برصغیر کی تاریخ میں دو شخصیات

آزاد کی پیش گوئی یا رحمت علی کا خواب؟ پاکستان آج بھی جواب دے رہا ہے
تحریر: انجینئر افتخار چودھری
تاریخ کبھی صرف فاتحوں کی کہانی نہیں ہوتی، تاریخ ان لوگوں کی آواز بھی محفوظ رکھتی ہے جنہوں نے اپنے زمانے سے آگے دیکھنے کی کوشش کی۔ برصغیر کی تاریخ میں دو شخصیات ایسی ہیں جنہیں ایک ساتھ پڑھنا چاہیے: ایک طرف مولانا ابوالکلام آزاد، جو تقسیمِ ہند اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں شدید خدشات رکھتے تھے، اور دوسری طرف چودھری رحمت علی،آزاد کی پیش گوئی یا رحمت علی کا خواب؟ پاکستان آج بھی جواب دے رہا ہے
تحریر: انجینئر افتخار چودھری
تاریخ کبھی صرف فاتحوں کی کہانی نہیں ہوتی، تاریخ ان لوگوں کی آواز بھی محفوظ رکھتی ہے جنہوں نے اپنے زمانے سے آگے دیکھنے کی کوشش کی۔ برصغیر کی تاریخ میں دو شخصیات ایسی ہیں جنہیں ایک ساتھ پڑھنا چاہیے: ایک طرف مولانا ابوالکلام آزاد، جو تقسیمِ ہند اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں شدید خدشات رکھتے تھے، اور دوسری طرف چودھری رحمت علی، جنہوں نے ایک الگ مسلم وطن کا خواب اس وقت دیکھا جب پاکستان کا نام بھی دنیا کے نقشے پر موجود نہ تھا۔
آج مولانا ابوالکلام آزاد سے منسوب ’’تیرہ پیش گوئیاں‘‘ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام آئے گا، فوجی آمریت کا راستہ کھلے گا، صوبائی اور لسانی اختلافات بڑھیں گے، بیرونی طاقتیں اثرانداز ہوں گی، قرضوں کا بوجھ بڑھے گا، فرقہ واریت پیدا ہوگی، مشرقی اور مغربی پاکستان الگ ہوجائیں گے اور بالآخر ریاست کمزور ہوگی۔
ان خدشات میں سے بعض تاریخ کے مختلف ادوار میں درست ثابت ہوئے، بعض جزوی طور پر درست نکلے اور بعض کے بارے میں آج بھی بحث ہوسکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم آزاد کو پڑھ رہے ہیں تو چودھری رحمت علی کو کیوں نہیں پڑھتے؟
ہم نے شاید پاکستان کے ایک بڑے خواب دیکھنے والے کو بہت کم پڑھا ہے۔
چودھری رحمت علی محض ایک شخص نہیں تھے؛ وہ برصغیر کے ان ابتدائی مسلم سیاسی مفکرین میں سے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے لیے الگ سیاسی وطن کا تصور انتہائی واضح انداز میں پیش کیا۔ پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق 1915ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں بزمِ شبلی کے افتتاحی اجلاس میں انہوں نے شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کا ابتدائی تصور پیش کیا۔
یہ 1915ء تھا۔
ذرا تاریخ کے اس سال کو ذہن میں رکھیے۔
پاکستان ابھی خواب بھی نہیں تھا، مسلم لیگ کی جدوجہد اپنے ابتدائی مراحل میں تھی، قائداعظم کی سیاسی جدوجہد کا ایک مختلف مرحلہ تھا اور برصغیر کی اکثریت متحدہ ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ایسے وقت میں ایک نوجوان چودھری رحمت علی مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا تصور پیش کررہا تھا۔
پھر 28 جنوری 1933ء کو کیمبرج میں ان کا مشہور پمفلٹ ’’Now or Never: Are We to Live or Perish Forever?‘‘ سامنے آیا۔ اسی دستاویز میں ’’Pakistan‘‘ کا نام تحریری طور پر سامنے آیا اور انہوں نے پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، کشمیر، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل مسلم وطن کا مطالبہ پیش کیا۔
یہاں ایک تاریخی فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
قائداعظم پاکستان کے سیاسی قیام کے عظیم قائد ہیں۔ ان کی قیادت، مسلم لیگ کی جدوجہد، قراردادِ لاہور اور 1947ء کی سیاسی کامیابی کے بغیر پاکستان کا قیام ممکن نہ تھا۔ لیکن پاکستان کے تصور، نام اور ابتدائی نظریاتی نقشے کے اولین معماروں میں چودھری رحمت علی کا مقام بہت نمایاں ہے۔ اسی لیے انہیں پاکستان کے تصور اور نام کا بانی قرار دینا تاریخی بحث میں ایک مضبوط مؤقف ہے۔ انہیں نظرانداز کرنا ہماری تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اب ذرا مولانا آزاد اور رحمت علی کو ایک ہی ترازو میں رکھیے۔
آزاد نے خطرات دیکھے۔
رحمت علی نے منزل دیکھی۔
آزاد نے پوچھا کہ تقسیم کے بعد کیا ہوگا؟
رحمت علی نے پوچھا کہ اگر مسلمان متحدہ ہندوستان میں سیاسی طور پر بے اختیار ہوگئے تو پھر ان کا مستقبل کیا ہوگا؟
ایک نے انجام کے خدشات بیان کیے، دوسرے نے ایک نئے سیاسی وجود کا خواب دیکھا۔
تاریخ نے دونوں کو کچھ نہ کچھ جواب دیا۔
مولانا آزاد کے بعض خدشات درست ثابت ہوئے۔ پاکستان جمہوری تسلسل قائم نہ رکھ سکا۔ فوجی حکومتیں آئیں۔ سیاسی بحران پیدا ہوئے۔ مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوا۔ صوبائی شناختوں کے مسائل سامنے آئے۔ بیرونی طاقتوں کا اثر رہا۔ قرضوں کا بوجھ بڑھا۔ طبقاتی تقسیم میں اضافہ ہوا۔
لیکن کیا پاکستان ختم ہوگیا؟
نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مولانا آزاد کی پیش گوئی کے مقابلے میں پاکستان کی زندگی خود ایک تاریخی جواب بن جاتی ہے۔
پاکستان آج بھی موجود ہے۔
دنیا کے نقشے پر ایک خودمختار ریاست ہے۔ اس کے پاس ایٹمی قوت ہے، ایک بڑی مسلح افواج ہے، اپنی پارلیمان ہے، اپنی عدالتیں ہیں، اپنی یونیورسٹیاں ہیں، اپنی صنعت ہے، اپنے سائنس دان ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی قوم ہے جس نے مسلسل بحرانوں کے باوجود اس ملک کو اپنے دل سے نہیں نکالا۔
تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
کیا ہم یہ ثابت کرنے میں اپنی ساری توانائی صرف کریں کہ مولانا آزاد غلط تھے؟
نہیں۔
ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ پاکستان کو غلط ثابت ہونے نہیں دینا۔
یہی اصل کام ہے۔
پاکستان کے مسائل حقیقی ہیں۔ ہم اس سے انکار نہیں کرتے۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ پاکستان میں سب کچھ مثالی ہے۔ ہماری جمہوریت زخمی رہی ہے۔ ہمارے ادارے کئی مرتبہ اپنی آئینی حدود سے باہر گئے۔ سیاست دانوں نے بھی غلطیاں کیں۔ انتخابات پر سوال اٹھے۔ حکومتیں مدت پوری نہ کرسکیں۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو برداشت نہ کرسکیں۔
لیکن اس بیماری کا علاج پاکستان سے مایوسی نہیں۔
اس کا علاج قائداعظم کا پاکستان ہے۔
قائداعظم نے جس ریاست کا تصور دیا تھا اس میں ہر ادارے کا اپنا آئینی دائرہ ہے۔
فوج ملک کا دفاع کرے۔
عدلیہ انصاف کرے۔
پارلیمان قانون بنائے۔
حکومت انتظام چلائے۔
الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرائے۔
صحافت سوال کرے۔
اور عوام اپنے ووٹ سے حکومت بنائیں۔
ہر ادارہ اپنا کام کرے۔
اگر ہم نے اس ایک اصول کو سمجھ لیا تو پاکستان کی نصف سے زیادہ سیاسی بیماری کا علاج ہوسکتا ہے۔
آج عمران خان جیل میں ہیں۔ میں عمران خان کا سیاسی حامی ہوں، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن میں یہ بات صرف عمران خان کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے کہتا ہوں کہ سیاسی مسئلے کا بہترین حل سیاسی اور جمہوری طریقہ ہے۔
اگر عمران خان کے خلاف مقدمات ہیں تو عدالتیں فیصلہ کریں۔
اگر وہ قصوروار ہیں تو قانون کے مطابق سزا ہو۔
اگر وہ بے قصور ہیں تو رہا کیا جائے۔
اگر عوام انہیں ووٹ دیتے ہیں تو ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
اور اگر عوام کسی اور کو منتخب کرتے ہیں تو اسے قبول کیا جائے۔
یہی جمہوریت ہے۔
یہی پاکستان کو مضبوط کرے گی۔
اور یہی مولانا آزاد کے ان خدشات کا سب سے مؤثر جواب ہوگا جن میں انہوں نے سیاسی عدم استحکام کا خطرہ دیکھا تھا۔
اب آئیے چودھری رحمت علی کی طرف۔
انہوں نے صرف پاکستان کا نام نہیں سوچا تھا۔ ان کے تصور میں جغرافیہ بھی تھا، سیاسی شناخت بھی تھی اور مسلمانوں کے مستقبل کا سوال بھی تھا۔ ان کے 1933ء کے منشور میں کشمیر بھی پاکستان کے تصور میں شامل تھا۔
آج کشمیر ہمارے سامنے ہے۔
پانی کا مسئلہ ہمارے سامنے ہے۔
دریاؤں کا مسئلہ ہمارے سامنے ہے۔
اور یہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جس خطے کا جغرافیہ، پانی اور دفاع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، وہاں قومی سلامتی کو محض وقتی سیاست کے تابع کیسے کیا جاسکتا ہے؟
یہاں چودھری رحمت علی کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
ہم نے انہیں صرف ایک نام بنا دیا۔
ہم نے کہا: پاکستان کا نام انہوں نے دیا تھا۔
بس!
نہیں، جناب!
ان کی سیاسی فکر کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے نقشے، ان کے پمفلٹ، ان کے دلائل اور ان کے خواب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے، مگر انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
قومیں اپنے مفکرین کو اس لیے نہیں پڑھتیں کہ ان کی ہر بات سے اتفاق کریں؛ قومیں انہیں اس لیے پڑھتی ہیں کہ ان سے اپنے سفر کی سمت سمجھ سکیں۔
ہمیں مولانا آزاد کو بھی پڑھنا ہے۔
ہمیں چودھری رحمت علی کو بھی پڑھنا ہے۔
ہمیں علامہ اقبال کو بھی پڑھنا ہے۔
ہمیں قائداعظم کو سب سے زیادہ پڑھنا ہے۔
اور پھر اپنی تاریخ کو بھی پڑھنا ہے۔
بابری مسجد کا واقعہ ہو، ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال ہو، کشمیر ہو یا پانی کا مسئلہ—یہ سب ہمیں یہ ضرور یاد دلاتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم کے تاریخی اسباب کو محض ایک پرانے باب کے طور پر بند نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن یہاں بھی پاکستان کو نفرت کی ریاست بنانے کی ضرورت نہیں۔
پاکستان کو کسی قوم یا مذہب سے نفرت پر نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے حقوق، آئین، قانون اور انصاف پر قائم کرنا ہوگا۔
یہی قائداعظم کی اصل طاقت تھی۔
یہی پاکستان کی اصل قوت ہوسکتی ہے۔
ہمیں اپنے اندر بھی دیکھنا ہوگا۔
ہزارہ کا آدمی اپنی شناخت پر فخر کرے، پنجابی اپنی شناخت پر فخر کرے، سندھی، بلوچ، پختون، کشمیری سب اپنی اپنی شناختوں سے محبت کریں، لیکن ان سب شناختوں کے اوپر ایک مشترک شناخت ہونی چاہیے:
پاکستانی۔
یہی وفاق کی خوبصورتی ہے۔
یہی چودھری رحمت علی کے تصور کو آج کے پاکستان میں ایک مثبت معنی دے سکتی ہے۔
اور یہیں مولانا آزاد کے خدشات کا بھی جواب موجود ہے۔
صوبائیت ہوگی تو انصاف سے حل کریں گے۔
فرقہ واریت ہوگی تو قانون اور علم سے مقابلہ کریں گے۔
بیرونی دباؤ ہوگا تو قومی مفاد کے مطابق خارجہ پالیسی بنائیں گے۔
قرض ہوگا تو معیشت مضبوط کریں گے۔
سیاسی بحران ہوگا تو ووٹ کی طرف واپس جائیں گے۔
اداروں میں کشمکش ہوگی تو آئین کو فیصلہ کن اتھارٹی بنائیں گے۔
یہی راستہ ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے معاملے میں بھی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ جنرل حمید گل کا معروف مؤقف رہا کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں ایک ایسا کردار ادا کیا جس کے اثرات بالآخر خود پاکستان کو بھگتنا پڑے۔ اس تاریخ سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے کہ پاکستان کو کسی بڑی طاقت کا مہرہ نہیں بننا چاہیے۔ امریکہ ہو، چین ہو، روس ہو یا کوئی اور طاقت، دوستی سب سے ہوسکتی ہے، مگر قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے۔
اور پھر اس قوم کو دیکھیے۔
یہ وہ قوم ہے جس نے ہجرت برداشت کی۔
جنگیں برداشت کیں۔
دہشت گردی برداشت کی۔
زلزلے اور سیلاب برداشت کیے۔
اپنے سپاہی شہید ہوتے دیکھے۔
اپنے نوجوانوں کو قربان کیا۔
پھر بھی پاکستان کو چھوڑا نہیں۔
یہ معمولی قوم نہیں۔
یہ وہ قوم ہے جو مشکل وقت میں کھڑی ہوجاتی ہے۔
اسی لیے میں مولانا آزاد کی پیش گوئیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
میں چودھری رحمت علی کے خواب سے بھی آنکھیں نہیں چراتا۔
میں دونوں کو پڑھتا ہوں۔
ایک ہمیں خطرات سے آگاہ کرتا ہے۔
دوسرا ہمیں منزل یاد دلاتا ہے۔
لیکن پاکستان کا فیصلہ نہ آزاد کریں گے، نہ رحمت علی۔
پاکستان کا فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے۔
اور عوام کا سب سے بڑا ہتھیار بندوق نہیں، ووٹ ہے۔
اسی لیے اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ مولانا آزاد اور چودھری رحمت علی کے درمیان پاکستان کا مستقبل کہاں کھڑا ہے تو میرا جواب بہت سادہ ہے:
پاکستان آزاد کے خدشات سے سبق لے اور رحمت علی کے خواب سے حوصلہ۔
اور قائداعظم کے آئین پسند، جمہوری اور قانون کی حکمرانی والے پاکستان کو اپنی منزل بنائے۔
پاکستان کو کسی پیش گوئی کا جواب نہیں بننا۔
پاکستان کو اپنی قوم کے عزم کا جواب بننا ہے۔
ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جسے دیکھ کر تاریخ کہے: خطرات بہت تھے، مگر قوم ان خطرات سے بڑی نکلی۔
یہی پاکستان کا اصل جواب ہے۔
یہی چودھری رحمت علی کے خواب کی تکمیل ہے۔
اور یہی مولانا ابوالکلام آزاد کے خدشات کا سب سے خوبصورت جواب بھی۔ جنہوں نے ایک الگ مسلم وطن کا خواب اس وقت دیکھا جب پاکستان کا نام بھی دنیا کے نقشے پر موجود نہ تھا۔
آج مولانا ابوالکلام آزاد سے منسوب ’’تیرہ پیش گوئیاں‘‘ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام آئے گا، فوجی آمریت کا راستہ کھلے گا، صوبائی اور لسانی اختلافات بڑھیں گے، بیرونی طاقتیں اثرانداز ہوں گی، قرضوں کا بوجھ بڑھے گا، فرقہ واریت پیدا ہوگی، مشرقی اور مغربی پاکستان الگ ہوجائیں گے اور بالآخر ریاست کمزور ہوگی۔
ان خدشات میں سے بعض تاریخ کے مختلف ادوار میں درست ثابت ہوئے، بعض جزوی طور پر درست نکلے اور بعض کے بارے میں آج بھی بحث ہوسکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم آزاد کو پڑھ رہے ہیں تو چودھری رحمت علی کو کیوں نہیں پڑھتے؟
ہم نے شاید پاکستان کے ایک بڑے خواب دیکھنے والے کو بہت کم پڑھا ہے۔
چودھری رحمت علی محض ایک شخص نہیں تھے؛ وہ برصغیر کے ان ابتدائی مسلم سیاسی مفکرین میں سے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے لیے الگ سیاسی وطن کا تصور انتہائی واضح انداز میں پیش کیا۔ پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق 1915ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں بزمِ شبلی کے افتتاحی اجلاس میں انہوں نے شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کا ابتدائی تصور پیش کیا۔
یہ 1915ء تھا۔
ذرا تاریخ کے اس سال کو ذہن میں رکھیے۔
پاکستان ابھی خواب بھی نہیں تھا، مسلم لیگ کی جدوجہد اپنے ابتدائی مراحل میں تھی، قائداعظم کی سیاسی جدوجہد کا ایک مختلف مرحلہ تھا اور برصغیر کی اکثریت متحدہ ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ایسے وقت میں ایک نوجوان چودھری رحمت علی مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا تصور پیش کررہا تھا۔
پھر 28 جنوری 1933ء کو کیمبرج میں ان کا مشہور پمفلٹ ’’Now or Never: Are We to Live or Perish Forever?‘‘ سامنے آیا۔ اسی دستاویز میں ’’Pakistan‘‘ کا نام تحریری طور پر سامنے آیا اور انہوں نے پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، کشمیر، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل مسلم وطن کا مطالبہ پیش کیا۔
یہاں ایک تاریخی فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
قائداعظم پاکستان کے سیاسی قیام کے عظیم قائد ہیں۔ ان کی قیادت، مسلم لیگ کی جدوجہد، قراردادِ لاہور اور 1947ء کی سیاسی کامیابی کے بغیر پاکستان کا قیام ممکن نہ تھا۔ لیکن پاکستان کے تصور، نام اور ابتدائی نظریاتی نقشے کے اولین معماروں میں چودھری رحمت علی کا مقام بہت نمایاں ہے۔ اسی لیے انہیں پاکستان کے تصور اور نام کا بانی قرار دینا تاریخی بحث میں ایک مضبوط مؤقف ہے۔ انہیں نظرانداز کرنا ہماری تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اب ذرا مولانا آزاد اور رحمت علی کو ایک ہی ترازو میں رکھیے۔
آزاد نے خطرات دیکھے۔
رحمت علی نے منزل دیکھی۔
آزاد نے پوچھا کہ تقسیم کے بعد کیا ہوگا؟
رحمت علی نے پوچھا کہ اگر مسلمان متحدہ ہندوستان میں سیاسی طور پر بے اختیار ہوگئے تو پھر ان کا مستقبل کیا ہوگا؟
ایک نے انجام کے خدشات بیان کیے، دوسرے نے ایک نئے سیاسی وجود کا خواب دیکھا۔
تاریخ نے دونوں کو کچھ نہ کچھ جواب دیا۔
مولانا آزاد کے بعض خدشات درست ثابت ہوئے۔ پاکستان جمہوری تسلسل قائم نہ رکھ سکا۔ فوجی حکومتیں آئیں۔ سیاسی بحران پیدا ہوئے۔ مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوا۔ صوبائی شناختوں کے مسائل سامنے آئے۔ بیرونی طاقتوں کا اثر رہا۔ قرضوں کا بوجھ بڑھا۔ طبقاتی تقسیم میں اضافہ ہوا۔
لیکن کیا پاکستان ختم ہوگیا؟
نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مولانا آزاد کی پیش گوئی کے مقابلے میں پاکستان کی زندگی خود ایک تاریخی جواب بن جاتی ہے۔
پاکستان آج بھی موجود ہے۔
دنیا کے نقشے پر ایک خودمختار ریاست ہے۔ اس کے پاس ایٹمی قوت ہے، ایک بڑی مسلح افواج ہے، اپنی پارلیمان ہے، اپنی عدالتیں ہیں، اپنی یونیورسٹیاں ہیں، اپنی صنعت ہے، اپنے سائنس دان ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی قوم ہے جس نے مسلسل بحرانوں کے باوجود اس ملک کو اپنے دل سے نہیں نکالا۔
تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
کیا ہم یہ ثابت کرنے میں اپنی ساری توانائی صرف کریں کہ مولانا آزاد غلط تھے؟
نہیں۔
ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ پاکستان کو غلط ثابت ہونے نہیں دینا۔
یہی اصل کام ہے۔
پاکستان کے مسائل حقیقی ہیں۔ ہم اس سے انکار نہیں کرتے۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ پاکستان میں سب کچھ مثالی ہے۔ ہماری جمہوریت زخمی رہی ہے۔ ہمارے ادارے کئی مرتبہ اپنی آئینی حدود سے باہر گئے۔ سیاست دانوں نے بھی غلطیاں کیں۔ انتخابات پر سوال اٹھے۔ حکومتیں مدت پوری نہ کرسکیں۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو برداشت نہ کرسکیں۔
لیکن اس بیماری کا علاج پاکستان سے مایوسی نہیں۔
اس کا علاج قائداعظم کا پاکستان ہے۔
قائداعظم نے جس ریاست کا تصور دیا تھا اس میں ہر ادارے کا اپنا آئینی دائرہ ہے۔
فوج ملک کا دفاع کرے۔
عدلیہ انصاف کرے۔
پارلیمان قانون بنائے۔
حکومت انتظام چلائے۔
الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرائے۔
صحافت سوال کرے۔
اور عوام اپنے ووٹ سے حکومت بنائیں۔
ہر ادارہ اپنا کام کرے۔
اگر ہم نے اس ایک اصول کو سمجھ لیا تو پاکستان کی نصف سے زیادہ سیاسی بیماری کا علاج ہوسکتا ہے۔
آج عمران خان جیل میں ہیں۔ میں عمران خان کا سیاسی حامی ہوں، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن میں یہ بات صرف عمران خان کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے کہتا ہوں کہ سیاسی مسئلے کا بہترین حل سیاسی اور جمہوری طریقہ ہے۔
اگر عمران خان کے خلاف مقدمات ہیں تو عدالتیں فیصلہ کریں۔
اگر وہ قصوروار ہیں تو قانون کے مطابق سزا ہو۔
اگر وہ بے قصور ہیں تو رہا کیا جائے۔
اگر عوام انہیں ووٹ دیتے ہیں تو ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
اور اگر عوام کسی اور کو منتخب کرتے ہیں تو اسے قبول کیا جائے۔
یہی جمہوریت ہے۔
یہی پاکستان کو مضبوط کرے گی۔
اور یہی مولانا آزاد کے ان خدشات کا سب سے مؤثر جواب ہوگا جن میں انہوں نے سیاسی عدم استحکام کا خطرہ دیکھا تھا۔
اب آئیے چودھری رحمت علی کی طرف۔
انہوں نے صرف پاکستان کا نام نہیں سوچا تھا۔ ان کے تصور میں جغرافیہ بھی تھا، سیاسی شناخت بھی تھی اور مسلمانوں کے مستقبل کا سوال بھی تھا۔ ان کے 1933ء کے منشور میں کشمیر بھی پاکستان کے تصور میں شامل تھا۔
آج کشمیر ہمارے سامنے ہے۔
پانی کا مسئلہ ہمارے سامنے ہے۔
دریاؤں کا مسئلہ ہمارے سامنے ہے۔
اور یہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جس خطے کا جغرافیہ، پانی اور دفاع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، وہاں قومی سلامتی کو محض وقتی سیاست کے تابع کیسے کیا جاسکتا ہے؟
یہاں چودھری رحمت علی کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
ہم نے انہیں صرف ایک نام بنا دیا۔
ہم نے کہا: پاکستان کا نام انہوں نے دیا تھا۔
بس!
نہیں، جناب!
ان کی سیاسی فکر کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے نقشے، ان کے پمفلٹ، ان کے دلائل اور ان کے خواب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے، مگر انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
قومیں اپنے مفکرین کو اس لیے نہیں پڑھتیں کہ ان کی ہر بات سے اتفاق کریں؛ قومیں انہیں اس لیے پڑھتی ہیں کہ ان سے اپنے سفر کی سمت سمجھ سکیں۔
ہمیں مولانا آزاد کو بھی پڑھنا ہے۔
ہمیں چودھری رحمت علی کو بھی پڑھنا ہے۔
ہمیں علامہ اقبال کو بھی پڑھنا ہے۔
ہمیں قائداعظم کو سب سے زیادہ پڑھنا ہے۔
اور پھر اپنی تاریخ کو بھی پڑھنا ہے۔
بابری مسجد کا واقعہ ہو، ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال ہو، کشمیر ہو یا پانی کا مسئلہ—یہ سب ہمیں یہ ضرور یاد دلاتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم کے تاریخی اسباب کو محض ایک پرانے باب کے طور پر بند نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن یہاں بھی پاکستان کو نفرت کی ریاست بنانے کی ضرورت نہیں۔
پاکستان کو کسی قوم یا مذہب سے نفرت پر نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے حقوق، آئین، قانون اور انصاف پر قائم کرنا ہوگا۔
یہی قائداعظم کی اصل طاقت تھی۔
یہی پاکستان کی اصل قوت ہوسکتی ہے۔
ہمیں اپنے اندر بھی دیکھنا ہوگا۔
ہزارہ کا آدمی اپنی شناخت پر فخر کرے، پنجابی اپنی شناخت پر فخر کرے، سندھی، بلوچ، پختون، کشمیری سب اپنی اپنی شناختوں سے محبت کریں، لیکن ان سب شناختوں کے اوپر ایک مشترک شناخت ہونی چاہیے:
پاکستانی۔
یہی وفاق کی خوبصورتی ہے۔
یہی چودھری رحمت علی کے تصور کو آج کے پاکستان میں ایک مثبت معنی دے سکتی ہے۔
اور یہیں مولانا آزاد کے خدشات کا بھی جواب موجود ہے۔
صوبائیت ہوگی تو انصاف سے حل کریں گے۔
فرقہ واریت ہوگی تو قانون اور علم سے مقابلہ کریں گے۔
بیرونی دباؤ ہوگا تو قومی مفاد کے مطابق خارجہ پالیسی بنائیں گے۔
قرض ہوگا تو معیشت مضبوط کریں گے۔
سیاسی بحران ہوگا تو ووٹ کی طرف واپس جائیں گے۔
اداروں میں کشمکش ہوگی تو آئین کو فیصلہ کن اتھارٹی بنائیں گے۔
یہی راستہ ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے معاملے میں بھی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ جنرل حمید گل کا معروف مؤقف رہا کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں ایک ایسا کردار ادا کیا جس کے اثرات بالآخر خود پاکستان کو بھگتنا پڑے۔ اس تاریخ سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے کہ پاکستان کو کسی بڑی طاقت کا مہرہ نہیں بننا چاہیے۔ امریکہ ہو، چین ہو، روس ہو یا کوئی اور طاقت، دوستی سب سے ہوسکتی ہے، مگر قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے۔
اور پھر اس قوم کو دیکھیے۔
یہ وہ قوم ہے جس نے ہجرت برداشت کی۔
جنگیں برداشت کیں۔
دہشت گردی برداشت کی۔
زلزلے اور سیلاب برداشت کیے۔
اپنے سپاہی شہید ہوتے دیکھے۔
اپنے نوجوانوں کو قربان کیا۔
پھر بھی پاکستان کو چھوڑا نہیں۔
یہ معمولی قوم نہیں۔
یہ وہ قوم ہے جو مشکل وقت میں کھڑی ہوجاتی ہے۔
اسی لیے میں مولانا آزاد کی پیش گوئیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
میں چودھری رحمت علی کے خواب سے بھی آنکھیں نہیں چراتا۔
میں دونوں کو پڑھتا ہوں۔
ایک ہمیں خطرات سے آگاہ کرتا ہے۔
دوسرا ہمیں منزل یاد دلاتا ہے۔
لیکن پاکستان کا فیصلہ نہ آزاد کریں گے، نہ رحمت علی۔
پاکستان کا فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے۔
اور عوام کا سب سے بڑا ہتھیار بندوق نہیں، ووٹ ہے۔
اسی لیے اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ مولانا آزاد اور چودھری رحمت علی کے درمیان پاکستان کا مستقبل کہاں کھڑا ہے تو میرا جواب بہت سادہ ہے:
پاکستان آزاد کے خدشات سے سبق لے اور رحمت علی کے خواب سے حوصلہ۔
اور قائداعظم کے آئین پسند، جمہوری اور قانون کی حکمرانی والے پاکستان کو اپنی منزل بنائے۔
پاکستان کو کسی پیش گوئی کا جواب نہیں بننا۔
پاکستان کو اپنی قوم کے عزم کا جواب بننا ہے۔
ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جسے دیکھ کر تاریخ کہے: خطرات بہت تھے، مگر قوم ان خطرات سے بڑی نکلی۔
یہی پاکستان کا اصل جواب ہے۔
یہی چودھری رحمت علی کے خواب کی تکمیل ہے۔
اور یہی مولانا ابوالکلام آزاد کے خدشات کا سب سے خوبصورت جواب بھی۔