سچ تو کہہ دوں مگر سنے گا کون۔
راہ میں خار ہیں چنے گا کون۔
سچ تو یہ ہے کہ لوگ ڈرتے ہیں۔
کچھ نا کہتے ہیں، آہ بھرتے ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ لوگ پیاسے ہیں۔
حکمرانوں کے وہ دلاسے ہیں۔
بھوک نے کفر کے قریب کیا۔
سچ یہ ہے، جھوٹ ہی نصیب کیا۔
فکر زخمی ہے، لب سلے ہوئے ہیں۔
یہ گماں ہے کہ سب ملے ہوئے ہیں۔
قدغنیں پیک پہ ہیں، پیکا ہے۔
حکمرانوں کا ظرف دیکھا ہے۔
یوم آزادی صحافت ہے۔
یعنی جمبہوریت کی ساعت ہے۔
اے ایچ خانزادہ
