جماعت اسلامی اور حکومتی وفود میں پٹرولیم لیوی پر مذاکرات کا دوسرا دور
حکومت نے مزید تین روز کی مہلت مانگ لی، لانگ مارچ کا اعلان موخر کرنے کی درخواست
لانگ مارچ سے متعلق حتمی فیصلہ امیر جماعت اسلامی ہی کریں گے، لیاقت بلوچ
اسلام آباد
جماعت اسلامی پاکستان اور حکومت کے وفود کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس کے دوران حکومت نے مزید تین دن کا وقت مانگتے ہوئے جماعت اسلامی سے پیر تک لانگ مارچ کے حتمی اعلان کو مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ اس سلسلہ میں فیصلہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ہی کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات کو پٹرولیم لیوی کے خاتمے پر ہونے والے مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی جبکہ وفد کے دیگر ارکان میں ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ ، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا شامل اور نوید علی بیگ شامل تھے جبکہ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناءاللہ ،وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت پٹرولیم ڈویژن، پاور ڈویژن سمیت مختلف متعلقہ شعبوں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج پنجاب ہاؤس میں جماعت اسلامی اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، جس میں جماعت اسلامی نے اپنے چھ نکات پر تفصیلی بات کی ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دلوانا چاہتی ہے، پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ حکومت نے مزید تین دن کا وقت مانگا ہے اور حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے پیر تک لانگ مارچ کی حتمی کال مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ بیوروکریٹس مشکلات کا پہاڑ پیش کردیتے ہیں، تاہم ہم نے اپنے ایک ایک نکتے پر بات کی ہے۔ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت کے سامنے واضح مؤقف رکھا ہے۔ حکومت کے پاس آئیں بائیں شائیں کے علاوہ کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے چھ اہم شعبے موجود ہیں جہاں حکومت اقدامات کرسکتی ہے۔ آئل ریفائنریز کا مارجن کم کیا جائے اور شرح سود میں تین فیصد کمی کی جائے۔ پاور سیکٹر کے حکام نے مذاکرات میں بتایا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر بھی کام جاری ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے مفت خوری کی بنیاد پر پٹرولیم لیوی عائد کر رکھی ہے، جبکہ حکومتوں کی نااہلی اور بیڈ گورننس کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کو ایک حد تک آگے لے کر چل سکتے ہیں، تاہم اس معاملے میں بہت زیادہ وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ ملک بھر میں جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں اور حکومت کو بھی بتایا ہے کہ اس معاملے کو زیادہ طویل نہیں چلایا جاسکتا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب نہ ہوئی تو ملک بھر سے دھرنے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے۔ مذاکرات نتائج سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کو آگاہ کیا جائے گا اور حتمی فیصلہ وہ کریں گے۔
