از: وقاص احمد آسی
مرکزی صدر
پاکستان ریلوے پریم یونین
دوستو ابھی یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن گزرے کچھ ہی روز ہوۓ ہیں کہ گزشتہ سال اسی ماہ میں اللہ رب کریم نے ہمیں معرکہ حق کی صورت میں کامیابی وکامرانی سے ہمکنار کیا تھا جس سے نا صرف ہمارے وطن عزیز کا نام روشن ہوا بلکہ ہماری افواج اور ایٸرفورس نے دشمن کے دانت کھٹے کر اپنی قوم کا سر بھی بلند کیا،
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ مزدور کو صرف یکم مٸی پر یاد کیا جاتا ہے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مزدور کا پہلا فرض وطن ہے۔ پاکستان ریلوے پریم یونین(آسی) اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے ہم اپنی بہادر افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
1. ریل اور بندوق کا رشتہ پرانا ہے
1965 اور 1971 کی جنگوں میں ریلوے مزدور نے ثابت کیا کہ انجن صرف مسافر نہیں، اسلحہ اور جوان بھی محاذ پر پہنچاتا ہے۔ لاہور ورکشاپ کے مزدوروں نے راتوں کو جاگ کر ٹوٹے ہوئے ڈبے مرمت کیے۔ ڈرائیوروں نے بلیک آؤٹ میں بغیر ہیڈلائٹ کے گاڑیاں چلائیں۔ گارڈوں نے بمباری میں بھی سگنل کا تقدس نہیں توڑا۔ تب بھی نعرہ یہی تھا: “ریل چلے گی، وطن بچے گا”۔
2. آج کا ریل مزدور، کل کا مجاہد
دشمن صرف سرحد پر نہیں ہوتا۔ معاشی کمزوری، کرپشن، اور مایوسی بھی اندرونی دشمن ہیں۔ ریلوے کا مزدور جب ایمانداری سے ڈیوٹی کرتا ہے، جب کرپشن کو بے نقاب کرتا ہے، جب مسافر کی جان بچانے کے لیے اپنی جان دیتا ہے – وہ بھی دفاعِ وطن ہی کر رہا ہوتا ہے۔ کراچی ڈویژن کے سپرنٹنڈنٹ جمشید عالم نے آئی ٹی میں کرپشن پکڑ کر یہی ثبوت دیا۔ پریم یونین (آسی) نے اس اقدام کو سراہ کر بتا دیا کہ ہم احتساب پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ کیونکہ کرپشن سے پاک ادارہ ہی مضبوط فوج کی پشت پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
3. ہمارا عہد: 4 نکات
پریم یونین(آسی) معرکہ حق کے موقع پر قوم اور افواج پاکستان سے یہ وعدہ کرتی ہے:
– پہیہ نہیں رکنے دیں گے: جنگ ہو یا امن، سیلاب ہو یا زلزلہ، ریل کا پہیہ چلتا رہے گا۔ فوجی سامان، راشن، ادویات کی ترسیل ہماری ذمہ داری ہے۔
– کرپشن کے خلاف صف اول: ملک کو اندر سے کھوکھلا کرنے والی کرپشن کے خلاف ہم ساتھ کھڑے ہیں۔ یونین کا کوئی عہدیدار قصوروار نکلا تو سزا پہلے ہم دیں گے۔
– شہداء کا ورثہ: ریلوے کے شہید ڈرائیور، ٹریک مین، گیٹ مین ہمارے ہیرو ہیں۔ ان کے بچوں کی کفالت اور ان کے مشن کی تکمیل ہم پر فرض ہے۔
– اتحاد کی فضا: سیاسی دباؤ، لسانیت، فرقہ واریت کو ہم ریلوے میں گھسنے نہیں دیں گے۔ ہمارا یونین کارڈ سبز ہلالی پرچم ہے۔
4. فوج کو پیغام
اے وطن کے محافظو! جب تم سِیَاچن کی برف میں پہرہ دیتے ہو، تو تمہیں یقین ہو کہ میدانی علاقوں میں ریلوے کا مزدور تمہارے لیے راستہ صاف رکھے گا۔ جب تم دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہو، تو یاد رکھو کہ تمہارے پیچھے 72 ہزار ریلوے ملازم دعاگو ہیں۔ تم سرحد پر، ہم پٹری پر – منزل ایک ہے: پاکستان۔
پریم یونین(آسی) کا ہر کارکن سمجھتا ہے کہ “مزدور کا ہنر” اور “سپاہی کی بندوق” دونوں وطن کے دفاع کی ضمانت ہیں۔ کوئی بیرونی یا اندرونی دشمن اس اتحاد کو نہیں توڑ سکتا۔ ہم نے ماضی میں قربانیا دی ہیں، آج ایمانداری کی مثال قائم کر رہے ہیں، اور کل ضرورت پڑی تو جان بھی دے دیں گے۔ انشاء اللہ
*_پاکستان ریلوے زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد
_پاکستان ریلوے
مزد ور, سپاہی اتحاد زندہ باد_*
