جماعتِ اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی جدوجہد سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت، تجارت کی بحالی اور ایران امریکہ کے درمیان مستقبل جنگ بندی کے لئے مفاہمتی معاہدہ بڑی سفارتی کامیابی ہے. وزیراعظم، فیلڈمارشل، وزیرجارجہ، وزیرداخلہ کی کوششیں پاکستان کے لئے عزت، وقار کا ذریعہ بنی ہیں. جماعتِ اسلامی ایران امریکہ معاہدہ کا خیرمقدم کرتی ہے، معاہدہ کے بعد پاکستان سمیت خطہ کے ممالک کے لئے چیلنجز اور امکانات بہت بڑھ گئے ہیں. امریکہ کی معاہدوں کو توڑنے کی روایت اور وعدوں کی عدم پاسداری، عالمی سطح پر خراب ریکارڈ اور بےاعتباری سب سے بڑا خطرہ ہے. خطہ میں پائیدار دفاع اور امن کے لئے پاکستان سعودیہ کے تاریخی دفاعی معاہدہ میں ترکیہ اور ایران کی بھی شمولیت بڑی طاقت بن سکتی ہے. ایران سے تعلقات محض سفارتی سطح پر ہی نہیں تجارتی سطح پر مستحکم کئے جائیں، امریکی پابندیوں کے باعث طویل عرصے سے زیرالتواء پاک-ایران تیل پائپ لائن منصوبہ مکمل کیا جائے. ایرانی تیل کی پاکستان میں فروخت کو ریگولرائز کیا جائے، جس میں بلوچستان کی مقامی آبادی کو معاشی تعاون اور روزگار ملے. ایران کے ساتھ باہمی تجارت 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا اعلان خوش آئند ہے. پاکستان میں زراعت، صنعتی اشیاء کی پیداواری لاگت کو کم از کم سطح پر لانے کے لئے پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس کی قیمتوں میں قابلِ برداشت حد تک کمی لائی جائے، تاکہ معیشت کا پہیہ رواں دواں ہو، لوگوں کو روزگار ملے، عوام کی قوتِ خرید بڑھے اور قومی محصولات میں بھی اضافہ ہو.
لیاقت بلوچ نے مری میں بلدیاتی انتخابی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کیا، بلوچستان کے دانشور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شکیل روشن سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور آزاد جموں و کشمیر جماعتِ اسلامی اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی. لیاقت بلوچ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 17 دن سے عوامی سطح پر احتجاج، ریاستی سطح پر ضِد اور تشدّد، راستوں کی بندش، غذائی اشیاء کی قلت کی صورتِ حال پر اندرون و بیرونِ ملک تشویش اور پریشانی پاکستان تحریکِ آزادی کشمیر سے بےپناہ محبت اور وابستگی کی بنیاد پر ہے. ریاستی قوت، طاقت کے استعمال اور مذاکرات کے دروازے بند کرنے سے نہیں، ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے، مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بھی حل مذاکرات ہی میں ہے. حکومت، ریاستی سکیورٹی ادارے اپنی رِٹ قائم کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کی بجائے مذاکرات کی میز پر مسائل کا حل نکالیں. جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج عوامی مسائل پر ہے. متنازع مطالبات پر عمومی اتفاق نہیں لیکن اس کا حل بھی بات چیت کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے. جموں کشمیر کے عوام نے اپنی آزادی، حقِ خودارادیت کے حصول کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں. مقبوضہ جموں و کشمیر میں بدترین بھارتی مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب اور نسل کشی و جنگی جرائم کا عنوان ہے. وزیراعظم، حکومتِ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر حکومت اور سیاسی قیادت دانش مندی سے حالات کو سنبھالنے کے لئے کردار ادا کریں. جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہرین کی اکثریت بھارت دشمن، پاکستان دوست ہے. اختلافی نقطہ نظر رکھنے والی اقلیت غالب اکثریت کے جذبات کو یرغمال نہیں بناسکتی. جماعتِ اسلامی آزاد کشمیر میں بروقت انجابات اور احتجاجی صورتِ حال کی انصاف پر مبنی حل کے لئے جدوجہد کررہی ہے
