نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیاسی قومی اُمور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے گوجرانوالہ یوتھ ممبر سازی کیمپ اور لاہور میں ‘شبِ تربیت’ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں پر ظلم کے سارے نظام زمین بوس ہورہے ہیں، اشتراکیت کے زوال کے بعد سیکولرزم، تعصبات پر مبنی نیشنلزم اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام زوال پذیر ہیں۔ امریکہ اور یورپ چین کی اقتصادی طاقت سے خوفزدہ ہیں، چین کو اپنے حصار میں لانے کے حربوں میں امریکہ اور یورپ ناکام ہونگے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ناجائز اور یکطرفہ جارحیت مسلّط کی، پوری ایرانی قوم جارحیت کے مقابلہ میں یک جان ہوگئی، ایران کے رہبر اعلیٰ کی شہادت نے ایران کو متحد کردیا اور امریکہ، صیہونیت کو ذلّت آمیز پسپائی کا منہ دیکھنا پڑا۔ امریکہ کے پاس ایران سے مستقل جنگ بندی اور باوقار معاہدہ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ ازسرِنو جنگ مسلّط کرکے بھی امریکہ، اسرائیل کو دُنیا بھر سے بڑی مخالفت، مزاحمت اور رُسوائی کا سامنا ہوگا۔ سمندری، آبی گزرگاہوں کی بندش، ناکہ بندی انسان دشمن جنگی جرم ہے، امریکہ اِس کا ذمہ دار ہے۔ جنگ بندی کے لئے پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششیں امن پسندی اور جنگی نقصانات کے خاتمہ کی سمت میں اہم پیشرفت ہے ، پوری قوم اِن امن کوششوں کی پشتیبان ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالمی، سفارتی، جنگی محاذ پر کامیابیاں پاکستان کے لئے باعثِ فخر ہیں لیکن اندرونی سیاسی، معاشی، انتظامی اور آئینی بحران تمام کامیابیوں کو بےثمر بنارہا ہے۔ حکومتی اتحادی بیک وقت اقتدار کے مزے اُڑارہے اور باہم دست و گریبان بھی ہیں، اِس نوراکشتی کا تمام تر نقصان ملک و مِلّت کو ہورہا ہے۔ ہائبرڈ نظام کے تخلیق کاروں کو جان لینا چاہئے کہ فیڈریشن کا نظام، صوبوں کے حقوق کا نظام صرف اور صرف آئین کی بالادستی سے ہی چل سکتا ہے۔ آئین کو پامال کرکے، عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ کرکے اور عوام پر ناجائز معاشی دباؤ بڑھاکر کوئی بھی غیرآئینی ایڈونچر سب کےلئے نقصان کا باعث ہوگا۔ جماعتِ اسلامی کا ملک کو سیاسی، آئینی، اقتصادی اور دہشت گردی کے بحرانوں سے نکالنے کے لئے واضح روڈمیپ ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی، دینی جماعتیں اور قیادت قومی ترجیحات کے کم از کم ایجنڈا پر یک آواز ہوجائیں: سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لئے قومی سیاسی ڈائیلاگ کیا جائے، دہشت گردی میں بیرونی مداخلت کے سدّباب کےلئے ازسرِنو متفقہ قومی ایکشن پلان ترتیب دیا جائے، پے در پے آئینی ترامیم کے ذریعے پوری قوم کے متفقہ تاریخی دستاویز کا چہرہ مسخ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، معاشی بحران کے خاتمہ کے لئے کرپشن، مفت خوری، قومی خزانہ پر سرکاری عیاشیوں کا بوجھ ختم کرکے خودانحصاری، خوداعتمادی، امانت و دیانت پر مبنی نظام کے قیام پر اتفاق کیا جائے۔ بااختیار بلدیاتی نظام اور عوام کے بروقت بلدیاتی انتخابات کا حق تسلیم کیا جائے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا خصوصاً ضم اضلاع کے مسائل پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ جماعتِ اسلامی ممبرسازی، عوامی کمیٹیوں اور نوجوانوں کو بااختیار بناکر ظالمانہ، فرسودہ، گلے سڑے، عوام دشمن نظام کے خاتمہ اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد کررہی ہے۔#
