اگر کچھ معاف کرنا ہے تو کفن معاف کیجیے!
باعثِ افتخار: انجینئر افتخار چودھری
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
“إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ…”
“بے شک اللہ انصاف، احسان اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔” (سورۃ النحل: 90)
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
“وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ”
“نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔” (سورۃ المائدہ: 2)
اسلام صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ انسانیت، خدمت، رحم اور معاشرتی ذمہ داری کا بھی دین ہے۔ ایک اسلامی معاشرے کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس کی عمارتیں کتنی بلند ہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کا کمزور شہری کتنا محفوظ، باوقار اور مطمئن ہے۔
ریاست کی ذمہ داری صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے دکھ درد کو محسوس کرنا بھی ہے۔ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو وہ صرف علاج نہیں ڈھونڈ رہا ہوتا بلکہ امید بھی تلاش کر رہا ہوتا ہے، اور جب کسی گھر میں موت آتی ہے تو اس خاندان کو سب سے زیادہ ضرورت ہمدردی، سہولت اور عزت کی ہوتی ہے۔
آج دنیا کے مختلف خطوں میں عوامی فلاح کے مختلف ماڈل سامنے آ رہے ہیں۔ کہیں غریبوں کے لیے علاج آسان بنایا جا رہا ہے، کہیں بجلی کے صارفین کو ریلیف دیا جا رہا ہے، کہیں تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، اور کہیں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد غم زدہ خاندانوں کا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔ ان اقدامات سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، لیکن ایک بات ضرور سیکھنے کی ہے کہ حکومتوں کا اصل امتحان عوام کو ریلیف دینے میں ہوتا ہے۔
ہمیں بھی اسی سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔ میرا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کو اپنے ہمسایوں سے نفرت میں نہیں بلکہ اچھائی، خدمت، تعلیم، صحت، انصاف اور عوامی فلاح میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اچھا کام کہیں ہو رہا ہے تو اس سے سبق لینے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔
مجھے آج بھی 1990ء کا وہ غم بھلائے نہیں بھولتا جب میرے والد محترم لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں آپریشن کے دوران اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اس صدمے نے ہمارے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس دن مجھے شدت سے احساس ہوا کہ جب ایک خاندان اپنے عزیز کو کھو دیتا ہے تو اسے سب سے زیادہ ضرورت ہمدردی اور آسانی کی ہوتی ہے، نہ کہ مزید پریشانی کی۔
پاکستان میں ہزاروں ڈاکٹر اور نرسیں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر مریضوں کی خدمت کرتے ہیں، اور ان کی خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے صحت کے نظام میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن سے عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
اسلامی مفکر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے تفہیم القرآن میں بارہا لکھا کہ اسلامی حکومت کا مقصد صرف نظم و نسق چلانا نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں عدل، رحمت اور فلاحِ عامہ ہر فیصلے کی بنیاد ہوں۔ ریاست کو کمزور، یتیم، بیمار اور محتاج انسان کا سہارا بننا چاہیے۔
حضرت عمر بن خطابؓ کا طرزِ حکمرانی بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان کے نزدیک حکمران کی اصل ذمہ داری عوام کے بنیادی حقوق کی حفاظت تھی۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے اسلامی تاریخ میں انصاف کی روشن مثالیں قائم کیں۔
آج میں وزیراعلیٰ پنجاب پاکستان سے نہایت ادب، احترام اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں۔
جنابِ وزیراعلیٰ!
ہم سنتے ہیں کہ ہمارے خطے کے مختلف حصوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کہیں بجلی کے صارفین کو سینکڑوں یونٹ تک رعایت دی جا رہی ہے، کہیں علاج کے اخراجات کم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اور کہیں غم زدہ خاندانوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔
میری آپ سے ایک عاجزانہ درخواست ہے۔
اگر آج کے معاشی حالات میں ہر شعبے میں فوری ریلیف دینا ممکن نہیں، تو کم از کم پنجاب میں “مفت کفن اسکیم” شروع کر دیجیے۔
ایسا نظام قائم کیجیے کہ پنجاب کے کسی غریب باپ کو اپنے جوان بیٹے کے کفن کے لیے قرض نہ لینا پڑے، کسی مزدور کو اپنے والدین کی تدفین کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے، اور کوئی بیوہ صرف اس لیے پریشان نہ ہو کہ اس کے پاس کفن خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔
ہر ضلع، ہر تحصیل، ہر سرکاری ہسپتال اور ہر میونسپل ادارے میں “کفن بینک” قائم کیا جائے، جہاں مستحق خاندانوں کو عزت، احترام اور رازداری کے ساتھ بلا معاوضہ کفن فراہم کیا جائے۔ اس کام میں مخیر حضرات، اوقاف، زکوٰۃ فنڈ اور سماجی تنظیموں کو بھی شریک کیا جا سکتا ہے تاکہ یہ منصوبہ مستقل بنیادوں پر چل سکے۔
یقین جانیے، یہ منصوبہ شاید اربوں روپے کا نہ ہو، مگر اس کی اخلاقی قیمت بے حساب ہوگی۔ ایک غریب کی دعا، ایک یتیم کی آنکھ سے بہنے والا شکر کا آنسو، اور ایک بے سہارا خاندان کی آسانی کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہوتی ہے۔
ریاست کی کامیابی صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس سے ناپی جاتی ہے کہ اس نے اپنے کمزور ترین شہری کے لیے کیا کیا۔ اگر ایک حکومت اپنے شہری کو زندگی میں علاج اور موت کے بعد باوقار تدفین کا احساس دے دے تو اس سے بڑی فلاحی خدمت شاید ہی کوئی اور ہو۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، خوشحالی اور عدل کا گہوارہ بنائے، ہمارے حکمرانوں کو خدمتِ خلق کا جذبہ عطا فرمائے، اور ہمیں ایسی سیاست نصیب کرے جس میں مقابلہ نفرت کا نہیں بلکہ انسانیت، دیانت، تعلیم، صحت اور عوامی خدمت کا ہو۔
کیونکہ قومیں تقریروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں، اور حکومتیں طاقت سے نہیں بلکہ عوام کی دعاؤں سے مضبوط ہوتی ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
