور لاکھوں انسانوں کی قربانیاں تھیں۔لیکن تاریخ کا انصاف یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم صرف قیامِ پاکستان کی داستان نہ لکھیں؛ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ قیام کے بعد ریاست کے ساتھ کیا ہوا۔
کسی قوم کی تاریخ صرف اس کے دشمنوں سے نہیں بنتی۔ اس کے حکمران، ادارے، سیاسی جماعتیں، عدالتیں، بیوروکریسی، کاروباری طبقات، دانشور، میڈیا اور خود عوام بھی اس تاریخ کے شریک ہوتے ہیں۔
اسی لیے اس تحقیق کا مقصد کسی ایک طبقے کو پاکستان کی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دینا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اقتدار، آئین، سیاست، معیشت اور عوام کے درمیان تعلق گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں میں کیسے تبدیل ہوا۔
1947ء — پاکستان کیوں بنایا گیا؟
پاکستان کی تحریک کا بنیادی سیاسی مطالبہ یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایسا سیاسی بندوبست حاصل ہو جس میں وہ اپنے سیاسی، سماجی اور تہذیبی مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اختیار رکھتے ہوں۔
14 اگست 1947ء کو یہ مطالبہ ایک ریاست میں تبدیل ہوگیا۔لیکن نوزائیدہ پاکستان کو ابتدا ہی میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا تھا:
بڑے پیمانے کی ہجرت
فسادات اور انسانی جانوں کا نقصان
انتظامی ڈھانچے کی تقسیم
اثاثوں کی تقسیم کے مسائل
کشمیر کا تنازع
کمزور صنعتی بنیاد
محدود مالی وسائل
تربیت یافتہ انتظامی اہلکاروں کی کمی
آئین کی عدم موجودگی
یہ کہنا درست ہوگا کہ پاکستان ایک مکمل تیار شدہ ریاست کے طور پر پیدا نہیں ہوا تھا؛ اسے ریاست بننا تھا۔یہیں سے پہلا بنیادی مسئلہ پیدا ہوا:
ریاستی ادارے پہلے مضبوط ہوئے یا جمہوری نمائندگی؟
پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں طاقت کا جواب زیادہ تر پہلے مؤقف کی طرف جاتا ہے۔
1947ء تا 1958ء — آئین کی تلاش اور اقتدار کی مرکزیت
پاکستان کا پہلا آئین 1956ء میں نافذ ہوا، لیکن اس سے پہلے تقریباً نو سال ملک آئینی تجربات اور سیاسی کشمکش میں گزرا۔
1956ء کا آئین پارلیمانی نظام لایا، مگر سیاسی عدم استحکام برقرار رہا۔
بالآخر 1958ء میں صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کرکے مارشل لا نافذ کیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا۔چند ہی ہفتوں بعد ایوب خان نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے الگ کر دیا اور خود ملک کے حکمران بن گئے۔یوں پاکستان میں براہ راست فوجی اقتدار کا پہلا بڑا دور شروع ہوا۔
پہلا تاریخی موڑ
یہ واقعہ محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھا۔یہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک ایسا نمونہ قائم کرنے والا واقعہ تھا جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک نظر آئے:
> جب سیاسی ادارے کمزور ہوں تو طاقتور غیر منتخب ادارے خود کو ریاست کے محافظ اور سیاست کو ریاستی خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔
یہی پاکستان کے سول-ملٹری تعلقات کا ایک بنیادی تاریخی مسئلہ بن گیا۔
ایوب خان کا دور — ترقی اور جمہوری قیمت
ایوب خان کے دور میں پاکستان نے صنعتی اور زرعی ترقی کے بعض اہم مراحل دیکھے۔
انفراسٹرکچر، صنعت، آبپاشی اور اقتصادی منصوبہ بندی میں پیش رفت ہوئی۔لیکن دوسری طرف سیاسی جماعتوں اور انتخابی سیاست پر پابندیاں اور صدارتی طرز حکومت نے نمائندہ سیاست کو محدود کردیا۔
یہاں پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سبق سامنے آتا ہے:
معاشی ترقی اور سیاسی جمہوریت ایک دوسرے کی دشمن نہیں، لیکن ایک کو دوسرے کی قیمت پر قائم کرنے کی کوشش طویل مدت میں بحران پیدا کرسکتی ہے۔
ایوب خان کا دور بالآخر سیاسی احتجاج اور عوامی بے چینی کے سامنے کمزور پڑا اور 1969ء میں اقتدار جنرل یحییٰ خان کو منتقل ہوا۔
1970ء کے انتخابات — وہ لمحہ جسے تاریخ بھول نہیں سکتی
1970ء کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھے۔عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں واضح اکثریت حاصل کی اور قومی اسمبلی میں مجموعی طور پر حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کی۔
اصولی طور پر یہ پارلیمانی جمہوریت کے لیے فیصلہ کن لمحہ تھا۔لیکن اقتدار کی منتقلی پر سیاسی اختلاف پیدا ہوا۔یہ بحران مذاکرات سے حل نہ ہوسکا۔
مارچ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی۔ حمود الرحمن کمیشن ، جو بعد ازاں 1971ء کے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا، نے سیاسی تصفیہ حاصل کرنے میں ناکامی اور فوجی قیادت کی ذمہ داریوں سمیت متعدد معاملات کا جائزہ لیا۔ کمیشن کی رپورٹ میں جنرل یحییٰ خان کی سیاسی تصفیہ حاصل کرنے میں ناکامی پر سخت تنقید موجود ہے۔
1971ء — پاکستان کیوں ٹوٹا؟
یہ سوال آج بھی پاکستانی تاریخ کا سب سے تکلیف دہ سوال ہے۔اس کا جواب ایک جملے میں نہیں دیا جاسکتا۔
بنیادی عوامل
1۔ سیاسی اکثریت کا بحران
مشرقی پاکستان کی آبادی پاکستان کی مجموعی آبادی کا بڑا حصہ تھی، لیکن سیاسی طاقت کی تقسیم میں مسلسل کشمکش رہی۔
2۔ معاشی عدم مساوات
مشرقی پاکستان میں یہ احساس مضبوط ہوا کہ وسائل اور ترقی کے ثمرات منصفانہ طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔
3۔ لسانی و ثقافتی اختلافات
بنگالی زبان اور ثقافت کے بارے میں ریاستی پالیسی نے ابتدائی دور ہی میں شدید ردعمل پیدا کیا۔
4۔ مرکزی اقتدار کی زیادتی
فیڈریشن کے بجائے مرکزیت کا رجحان بڑھا۔
5۔ 1970ء کے انتخابی مینڈیٹ کا بحران
عوامی لیگ کی اکثریت کے بعد اقتدار کی منتقلی نہ ہوسکی۔
6۔ فوجی کارروائی
سیاسی مسئلے کا فوجی حل تلاش کیا گیا۔
7۔ بھارت کی مداخلت
بحران بڑھنے کے بعد بھارت نے مکتی باہنی کی حمایت کی اور بالآخر دسمبر 1971ء میں جنگ براہ راست پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگئی۔
8۔ ریاستی تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
1971ء میں بڑے پیمانے پر قتل، جبری گمشدگیاں، جنسی تشدد اور دیگر مظالم کے الزامات سامنے آئے۔ ان کی مقدار اور بعض مخصوص اعداد آج بھی تاریخی بحث کا موضوع ہیں، لیکن یہ بات ناقابلِ تردید ہے کہ جنگ اور فوجی کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر انسانی المیہ رونما ہوا۔
1971ء کا سب سے بڑا سبق
پاکستان کے ٹوٹنے کو صرف ’’بھارتی سازش‘‘ کہنا تاریخ کو ادھورا بیان کرنا ہے۔لیکن اسے صرف ’’فوجی ظلم‘‘ کہنا بھی مکمل تاریخی تصویر نہیں۔
حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے:
سیاسی ناکامی + علاقائی محرومی + مرکزیت + فوجی کارروائی + عوامی بغاوت + بھارتی مداخلت + جنگ
ان عوامل نے مل کر پاکستان کو توڑا۔
حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ اسی لیے اہم ہے کہ وہ پاکستان کی اپنی ریاستی تحقیق تھی، نہ کہ صرف بیرونی مؤقف۔
1973ء — آئین کا وعدہ
1971ء کے سانحے کے بعد پاکستان کو ایک نئے سیاسی معاہدے کی ضرورت تھی۔
1973ء کا آئین اسی ضرورت کا نتیجہ تھا۔
یہ پارلیمانی وفاقی نظام، بنیادی حقوق، عدلیہ، پارلیمان اور صوبائی اختیارات کے لیے بنیادی قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔لیکن پاکستان کی تاریخ میں بار بار یہ سوال سامنے آیا:
آئین کتاب میں زیادہ مضبوط رہا یا عملی سیاست میں؟
قومی اسمبلی کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1973ء کے آئین کے تحت پارلیمانی نظام قائم ہوا، لیکن آنے والی دہائیوں میں آئینی نظام متعدد مرتبہ شدید بحرانوں سے گزرا۔
1977ء — دوسری بڑی فوجی مداخلت
1977ء میں سیاسی بحران کے بعد جنرل ضیاء الحق نے حکومت سنبھالی۔ * مارشل لا نافذ ہوا۔ *یہ پاکستان میں براہ راست فوجی حکمرانی کا دوسرا بڑا دور تھا۔
اس دور نے پاکستان کی سیاست، مذہبی پالیسی، خارجہ پالیسی اور ریاستی اداروں پر گہرے اثرات ڈالے۔
افغان جنگ نے پاکستان کو عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک نئے تزویراتی تعلق میں داخل کیا۔لیکن جمہوری ادارے کمزور ہوئے اور سیاسی اختلاف کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال بڑھا۔
1988ء تا 1999ء — جمہوریت آئی، مگر مستحکم نہ ہوسکی
جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد 1988ء میں انتخابی سیاست بحال ہوئی۔لیکن اگلے گیارہ برس میں پاکستان مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔
حکومتیں بنتی اور ختم ہوتی رہیں۔
صدر کے اختیارات، فوجی اداروں، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کے درمیان طاقت کی کشمکش جاری رہی۔
یہ وہ دور تھا جب پاکستان کو یہ موقع ملا کہ وہ جمہوری نظام کو مستحکم کرے۔
مگر سیاسی جماعتیں بھی مکمل طور پر ادارہ جاتی جمہوریت قائم نہ کرسکیں۔
بدعنوانی کے الزامات، سیاسی انتقام، صدر کے اختیارات اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار نے نظام کو کمزور رکھا۔
1999ء — تیسری بڑی فوجی مداخلت
12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا۔پارلیمانی نظام معطل ہوا اور فوجی حکومت قائم ہوئی۔ یہ پاکستان میں براہ راست فوجی اقتدار کا تیسرا بڑا مرحلہ تھا۔
مشرف دور میں معیشت اور بعض ادارہ جاتی شعبوں میں اصلاحات ہوئیں، لیکن سیاسی طاقت کے مرکز کا مسئلہ برقرار رہا۔
2008ء میں دوبارہ جمہوری حکومت قائم ہوئی۔
2008ء تا 2018ء — جمہوری تسلسل کی ایک نئی کوشش
2008ء کے بعد پاکستان نے ایک نسبتاً اہم تجربہ کیا:
ایک منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کی۔
2013ء میں اقتدار ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہوا۔یہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں اہم پیش رفت تھی۔لیکن سیاسی عدم استحکام، عدالتی تنازعات، فوجی اداروں کا اثر، دہشت گردی، توانائی بحران اور معاشی مشکلات برقرار رہیں۔
2017ء میں نواز شریف کی نااہلی بھی ایک بڑا سیاسی موڑ بنی؛ قومی اسمبلی کے تاریخی ریکارڈ میں 28 جولائی 2017ء کو سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی نااہلی درج ہے۔
2018ء — نیا سیاسی باب
2018ء میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی۔عمران خان نے ’’نیا پاکستان‘‘، احتساب اور کرپشن کے خاتمے کا بیانیہ پیش کیا۔لیکن حکومت کو شدید معاشی مشکلات، آئی ایم ایف، مہنگائی، سیاسی محاذ آرائی اور ریاستی اداروں کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کا سامنا رہا۔
2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان حکومت ختم ہوگئی۔
اس کے بعد سیاسی تقسیم مزید گہری ہوئی۔
2022ء تا 2026ء — ریاست، سیاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ
2022ء کے بعد پاکستان میں سیاسی کشمکش غیر معمولی طور پر شدید ہوئی۔9 مئی 2023ء کے واقعات، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، فوجی تنصیبات پر حملے، مقدمات، میڈیا اور سیاسی آزادیوں سے متعلق تنازعات، انتخابات کے نتائج اور حکومت سازی کے سوالات نے ریاستی سیاست کو شدید متاثر کیا۔
یہاں بھی ’’سچ‘‘ کا تقاضا یہی ہے کہ کسی ایک فریق کی مکمل کہانی کو تاریخ کا آخری فیصلہ نہ بنایا جائے۔
9 مئی کے تشدد اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی مذمت ایک الگ معاملہ ہے؛ سیاسی کارکنوں کے قانونی حقوق اور منصفانہ عدالتی کارروائی کا سوال الگ معاملہ ہے۔
دونوں باتیں بیک وقت درست ہوسکتی ہیں۔
آج کا عام پاکستانی — گیس، بجلی اور مہنگائی
اب ہم اس تاریخی بحث کو عام شہری کی زندگی سے جوڑتے ہیں۔ریاست کی کامیابی کا سب سے بنیادی پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے میزائل، کتنے ٹینک یا کتنے بلند و بالا سرکاری دفاتر ہیں۔
بلکہ یہ ہے:
کیا اس کا شہری اپنے گھر کا چولہا جلا سکتا ہے؟
کیا وہ بجلی کا بل ادا کرسکتا ہے؟
کیا اس کے بچے مناسب تعلیم حاصل کرسکتے ہیں؟
کیا اسے علاج میسر ہے؟
کیا اسے میرٹ پر روزگار مل سکتا ہے؟
بجلی کے معاملے میں مسئلہ صرف ’’ایک یونٹ کی قیمت‘‘ نہیں ہے۔ بجلی کے بل میں بنیادی توانائی لاگت کے ساتھ مختلف حکومتی ٹیکس، سرچارجز، ایڈجسٹمنٹس اور دیگر اجزا شامل ہوسکتے ہیں۔ NEPRA کے 2026ء کے فیصلوں میں بھی tariff adjustments، capacity charges، transmission charges، fuel adjustments اور دیگر اجزا کا ذکر موجود ہے۔ یعنی عام شہری کا اصل مسئلہ پورا بجلی کا نظام ہے، صرف فی یونٹ پیداوار کی لاگت نہیں۔
’’بجلی 100 روپے فی یونٹ‘‘ — دعویٰ اور حقیقت
یہاں تحقیقاتی تحریر کو جذبات سے الگ ہونا ضروری ہے۔
اگر کسی مخصوص صارف کے بل میں تمام ٹیکس، سرچارجز اور دیگر چارجز شامل کرکے اوسط مؤثر قیمت 100 روپے فی یونٹ یا اس کے قریب بنتی ہے تو اس مخصوص بل کا حساب الگ کیا جاسکتا ہے۔
لیکن یہ کہنا کہ:
> ’’پاکستان میں ہر شہری کو بجلی کا ہر یونٹ 100 روپے میں ملتا ہے‘‘
درست عمومی بیان نہیں ہوگا۔
NEPRA نیپرا کے سرکاری ٹیرف ریکارڈ میں صارف کی کیٹیگری، استعمال، سلیب اور مختلف ایڈجسٹمنٹس کے لحاظ سے نرخ مختلف ہیں۔
سچا باب مبالغہ نہیں کرتا۔کیونکہ اگر ہمارا مقصد ظلم کی نشاندہی کرنا ہے تو اعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
اصل اعداد ہی کافی سنگین ہوسکتے ہیں۔
گیس — ریاستی ناکامی کا روزمرہ چہرہ
گیس کی قلت بھی اسی بڑے مسئلے کی علامت ہے۔
اگر کسی شہری کو 24 گھنٹوں میں صرف چند گھنٹے گیس ملتی ہے تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ’’گیس کمپنی ناکام ہے‘‘۔
اس کے پیچھے کئی سوالات ہیں:
گیس کے ذخائر کیوں کم ہوئے؟
نئے ذخائر کی تلاش کیوں ناکافی رہی؟
درآمدی LNG کتنی مہنگی ہے؟
گیس کی قیمتوں میں سیاسی مداخلت کتنی ہے؟
گردشی قرضہ کتنا ہے؟
گیس چوری کتنی ہے؟
لائن لاسز کتنے ہیں؟
صنعتی اور گھریلو صارفین میں ترجیح کیسے طے ہوتی ہے؟
لہٰذا گیس کا بحران بھی ایک حکمرانی کا بحران ہے۔
روزگار — قوم کا خاموش بحران
ایک ریاست اپنے نوجوانوں کو اگر روزگار، تعلیم اور ترقی کا راستہ نہ دے تو اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ضائع ہوتا ہے۔
پاکستان کی اصل طاقت اس کے ایٹمی ہتھیار نہیں۔
اس کی اصل طاقت:
اس کے نوجوان ہیں۔
اگر نوجوان کو میرٹ پر نوکری نہ ملے، کاروبار کے لیے سرمایہ نہ ملے، تعلیم مہنگی ہو، بیرون ملک جانے کے سوا مستقبل نظر نہ آئے تو ریاست اور نوجوان کے درمیان اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ سیاسی جماعتوں سے کہیں بڑا ہے۔
مراعات کا سوال
عوام سے قربانی مانگنا ریاست کا معمول بن گیا ہے:
ٹیکس بڑھاؤ۔
بجلی مہنگی کرو۔
گیس مہنگی کرو۔
پٹرول مہنگا کرو۔
سبسڈی کم کرو۔
خرچ کم کرو۔
لیکن اسی کے ساتھ عوام ایک دوسرا منظر بھی دیکھتے ہیں:
پروٹوکول۔
سرکاری گاڑیاں۔
بیرونی دورے۔
سرکاری رہائش گاہیں۔
مراعات۔
خصوصی سہولتیں۔
یہاں مسئلہ صرف رقم کا نہیں۔
مسئلہ انصاف کا احساس ہے۔
جب غریب شہری سے کہا جائے کہ ’’ملک مشکل میں ہے‘‘ تو اسے یہ نظر آنا چاہیے کہ اقتدار کے مراکز بھی اس مشکل میں برابر شریک ہیں۔

’’اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان توڑا‘‘ — کیا یہ مکمل سچ ہے ؟
یہ جملہ سیاسی بحث میں بہت استعمال ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر زیادہ درست سوال یہ ہے:
پاکستان کو توڑنے میں کن عوامل نے کردار ادا کیا؟
1971ء کے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجی قیادت کی سیاسی حکمت عملی، سیاسی قیادت کی ناکامی، علاقائی محرومی، عوامی مزاحمت اور بھارت کی مداخلت سب اہم عوامل تھے۔ حمود الرحمن کمیشن نے خصوصاً سیاسی تصفیے کی ناکامی اور فوجی قیادت کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے۔
لہٰذا:
’’صرف بھارت نے پاکستان توڑا‘‘ — ادھورا سچ۔
’’صرف فوج نے پاکستان توڑا‘‘ — ادھورا سچ۔
’’بنگالی عوام غدار تھے‘‘ — تاریخی طور پر ناقابلِ قبول عمومیت زیادہ مکمل جواب یہ ہے:
> ریاستی اور سیاسی ناکامیوں نے اندرونی بحران پیدا کیا، فوجی کارروائی نے اسے شدید کیا، عوامی مزاحمت نے اسے بغاوت میں تبدیل کیا، اور بھارت کی مداخلت و جنگ نے پاکستان کی شکست اور علیحدگی کو فیصلہ کن بنا دیا۔
کیا پاکستان دوبارہ ٹوٹ سکتا ہے ؟
تاریخ کبھی بالکل دوبارہ نہیں دہرائی جاتی۔لیکن تاریخ کے اصول دہرائے جاسکتے ہیں۔
اگر کسی ملک میں:
صوبائی محرومی بڑھے؛
وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہو؛
سیاسی نمائندگی پر اعتماد ختم ہو؛
آئین کمزور ہو؛
قانون کا اطلاق غیر مساوی ہو؛
نوجوان مستقبل سے مایوس ہوں؛
ریاستی ادارے سیاسی تنازعات میں فریق بنیں؛
اور عوام کو محسوس ہو کہ ان کی آواز بے معنی ہے؛
تو ریاستی وحدت کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان کا مستقبل اس لیے صرف معیشت یا فوجی طاقت پر منحصر نہیں۔
پاکستان کا مستقبل وفاقی انصاف پر منحصر ہے۔
قوم کیوں خاموش ہے؟
یہ کہنا آسان ہے:
’’قوم سو رہی ہے۔‘‘
لیکن یہ تاریخی طور پر ناکافی وضاحت ہے۔
ایک غریب آدمی صبح سے رات تک روزگار کی تلاش میں ہے۔
دوسرا بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے قرض لے رہا ہے۔
تیسرا بچوں کی فیس دے رہا ہے۔
چوتھا علاج کے لیے زمین بیچ رہا ہے۔
پانچواں بیرون ملک جانے کی کوشش کررہا ہے۔
چھٹا سیاسی مقدمے سے خوفزدہ ہے۔
ساتواں روزگار کی تلاش میں سفارش ڈھونڈ رہا ہے۔
ایسے معاشرے میں اجتماعی سیاسی طاقت منتشر ہوجاتی ہے۔
اس لیے عوام کی خاموشی کو ہمیشہ رضامندی سمجھنا غلط ہے۔
کبھی خاموشی تھکن ہوتی ہے۔
کبھی خوف۔
کبھی بے بسی۔
اور کبھی بقا کی مجبوری۔

’’ بندوق کا مقابلہ بندوق کرتی ہے‘‘ — کیا یہی راستہ ہے ؟
یہاں تاریخ ہمیں سخت سبق دیتی ہے۔
بندوق ریاست کو شکست دے سکتی ہے۔
لیکن بندوق سے بننے والی سیاست اکثر نئی آمریت پیدا کرتی ہے۔
پائیدار تبدیلی کے لیے زیادہ طاقتور ہتھیار ہیں:
آئین۔
قانون۔
آزاد صحافت۔
آزاد عدلیہ۔
شفاف انتخابات۔
منظم سیاسی جماعتیں۔
مضبوط مقامی حکومتیں۔
تعلیم۔
صحت
معاشی انصاف۔
پرامن اجتماعی مزاحمت۔
لہٰذا عوامی طاقت کا مطلب مسلح تصادم نہیں۔
عوامی طاقت کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو عوام کی مرضی، قانون اور آئین کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔
خدا قوم کی حالت کب بدلتا ہے؟
یہ سوال جذباتی بھی ہے اور روحانی بھی۔
قرآن کا اصول ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ
یعنی اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔
لیکن اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ مظلوم ہی اپنے ظلم کا ذمہ دار ہے۔
اس کا اجتماعی مفہوم یہ ہے کہ:
دعا کے ساتھ عمل چاہیے۔
حق کے ساتھ کردار چاہیے۔
شکایت کے ساتھ اصلاح چاہیے۔
آزادی کے ساتھ ذمہ داری چاہیے۔
اور حکمرانوں کے لیے بھی یہی اصول ہے:
اقتدار امانت ہے، ملکیت نہیں۔
1947ء کا خواب اور 2026ء کا سوال
1947ء میں پاکستان کے پاس ایک خواب تھا۔
2026ء میں پاکستان کے پاس ایک سوال ہے:
کیا ہم اس خواب کے مطابق ریاست بنا سکے؟
اگر جواب مکمل ’’ہاں‘‘ ہوتا تو:
اتنے نوجوان روزگار کے لیے پریشان نہ ہوتے۔
بجلی اور گیس بنیادی سیاسی بحران نہ بنتے۔
میرٹ اتنا متنازع نہ ہوتا۔
عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد اتنا کمزور نہ ہوتا۔
آئین کی بالادستی بار بار سوال نہ بنتی۔
اور 1971ء جیسے قومی سانحے سے ہم صرف جذباتی نہیں بلکہ عملی سبق بھی حاصل کرچکے ہوتے۔
سچا نتیجہ
پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے۔
پاکستان ایک شدید مشکلات میں گھری ہوئی، مگر قابلِ اصلاح ریاست ہے۔
اس کے پاس:
بڑی آبادی؛
نوجوان افرادی قوت؛
زرعی وسائل؛
معدنی امکانات؛
سمندری محل وقوع؛
ایٹمی صلاحیت؛
بڑی مسلح افواج؛
وسیع بیرون ملک پاکستانی برادری؛
اور سب سے بڑھ کر ایک مضبوط قومی شناخت موجود ہے۔
لیکن ریاست کی اصل طاقت صرف اسلحہ نہیں۔
اصل طاقت انصاف ہے۔
اصل طاقت قانون ہے۔
اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔
اصل طاقت میرٹ ہے۔
اصل طاقت تعلیم ہے۔
اصل طاقت صحت ہے۔
اصل طاقت معاشی خود کفالت ہے۔
اور سب سے بڑھ کر:
اصل طاقت یہ یقین ہے کہ اس ملک میں ایک عام آدمی بھی قانون کے سامنے اتنا ہی اہم ہے جتنا اقتدار کے ایوان میں بیٹھا ہوا شخص۔
پاکستان کا سب سے بڑا دشمن صرف بیرونی طاقت نہیں۔
اس کا سب سے بڑا خطرہ وہ نظامی ناانصافی ہے جو شہری کو آہستہ آہستہ یہ یقین دلا دے کہ یہ ملک اس کا نہیں۔
اور پاکستان کی سب سے بڑی امید بھی کوئی ایک لیڈر، ایک جماعت یا ایک ادارہ نہیں۔
پاکستان کی امید ایک ایسا آئینی، جمہوری اور منصفانہ نظام ہے جس میں ریاست طاقتور ہو مگر قانون کے تابع، حکومت بااختیار ہو مگر جواب دہ، ادارے مضبوط ہوں مگر آئین کے پابند، اور عوام آزاد ہوں مگر ذمہ دار۔
آخری جملہ
1947ء میں پاکستان زمین حاصل کرنے کی جدوجہد کا نام تھا؛ 2026ء میں پاکستان کو انصاف، آئین، میرٹ اور عوامی اختیار حاصل کرنے کی جدوجہد کا نام بننا ہوگا۔
اگر ہم نے 1971ء کے سبق کو واقعی سمجھ لیا تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہوسکتا ہے۔
اگر ہم نے اسے پھر بھلا دیا تو تاریخ دوبارہ وہی واقعہ نہیں دہرائے گی—
مگر اس کے نتائج کسی نئی شکل میں ضرور واپس آسکتے ہیں۔
تحقیقی نوٹ
اس تحقیق میں جان بوجھ کرقیام پاکستان کے لیے ’’20 لاکھ گمنام شہداء‘‘ کی قربانی، بجلی کا پیداواری’’ہر یونٹ 100 روپے‘‘، یا کسی مخصوص سیاسی خاندان/ادارے کو پاکستان کی تمام تباہی کا ذمہ دار قرار دینے جیسے دعووں کو قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے لیے الگ دستاویزی ثبوت، سرکاری ریکارڈ اور معتبر تحقیقی حوالہ جات درکار ہیں۔ بجلی کے موجودہ ٹیرف اور ایڈجسٹمنٹس کے لیے NEPRA کے 2026ء کے سرکاری ریکارڈ کو بنیاد بنایا گیا ہے