شاندار سفارتی پروٹوکول کے ساتھ استقبال— اجمل خان

ایران میں پاکستانی وفود کا ہمیشہ نہایت گرمجوشی اور شاندار سفارتی پروٹوکول کے ساتھ استقبال کیا جاتا ہے۔ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات انتہائی مستحکم اور برادرانہ ہیں۔حالیہ مہینوں میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے دوروں کا تبادلہ ہوا ہے:وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ: جولائی میں، وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی وفد (جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر شامل تھے) کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا۔ ایرانی قیادت نے اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی شرکت اور یکجہتی کو بہت سراہا۔ایرانی وفود کا استقبال: اس سے قبل اپریل میں، ایرانی وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ کے سپیکر پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچا تھا، جہاں نائب وزیر اعظم اور آرمی چیف نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا۔پاکستان اور ایران کے مابین سکیورٹی، دوطرفہ تجارت، اور خطے میں امن کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ مسلسل جاری رہا تہران میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب کے دوران پاکستانی وفد کے استقبال پر ایک خاص قرآنی آیت کی تلاوت کی گئی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، جب وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد ایران کے گرینڈ مصلّٰی میں میت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے داخل ہوا، تو ایرانی قاری نے سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 80 کی تلاوت کی:رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا”اے میرے رب! مجھے جہاں بھی لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال، اور اپنی طرف سے ایک مددگار قوت (اقتدار) میرے لیے مقرر فرما دے۔”اس تلاوت کی خاص بات:سفارتی پیغام: بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران نے اس جنازے کے موقع پر پبلک ڈپلومیسی (عوامی سفارت کاری) کا ایک انوکھا انداز اپنایا تھا۔ وہاں آنے والے ہر ملک کے وفد کے لیے الگ اور مخصوص قرآنی آیات کا انتخاب کیا گیا تھا۔پاک-ایران تعلقات کا عکس: پاکستان کے لیے اس آیت کا انتخاب دونوں ممالک کے درمیان مخلصانہ تعلقات، موجودہ سکیورٹی صورتحال میں الٰہی مدد اور ایک دوسرے کے لیے مضبوط سہارا بننے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔(اس کے برعکس، دیگر ممالک جیسے سعودی عرب کے وفد کے سامنے جنگِ بدر سے متعلق اور بھارت کے وفد کے سامنے دباؤ میں ثابت قدم رہنے سے متعلق آیات پڑھی گئیں، جس پر اس وقت عالمی میڈیا میں کافی بحث چل رہی ہے تعزیتی تقریب کے دوران پبلک ڈپلومیسی (عوامی سفارت کاری) کا ایک انتہائی غیر معمولی اور چونکا دینے والا انداز دیکھنے کو ملا۔ ایرانی منتظمین اور بین الاقوامی شہرت یافتہ قاریوں نے ہر ملک کے وفد کی آمد پر الگ اور مخصوص قرآنی آیات کی تلاوت کی، جنہیں عالمی میڈیا اور سیاسی تجزیہ کار محض مذہبی تلاوت نہیں بلکہ تہران کی جانب سے اتحادیوں اور حریفوں کو دیے گئے واضح سیاسی، سفارتی اور تزویراتی (strategic) پیغامات قرار دے رہے ہیں۔مختلف ممالک کے وفود کے لیے منتخب کردہ آیات اور ان کے پیچھے چھپے سیاسی پیغامات کی تفصیل درج ذیل ہے:1۔ سعودی عرب کا وفد (سخت ترین سفارتی پیغام)تلاوت کردہ آیت: سورہ آل عمران کی آیت نمبر 13۔ اس آیت میں غزوہ بدر کا تذکرہ ہے جس میں دو لشکروں کے آمنے سامنے آنے کا ذکر ہے؛ ایک لشکر اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا کافروں (منکرین) کا تھا۔سیاسی پیغام: تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تلاوت سعودی عرب کے لیے ایک تیکھا طنز یا تنبیہ تھی۔ سعودی عرب کے امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ گہرے دفاعی تعلقات ہیں۔ اس آیت کے ذریعے ایران نے خود کو “حق اور خدا کی مدد پانے والا لشکر” جبکہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں (بشمول بالواسطہ طور پر سعودی عرب کے موقف) کو دوسرے کیمپ میں دکھانے کی کوشش کی۔2۔ ترکیہ کا وفد (نیم دلی پر تنقید)تلاوت کردہ آیت: سورہ النساء کی وہ آیات جن میں جہاد کرنے والوں کو گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دی گئی ہے۔سیاسی پیغام: ترکیہ اگرچہ غزہ اور فلسطین کے حق میں سخت بیانات دیتا رہا ہے، لیکن ایران کے نزدیک ترکیہ نے عملی طور پر کوئی بڑی عسکری یا معاشی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مکمل طور پر ختم کیا۔ اس آیت کے ذریعے ترکیہ کو پیغام دیا گیا کہ محض باتیں کرنے والے اور “پیچھے بیٹھنے والے” وہ مقام حاصل نہیں کر سکتے جو فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کا ہے۔3۔ حماس اور فلسطینی وفد (شہادت اور ثابت قدمی کا اعتراف)تلاوت کردہ آیت: سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 23: “مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے کچھ اپنی نذر پوری کر چکے (شہید ہو گئے) اور کچھ انتظار میں ہیں…”سیاسی پیغام: یہ حماس کی قیادت اور جنگجوؤں کو خراجِ تحسین تھا۔ ایران نے اس آیت کے ذریعے پیغام دیا کہ وہ حماس کو ایک سچا اور مخلص اتحادی مانتا ہے جس نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر بھی پیٹھ نہیں دکھائی。4۔ حزب اللہ (لبنان) اور یمن کے حوثی وفود (حوصلہ افزائی اور برابری کا درجہ)حزب اللہ کے لیے آیت: سورہ آل عمران کی آیت: “اور تم کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو”۔یمن کے حوثیوں کے لیے آیت: وہ قرآنی آیات جن میں مومنوں کی تعریف ہے کہ انہوں نے لڑائی کے دوران کسی قسم کی کمزوری یا بزدلی کا مظاہرہ نہیں کیا۔سیاسی پیغام: ان دونوں گروہوں کو ایران کی “محورِ مزاحمت” (Axis of Resistance) کا سب سے مضبوط بازو قرار دیا گیا۔ تہران نے ان آیات سے واضح کیا کہ وہ ان کی عسکری کارروائیوں سے مکمل مطمئن ہے اور انہیں مستقبل میں بھی اپنی مکمل پشت پناہی کا یقین دلاتا ہے۔5۔ افغان طالبان کا وفد (حیران کن فتح کا پیغام)تلاوت کردہ آیت: سورہ الفتح کی ابتدائی آیات: “بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح عطا فرمائی”۔سیاسی پیغام: طالبان کی جانب سے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور کابل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کو ایران نے ایک “کھلی فتح” کے طور پر تسلیم کیا۔ یہ تلاوت اس بات کا اشارہ تھی کہ ایران خطے میں امریکہ مخالف قوتوں کی کامیابی کو سراہتا ہے۔6۔ لبنان کی سرکاری حکومت کا وفد (قربانی سے فرار کا طعنہ)تلاوت کردہ آیت: وہ آیات جن میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو قربانی دینے یا مشکل وقت میں آگے بڑھنے سے انکار کرتے ہیں۔سیاسی پیغام: لبنان کی باقاعدہ حکومت پر ایران کا یہ دیرینہ گلہ رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کی طرح مغربی طاقتوں کے خلاف کھل کر کھڑی نہیں ہوتی۔ اس آیت کے ذریعے لبنانی حکومتی عہدیداروں کو ان کی مبینہ “سیاسی کمزوری” کا احساس دلایا گیا۔عالمی میڈیا کا ردِعمل:میڈیا نیٹ ورکس (جیسے Middle East Eye اور Iran International) کے مطابق، ایران نے اس جنازے کو روایتی سوگ کے بجائے ایک فاتح کے طور پر اپنی سفارتی طاقت دکھانے کے لیے استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے وفد کے سامنے پڑھی جانے والی آیت پر اب بھی شدید بحث جاری ہے، جہاں اسے ایران کی روایتی نظریاتی اور سیاسی برتری کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تہران میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے جنازے کے موقع پر پاکستانی وفد کے سامنے سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 80 کی تلاوت کی گئی تھی۔ سفارتی اور دفاعی ماہرین کے مطابق، موجودہ نازک علاقائی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اس مخصوص آیت کا انتخاب گہرے تزویراتی (strategic) پیغامات کا حامل ہے:1۔ سکیورٹی شراکت داری اور “مددگار قوت” کا پیغامآیت کا متن: “اور میرے لیے اپنی طرف سے ایک مددگار قوت (سلطانًا نصیرًا) مقرر فرما دے۔”سیاسی مطلب: ایران اس وقت خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شدید سکیورٹی تناؤ اور جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ اس آیت کے ذریعے ایران نے پاکستان کو ایک ایسے مخلص اور مضبوط پڑوسی کے طور پر پکارا ہے جس کی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ ایران نے پاکستان سے بالواسطہ یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ مشکل گھڑی میں اس کا سکیورٹی پارٹنر یا مددگار بنے۔2۔ پاکستان کی سکیورٹی اور سفارتی پوزیشن کی توثیقآیت کا متن: “مجھے جہاں بھی لے جا سچائی (عزت) کے ساتھ لے جا اور جہاں سے نکال سچائی کے ساتھ نکال۔”سیاسی مطلب: ایران نے پاکستان کے سفارتی کردار کو “سچا اور مخلصانہ” (Truthful/Legitimate) تسلیم کیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تہران و واشنگٹن کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تلاوت اس بات کا اعتراف تھی کہ پاکستان خطے میں کسی دوسرے کیمپ کا حصہ بنے بغیر، ایران کے ساتھ اپنی دوستی میں مخلص رہا ہے۔3۔ سکیورٹی صورتحال پر اس کے براہِ راست اثرات:موجودہ حالات میں اس پبلک ڈپلومیسی کے پاک-ایران تعلقات پر درج ذیل گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں:دفاعی اور عسکری یکجہتی: وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تہران میں موجودگی اور ایران کی طرف سے اس تلاوت نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے مابین خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی اداروں کی سطح پر کوآرڈینیشن مزید مضبوط ہو رہی ہے۔بارڈر سکیورٹی اور دہشت گردی کا خاتمہ: دونوں ممالک کے مابین ماضی میں سرحدی سکیورٹی اور عسکریت پسند گروپوں (جیسے جیش العدل وغیرہ) کے حوالے سے غلط فہمیاں رہی ہیں۔ اس آیت کا انتخاب یہ پیغام دیتا ہے کہ ایران اب پاکستان کے ساتھ مل کر سرحدوں کو محفوظ بنانے اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے لیے “سچے دل” سے تیار ہے۔علاقائی دباؤ سے آزادی: جہاں بھارت کے وفد کو دباؤ میں ثابت قدم رہنے (صبر) کی آیت سنائی گئی (جو کہ ان کے گرتے ہوئے تعلقات یا مغربی دباؤ کی طرف اشارہ تھا)، وہیں پاکستان کے لیے “مددگار قوت اور عزت کی آمد و رفت” کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ ایران پاکستان کو خطے کا ایک انتہائی معتبر اور مضبوط ستون سمجھتا ہے۔خلاصہ یہ کہ ایران نے اس تلاوت کے ذریعے پاکستان کو اپنے حریفوں (جیسے سعودی عرب یا لبنانی حکومت) کی فہرست میں رکھنے کے بجائے ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی اتحادی کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔