گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں کئی گنا اضافہ عوام پر ایک اور ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالنے کے مترادف ہ

اسلام آباد—–امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا نے اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں مجوزہ اضافے کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اشرافیہ، جاگیرداروں، بڑے سرمایہ داروں اور مراعات یافتہ طبقے کو مکمل ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ہر بار عام آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر جماعت اسلامی میں میڈیا کو جاری بیان میں کیا۔

امیر اسلام آباد نے کہا کہ شہری پہلے ہی پٹرولیم لیوی، سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، بجلی و گیس کے بھاری بلوں اور مہنگائی کے بے رحم طوفان تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں کئی گنا اضافہ عوام پر ایک اور ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ متوسط طبقہ اور تنخواہ دار طبقہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کا مسلسل نشانہ بن رہا ہے۔

نصراللہ رندھاوا نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس سالانہ بنیادوں پر وصول کرنے کے بجائے لائف ٹائم کیا جائے، جیسا کہ کئی دیگر شعبوں میں عوام کو سہولت دینے کے لیے آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی محصولات میں اضافہ چاہتی ہے تو اسے ٹیکس چوری کرنے والے بڑے طبقات، لگژری مراعات سے فائدہ اٹھانے والوں اور غیر دستاویزی معیشت کے بڑے کھلاڑیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے، نہ کہ ایک ایسی گاڑی رکھنے والے شہری کو سزا دی جائے جو پہلے ہی متعدد اقسام کے ٹیکس ادا کر رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے خبردار کیا کہ عوام کی قوتِ برداشت جواب دے رہی ہے۔ حکومت نے فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو جماعت اسلامی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور آئینی فورم پر بھرپور آواز اٹھائے گی۔