اختلاف —-مگر نفرت نہیں

خواجہ فاروق احمد کے گھر پر چھاپہ: آزاد کشمیر کی روایات کو کون بدلنا چاہتا ہے؟

آزاد کشمیر کی سیاست میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک سیاسی جماعت کی نمائندہ نہیں ہوتیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی یادداشت، سیاسی برداشت اور جمہوری روایات کی علامت بن جاتی ہیں۔ خواجہ فاروق احمد بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ گزشتہ رات مظفرآباد میں ان کی رہائش گاہ پر مبینہ چھاپے کی خبر سن کر مجھے دلی صدمہ پہنچا۔ یہ صدمہ صرف اس لیے نہیں کہ خواجہ فاروق احمد میرے دیرینہ دوست ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایسے واقعات ہماری روایات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

خواجہ فاروق احمد نے اپنی سیاسی زندگی میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ سابق قائم مقام وزیراعظم رہے، اپوزیشن لیڈر رہے اور پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے بھی کردار ادا کرتے رہے۔ ان سے سیاسی اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی آراء سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی سیاسی حیثیت اور عوامی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں۔ وہ ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں مخالفین بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جب ان کی رہائش گاہ پر افراد پہنچے تو وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ واقعے کی تفصیلات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئیں، لیکن جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ تشویش پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آزاد کشمیر کی سیاست اب اس راستے پر چل پڑی ہے جہاں سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جائے گی؟ کیا ہم نے بھی وہی راستے اختیار کرنے ہیں جنہوں نے ماضی میں جمہوری معاشروں کو نقصان پہنچایا؟

میں آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت، بالخصوص وزیراعظم چوہدری انوارالحق اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی مکمل وضاحت کی جائے۔ اگر کوئی قانونی معاملہ تھا تو اسے قانون کے مطابق نمٹایا جانا چاہیے تھا۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ برتاؤ کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ ریاست کی طاقت کا استعمال ہمیشہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔

میں خصوصاً فیصل راٹھور صاحب سے بھی مخاطب ہوں۔ فیصل راٹھور کے والد ایک ممتاز سیاسی شخصیت تھے اور قومی سیاست میں ان کا اپنا مقام تھا۔ اختلافات کے باوجود بزرگوں کا احترام ہماری روایت ہے۔ اگرچہ ماضی میں چوہدری مقبول گجر کو اسمبلی سے نکالنے کے بعض واقعات مجھے پسند نہیں آئے اور میں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا، لیکن اس کے باوجود ہم نے ہمیشہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ یہی آزاد کشمیر کی خوبصورتی رہی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاست کی ایک منفرد روایت رہی ہے۔ یہاں شدید سیاسی اختلافات کے باوجود لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہے ہیں۔ انتخابات کے دوران مخالف امیدوار ایک دوسرے پر تنقید کرتے تھے لیکن شام کو ایک ہی محفل میں بیٹھ کر چائے بھی پی لیتے تھے۔ سیاسی کارکن ایک دوسرے کے نظریات سے اختلاف رکھتے تھے لیکن عزت اور احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ یہی وہ روایت تھی جس نے آزاد کشمیر کو پاکستان کے دیگر سیاسی خطوں سے ممتاز بنایا۔

آج سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نئی روایت کہاں سے درآمد کی جا رہی ہے؟ کون لوگ ہیں جو آزاد کشمیر کے سیاسی ماحول میں تلخی، خوف اور عدم برداشت پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ کون ایسے مشیر ہیں جو حکومت کو یہ مشورے دے رہے ہیں کہ سیاسی مسائل کا حل دباؤ اور طاقت کے استعمال میں تلاش کیا جائے؟ اگر واقعی ایسے عناصر موجود ہیں تو ان کے مشوروں کو ہالہ پل سے پار پھینک دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ مشورے نہ حکومت کے حق میں ہیں، نہ اپوزیشن کے حق میں اور نہ ہی آزاد کشمیر کے عوام کے حق میں۔

سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اگر کسی رہنما نے اسمبلی کے اندر یا باہر کوئی مؤقف اختیار کیا ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے۔ اگر کسی نے حکومت پر تنقید کی ہے تو حکومت کو اپنی کارکردگی کے ذریعے جواب دینا چاہیے۔ اگر عوام احتجاج کر رہے ہیں تو ان سے مذاکرات کیے جائیں۔ جمہوریت میں مکالمہ کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہوتا ہے۔

خواجہ فاروق احمد نے حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال، عوامی احتجاج، خواتین کی گرفتاریوں اور مذاکرات کی ضرورت کے بارے میں کھل کر بات کی۔ یہ ان کا جمہوری حق ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہر مخالف آواز کو خطرہ سمجھ لیا جائے تو پھر جمہوریت کا وجود ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

میں اپنے تمام سیاسی دوستوں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، ایک مخلصانہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ آزاد کشمیر کو نفرت اور انتقام کی سیاست سے بچائیں۔ یہ خطہ قربانیوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ جمہوری اقدار، رواداری اور بھائی چارے کو ترجیح دی ہے۔ ہمیں ان روایات کو زندہ رکھنا ہے، نہ کہ انہیں دفن کرنا ہے۔

میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ سیاست میں وقتی طاقت ہمیشہ مستقل نہیں رہتی۔ آج جو حکومت میں ہے کل اپوزیشن میں ہو سکتا ہے اور جو اپوزیشن میں ہے وہ کل اقتدار میں آ سکتا ہے۔ لیکن کردار، روایات اور جمہوری اصول ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے دانشمند سیاست دان اپنے مخالفین کے حقوق کا بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا اپنے ساتھیوں کا۔

خواجہ فاروق احمد کے گھر پر مبینہ چھاپے کی خبر نے بہت سے لوگوں کو پریشان کیا ہے۔ حکومت اگر اس معاملے کی فوری وضاحت کرتی ہے تو بے چینی کم ہو سکتی ہے۔ خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے جبکہ شفافیت اعتماد پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری حکومتیں اپنے اقدامات کی وضاحت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔

آزاد کشمیر کے عوام سیاسی کشیدگی نہیں بلکہ مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ وہ ترقی چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں، بہتر تعلیم اور صحت چاہتے ہیں۔ ان کی توجہ حقیقی مسائل پر مرکوز ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے تنازعات پر جو سیاسی ماحول کو مزید خراب کریں۔

میں ایک بار پھر اس واقعے کی مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ آزاد کشمیر میں تمام فیصلے جمہوری اور آئینی اصولوں کے مطابق کیے جائیں۔ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے۔ مخالف آوازوں کو دبانے کے بجائے سنا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آزاد کشمیر کی اس خوبصورت روایت کو محفوظ رکھا جائے جس میں اختلاف تھا مگر نفرت نہیں تھی، مقابلہ تھا مگر انتقام نہیں تھا، اور سیاست تھی مگر شرافت کے دائرے کے اندر تھی۔

آزاد کشمیر کے عوام کی یہی روایت ہے، یہی پہچان ہے اور یہی مستقبل کا راستہ بھی۔