فلمیں اکثر محض تفریح کا ذریعہ ہوتی ہیں، لیکن کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو تفریح کے خول سے نکل کر انسان کے اندر چھپے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ “ستلج” ایک ایسی ہی فلم ہے، جو 1984 کے دردناک واقعات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ صرف ایک فلم نہیں، بلکہ انسانیت کے زوال کی ایک ایسی دستاویز ہے جسے دیکھ کر پتھر دل انسان بھی موم ہو جائے اور آنکھیں اشکبار ہو جائیں۔ جب ہم اس فلم میں دکھائے گئے ظلم، بربریت اور انسان کو انسان کے ہاتھوں مٹتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو دل کا ٹوٹنا فطری عمل ہے۔ ایک ایسا دکھ جو زبان سے بیان نہیں ہوتا، بلکہ روح کی گہرائیوں میں اتر کر ایک ایسا زخم بن جاتا ہے جو برسوں نہیں بھرتا۔
سوال یہ نہیں کہ یہ ظلم کس نے کیا اور کس پر کیا، سوال یہ ہے کہ ظلم کی آگ آخر کس لیے لگائی گئی؟ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں اور خاص طور پر 1984 کے فسادات کو دیکھتے ہیں، تو ایک ہی بات سامنے آتی ہے: ظالم کی کوئی ذات، کوئی مذہب اور کوئی ملک نہیں ہوتا۔ ظالم صرف ظالم ہوتا ہے۔ جب انسان انسانیت کا دامن چھوڑ کر درندگی پر اتر آتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کی صف سے خود ہی خارج کر دیتا ہے۔ اس فلم میں جو مناظر دکھائے گئے، جہاں لاشوں کی بے حرمتی کی انتہا کر دی گئی—ان کے ٹکڑے کرنا، انہیں نالیوں میں بہانا—یہ محض جسمانی تشدد نہیں، بلکہ انسانی اقدار کا اجتماعی قتل ہے۔
آج جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ تاریخ وہی سبق دہرا رہی ہے جس سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ چاہے وہ ڈی چوک کے دلخراش مناظر ہوں یا راول کوٹ میں ہونے والے واقعات، ہر جگہ خون وہی ہے اور درد بھی وہی ہے۔ آخر کیوں ہم نہیں سمجھتے؟ کیوں ہر دور میں انسان اسی طرح اپنے ہی بھائیوں کا لہو بہانے پر تلا رہتا ہے؟ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ “خدا کے لیے یہ فلم دیکھو”، تو اس کا مقصد تفریح نہیں، بلکہ آئینہ دکھانا ہے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ طاقت کے نشے میں اندھے ہو کر انسان کیا کچھ کر گزرتا ہے اور آخر میں کیا پاتا ہے۔
یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ ظلم کا بدلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں تو حسابِ بے باک ہونا ہی ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ طاقت کے زور پر کیے گئے مظالم کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ فرعونیت چاہے کسی بھی دور میں ہو، اس کا انجام ہمیشہ عبرتناک ہی رہا ہے۔ جو لوگ آج کسی کی چیخوں پر ہنس رہے ہیں، جو آج کسی کے گھروں کو ویران کر رہے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کائنات کا ایک خالق ہے جو سب دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نظامِ عدل اتنا وسیع ہے کہ ایک چیونٹی کے حقوق کا بھی حساب لیا جاتا ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسانوں کے بہتے ہوئے خون اور ان کی آہ و فغاں کو وہ نظر انداز کر دے؟
ظلم کرنے والوں کی تاریخ پڑھ لیں، ان کا انجام ہمیشہ ذلت اور رسوائی ہی ہوتا ہے۔ کبھی وہ گمنامی کے اندھیروں میں کھو جاتے ہیں، اور کبھی دنیا کی عدالتیں انہیں کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہیں۔ اس فلم میں دکھایا گیا وہ سردار جس کا کرب دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، وہ صرف ایک فرد کا دکھ نہیں، وہ ایک پوری قوم کی داستان ہے۔ اینکر کے سوالات اور ان کے جوابات میں چھپا ہوا کرب اس بات کا ثبوت ہے کہ زخموں کو بھرنے کے لیے صدیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ جب ہم سنتے ہیں کہ کیسے لاشوں کے ٹکڑے کیے گئے، تو انسان کو اپنی انسانیت پر شرمندگی ہونے لگتی ہے۔ یہ بربریت کیا آج ختم ہو گئی ہے؟ کیا ڈی چوک اور راولا کوٹ جیسے مقامات اسی وحشت کا تسلسل نہیں؟
مذہب، ذات پات، رنگ و نسل—یہ سب شناختیں تو اللہ نے پہچان کے لیے بنائی تھیں، نہ کہ ایک دوسرے کو مٹانے کے لیے۔ جو شخص ظلم کرتا ہے، وہ دراصل اپنے وجود کی بھی توہین کر رہا ہوتا ہے۔ دنیا کا کون سا ضابطہ یہ کہتا ہے کہ بے گناہوں کو کچلا جائے؟ کوئی بھی نہیں۔ ظلم کی بنیاد نفرت پر ہوتی ہے، اور نفرت کی بنیاد جہالت پر۔ جب تک ہم دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ نہیں سمجھیں گے، یہ ستلج کا پانی ہمیشہ خون آلود رہے گا۔
آج کے دور میں جب ہم سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور فلمیں دیکھتے ہیں، تو ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟ کیا ہم بھی نفرت کا جواب نفرت سے دیں؟ نہیں، اس فلم سے ہمیں یہ سبق ملنا چاہیے کہ ہمیں “انسان” بننا ہے۔ ہمیں ان تمام ظالمانہ رویوں کی مذمت کرنی چاہیے جو معاشرے میں تفریق اور خونریزی پیدا کرتے ہیں۔ ہمیں اس سوچ کو پروان چڑھانا ہے جہاں کسی بھی جگہ، کسی بھی واقعے میں جب ظلم ہو تو ہم سب مل کر اس کے خلاف کھڑے ہوں۔ ظلم کے خلاف خاموشی، ظلم کو شہ دینے کے مترادف ہے۔
جو لوگ تاریخ کے ان خونریز بابوں میں ملوث تھے، ان میں سے کتنے لوگ آج سکون سے جی رہے ہیں؟ ظلم کا داغ کبھی نہیں دھلتا۔ یہ روح پر ایک ایسا داغ ہوتا ہے جو انسان کو اندر ہی اندر کھاتا رہتا ہے۔ آخرت میں تو ان کے ساتھ جو حشر ہوگا وہ تو اللہ بہتر جانتا ہے، لیکن دنیا میں بھی وہ خود اپنے ضمیر کے قیدی بن چکے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ انسانیت کا احترام سب سے مقدم ہے۔ ہمیں ان کو یہ بتانا ہوگا کہ تاریخ میں جو کچھ ہوا، وہ غلط تھا، اور آج جو ہو رہا ہے، وہ بھی غلط ہے۔
آئیے اس فلم کے درد کو محض ایک فلم تک محدود نہ رکھیں۔ اسے ایک سبق بنائیں۔ جب بھی کوئی ظالم کسی کمزور پر ہاتھ اٹھائے، جب بھی کوئی فرقہ واریت یا سیاسی انتقام کی آگ بھڑکائے، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ہمیں امن کا سفیر بننا ہے۔ ہمیں محبت کا پرچار کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اللہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ ہم سجدے کیسے کرتے ہیں، بلکہ اللہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ سلوک کیسا کرتے ہیں۔
آخر میں، ان تمام روحوں کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے جو اس ظالمانہ دور میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، چاہے وہ 1984 کے فسادات ہوں یا آج کے پرآشوب حالات۔ اور ان لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا ہے جو آج بھی نفرت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ یاد رکھیں، جو آج ظالم ہے، کل وہ مظلوم بن سکتا ہے۔ دنیا کی چکی بہت تیزی سے گھومتی ہے۔ آج جو آپ بو رہے ہیں، کل وہی کاٹیں گے۔ اللہ ہم سب کو انسانیت کی خدمت کرنے اور ظلم سے باز رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں ایسے معاشرے کی تشکیل کرنی ہے جہاں کسی “ستلج” کو خون سے نہ نہانا پڑے، جہاں کسی ماں کا بیٹا اس طرح جدا نہ ہو، اور جہاں انسان، انسان کے لیے امن کا گہوارہ بن جائے۔ ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، آخر کار اسے صبح کے اجالے میں مٹنا ہی ہوتا ہے، اور انصاف کا سورج طلوع ہو کر ہی رہتا ہے، چاہے وہ دنیا میں ہو یا عدالتِ الہیٰ میں۔
